Tuesday , October 24 2017
Home / Top Stories / بنگلورو میں گارمنٹ ورکرس کا اچانک پرتشدد احتجاج

بنگلورو میں گارمنٹ ورکرس کا اچانک پرتشدد احتجاج

BENGALURU, APR 19 (UNI) :- Garment workers protest caused huge traffic jam in many parts of Bengaluru City as the protests intensified on the 2nd day as many vehicles were burnt by the protestors and many protestors were injured by the police as the protests turned violent on Hosur Road, Mysuru Road, Jalahalli and many other parts of Bengaluru, in Bengaluru on Tuesday. UNI PHOTO-141U

بسیں نذرآتش ، پولیس اسٹیشن پر حملہ ، مرکزی حکومت نے پراویڈنٹ فنڈ کا متنازعہ حکم نامہ منسوخ کردیا

بنگلورو۔19 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) نئے پراویڈنٹ فنڈ قواعد کے خلاف گارمنٹ (ملبوسات) ورکرس کا احتجاج آج اچانک پرتشدد شکل اختیار کرگیا جس میں کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی اور ایک پولیس اسٹیشن پر بھی حملہ کیا گیا۔ آخر کار حکومت کو پراویڈنٹ فنڈ قواعد میں کی گئی ترمیم منسوخ کرنے کیلئے مجبور ہونا پڑا۔ یہ احتجاج اچانک اور بغیر کسی اعلان کے کیا گیا تھا اور کوئی ٹریڈ یونین اس کی قیادت نہیں کررہی تھی۔ دوسرے دن احتجاجیوں نے سڑکوں پر نکل کر تشدد کی راہ اختیار کی اور صورتِ حال بے قابو ہوگئی۔ احتجاجیوں نے ہباگوڈی پولیس اسٹیشن پر سنگباری کی اور یہاں توڑ پھوڑ بھی کی۔ اس کے علاوہ یہاں ٹھہری ہوئی کئی گاڑیوں کو آگ لگادی۔ شہر کے مختلف علاقوں بالخصوص آئی ٹی مرکز الیکٹرانک سٹی کے قریب ہباگوڈی سے ہزاروں کی تعداد میں ورکرس سڑکوں پر نکل آئے۔ پولیس نے بتایا کہ احتجاجیوں کو منتشر کرنے اسے لاٹھی چارج اور آنسو گیاس کے شیل استعمال کرنے کیلئے مجبور ہونا پڑا۔ ایڈیشنل کمشنر پولیس (ایسٹ بنگلورو سٹی) ہری شیکھرن نے اس مقام کا دورہ کیا اور کہا کہ آج پیش آئے واقعہ کے سلسلے میں تقریباً 25 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ تقریباً 25 پولیس اہلکار بشمول ایک اسسٹنٹ کمشنر پولیس زخمی ہوئے اور دواخانہ میں ان کا علاج جاری ہے۔ کرناٹک اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی دو اور بنگلورو میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی ایک بس کو نذرآتش کیا گیا۔ یہ احتجاج کل شروع ہوا تھا اور اُس وقت پولیس نے گارمنٹ ورکرس کو جو سنگباری کررہے تھے، قابو میں کرنے کیلئے ہلکا لاٹھی چارج کیا تھا۔ اس واقعہ میں 4 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔ گارمنٹ ورکرس ایمپلائیز پراویڈنٹ فنڈ اور متفرقات قانون ترمیم کی مخالفت کررہے ہیں۔

انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اس قاعدہ کے نتیجہ میں پراویڈنٹ فنڈ میں آجر کے حصہ کا اُن کا حق 58 سال کی عمر کو پہونچنے تک ختم ہوجائے گا۔ اس احتجاج کے پس منظر میں  حکومت نے پراویڈنٹ فنڈ کی رقم منہا کرنے کے سلسلے میں جاری کردہ سخت قواعد کو آج منسوخ کردیا ہے۔ مرکزی وزیر لیبر بنڈارو دتاتریہ نے حیدرآباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 10 فروری 2016ء کو جاری کردہ اعلامیہ منسوخ کیا جاتا ہے اور اب پرانا سسٹم برقرار رہے گا۔ قبل ازیں انہوں نے آج صبح نئی دہلی میں کہا تھا کہ اس نئے اعلامیہ کو تین ماہ یعنی 31 جولائی 2016ء کو معرض التواء رکھا جائے گا اور اس دوران تمام فریقین سے بات چیت کی جائے گی۔ آج احتجاج کے باعث شہر میں کئی مقامات پر ٹریفک جام رہی اور بالخصوص ہسور روڈ پر جو الیکٹرانک سٹی کی جانب جاتی ہے اور ٹمکور روڈ پر ٹریفک نظام درہم برہم ہوگیا جہاں گارمنٹ یونٹس کی کافی تعداد پائی جاتی ہے۔ بنگلورو میں ایک اندازہ کے مطابق 12 لاکھ سے زائد گارمنٹ فیکٹری ورکرس ہیں۔ وزیر داخلہ کرناٹک جی پرمیشورا نے کہا کہ پولیس نے احتجاج کے دوران کافی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور صرف اپنے دفاع کیلئے ہوائی فائرنگ کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ کل اچانک شروع ہوا ،اگرچہ انٹلیجنس ونگ نے اس بارے میں اطلاع دی تھی لیکن ہمیں توقع نہیں تھی کہ احتجاج اس قدر شدید ہوگا۔ چونکہ احتجاجیوں میں خواتین کی زیادہ تعداد تھی ، ہم زیادہ سختی نہیں کرسکتے تھے۔ وزیر داخلہ نے عوامی املاک کو نقصان پہونچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔ شہر میں پولیس کی 52 پلاٹونس تعینات کی گئیں ۔ تشدد اور سنگ باری میں ایک 18 سالہ کالج طالبہ زخمی ہوگئی اور اس کی حالت خطرہ سے باہر بتائی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT