Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / بنگال کے بھانگر گاؤں میں فائرنگ سے 2 افراد کی موت کے بعد کشیدگی

بنگال کے بھانگر گاؤں میں فائرنگ سے 2 افراد کی موت کے بعد کشیدگی

برقی پراجکٹ کیلئے جبراً زمینات چھین لینے کے خلاف دیہاتیوں کا احتجاج

کولکتہ 18 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) مغربی بنگال میں جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے بھانگر گاؤں میں غیر مقامی گروپ اور دیہاتیوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلہ میں ایک شخص کی ہلاکت کے ایک دن بعد آج اضطراب آمیز سکون پایا گیا جبکہ چیف منسٹر ممتا بنرجی نے اعلیٰ پولیس عہدیداروں کے ساتھ صورتحال پر جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ کل کی فائرنگ دوسرے شخص کی موت کی غیر مصدقہ اطلاع کے دوران دیہاتیوں نے آج سڑک پر درخت کاٹ کر ڈال دینے اور اینٹیں پھیلاتے ہوئے رکاوٹیں کھڑی کردیں۔ دریں اثناء ایک سینئر پولیس عہدیدار نے بتایا کہ آج صبح احتجاجی دیہاتیوں نے ایک پولیس آؤٹ پوسٹ پر املاک کو نقصان پہنچایا اور ایک موٹر سیکل نذر آتش کردی۔ انھوں نے بتایا کہ اگرچیکہ سکیوریٹی فورسیس کو متاثرہ گاؤں سے ہٹالیا گیا ہے لیکن صورتحال پر سخت نگرانی رکھی گئی ہے۔ چیف منسٹر ممتا بنرجی نے پرتشدد واقعات اور کشیدہ صورتحال پر اعلیٰ پولیس عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا جس میں ڈائرکٹر جنرل پولیس سراجیت پراکیاستا بھی شریک تھے۔

علاقہ بھانگر میں کل کی فائرنگ میں ایک شخص ہلاک اور دوسرا زخمی ہوگیا تھا۔ تاہم دیہاتیوں کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے احتجاجیوں پر اچانک فائرنگ کردی جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاجیوں کے دوگروپس میں فائرنگ کے باعث ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس (لاء اینڈ آرڈر) انجو شرما نے بتایا کہ پولیس نے کوئی فائرنگ نہیں کی اور ایک بھی گولی نہیں چلائی گئی۔ فائرنگ کے واقعہ میں دوسرے شخص کی موت کی سرکاری ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔ ریاستی وزیر توانائی شوبھن دیب چٹواپادھیائے سے ربط قائم کرنے پر بتایا کہ صورتحال معمول پر آنے کے بعد احتجاجی دیہاتیوں اور کسانوں سے مشاورت کی جائے گی۔ انھوں نے بتایا کہ فی الحال بھانگر میں صورتحال قابو میں ہے اور آج کہیں سے بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ہے۔ دریں اثناء مغربی بنگال کے جنوبی 24پرگنہ کے بھانگر میں پاور پلانٹ کے خلاف احتجاج کررہے مظاہرین پر پولس فائرنگ میں موت اور جبراً حصول اراضی کی مذمت کرتے ہوئے سی پی آئی ایم نے آج کہا ہے کہ ممتا بنرجی کی حکومت اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعہ حل کریں ۔خیال رہے کہ بھانگر میں پاور پلانٹ کیلئے زراعتی زمین کو تحویل میں لیے جانے کے خلاف احتجاج کے دوران کل پولس فائرنگ کی موت ایک شخص کی موت ہوگئی تھی اور ایک شخص شدید زخمی ہوگیا تھا ۔بھانگر جہاں تشدد کی ایک پوری تاریخ ہے ۔میں جبراً 16ایکڑ زمین تحویل میں لیے جانے کے خلاف احتجاج گزشتہ ایک ہفتے سے چل رہا ہے ۔سی پی ایم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سی پی ایم کی پولٹ بیورو جنوبی 24پرگنہ کے بھانگر میں پولس فائرنگ کی شدید مذمت کرتی ہے ۔

سی پی ایم نے دعویٰ کیا ہے کہ دو افراد کی موت ہوگئی ہے ۔جب کہ بنگال حکومت کا دعویٰ ہے کہ صرف ایک موت ہوئی ہے ۔سی پی ایم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ترنمول کانگریس حکومت مظاہرین کو طاقت کے ذریعہ ختم کرنے کے بجائے مظاہرین سے بات چیت کرکے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔جبراً لوگوں سے زمین نہیں چھینا چاہیے ۔دوسری جانب بنگال بی جے پی کے صدر دلیپ گھوش نے کہا کہ جب سے ترنمول کانگریس اقتدار میں آئی ہے ریاست میں دہشت گردانہ سرگرمیاں اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ صرف بھانگرہی نہیں بلکہ ریاست بھر میں تشدد و دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور ان سب کیلئے ترنمول کانگریس کا رویہ ذمہ دار ہے ۔میرے خیال سے حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں ۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے گھوش نے کہا کہ ہم اس معاملے کی عدالتی جانچ کا مطالبہ کرتے ہیں اور جنوبی 24پرگنہ کے ڈاکٹر پی بی سلیم کو برطرف کیا جائے ۔اس درمیان اس پورے علاقے آر اے ایف کے جوانوں کو بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا ۔پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ را کے تحت جر ہاٹ 400/220کے وی گیس انسولیٹڈسب اسٹیشن تعمیر کررہی ہے ۔ یہ953کلو میٹر ہائی وولٹیج ٹرانس میلیشن لائن ہے ۔مغربی بنگال کے فرکا سے بہار کے کہاگاؤں تک سپلائی کی جائے گی۔اس پروجیکٹ کیلئے 16ایکڑ زراعتی زمین جبراً لینے کے خلاف کمرہٹی، ماچھی، بھنگا ، ٹونا اور پدما پوکھر کے رہنے والے احتجاج کررہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT