Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / بنگلورو کے بلدی چناؤ میں بی جے پی کا قبضہ برقرار

بنگلورو کے بلدی چناؤ میں بی جے پی کا قبضہ برقرار

ریاست میں برسراقتدار کانگریس و چیف منسٹر سدارامیا کیلئے جھٹکہ

بنگلورو ، 25 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) ملک بھر میں بلدی چناؤ کے معاملے میں بی جے پی کیلئے اپنی نوعیت کی ایک ہیٹ ٹرک میں پارٹی نے آج اس آئی ٹی سٹی کے بلدی ادارہ کا کنٹرول دوسری میعاد کیلئے حاصل کرلیا جبکہ انتخابات میں کافی تلخی دیکھنے آئی تھی اور یہ نتیجہ چیف منسٹر سدارامیا کیلئے جھٹکہ ثابت ہوا ہے۔ ’’بروہاٹ بنگلورو مہانگر پالیکے‘‘ (بی بی ایم پی) پر کنٹرول حاصل کرنے کیلئے کانگریس کے بھرپور جارحانہ مہم کے ساتھ منصوبوں کو ناکام بناتے ہوئے بی جے پی نے 198 کے منجملہ 100 وارڈز جیت لئے جبکہ 22 اگسٹ کو منعقدہ چناؤ کیلئے اسٹیٹ الیکشن کمیشن کی جانب سے نتائج کا آج اعلان کیا گیا۔ مدھیہ پردیش اور راجستھان میں بلدی اداروں میں اپنی کامیابیوں کے بعد بنگلورو کے نتائج بی جے پی کیلئے لگاتار تیسری جیت ثابت ہوئے ہیں، جو جارحانہ مہم کا بخوبی سامنا کرتے ہوئے حاصل کی گئی ۔ چیف منسٹر سدارامیا نے خود بی بی ایم پی میں بی جے پی حکمرانی کے خلاف مہم چلائی تھی۔ اس ریاست کی برسراقتدار پارٹی کانگریس نے یہ انتخابی لڑائی میں کافی کچھ داؤ پر لگایا تھا اور اس نے 76 وارڈز حاصل کئے۔ بی بی ایم پی عہدیداروں کے مطابق سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا زیرقیادت جے ڈی ایس کو 14 اور دیگر کو 8 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ 254 رکنی کونسل میں 103 کی سادہ اکثریت کے نشان سے اگرچہ کچھ کم ہے لیکن بی جے پی کو توقع ہے جادوئی ہندسہ کے حصول میں آزاد کونسلرز کی تائید مل جائے گی۔  کانگریس نے اس انتخابی لڑائی میں اپنی تمام تر طاقت جھونکتے ہوئے بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے جارحانہ مہم شروع کی تھی۔ بی بی ایم پی کے 198 وارڈس کے لئے الیکشن طویل عدالتی کشاکش کے بعد منعقد ہوا تھا کیوں کہ سدارامیا زیرقیادت حکومت نے اس بلدی ادارہ کو 3 حصوں میں تقسیم کرنے کی بنیادوں پر اسے ملتوی کرنا چاہا تھا۔ ان نتائج کو کانگریس کی توقعات کے برعکس مانتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ ہم نے کانگریس کیلئے سادہ اکثریت کی توقع رکھی تھی۔ انھوں نے کہا کہ یہ نتیجہ میری حکومت کے بارے میں کوئی ریفرینڈم نہیں لیکن چیف منسٹر کے طور پر میں ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ بی جے پی کی جانب سے زبردست جشن کے درمیان مرکزی وزیر اننت کمار نے کہا کہ یہ خط اعتماد ظاہر کرتا ہے کہ سدارامیا اور کانگریس کیلئے الٹی گنتی شروع ہوگئی۔

 

16 مسلم امیدوار منتخب،مجلس کھاتہ نہیں کھول سکی
بروہت بنگلور مہانگر پالیکے (بی بی ایم پی) کیلئے نو منتخب 198 ارکان میں مسلم امیدواروں کی تعداد 16 ہے۔ کانگریس ، جنتا دل (سیکولر) اور سوشیلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) سے تعلق رکھنے والے امیدواروں نے حالیہ منعقدہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے ۔

بنگلور و شہر کی مسلم آبادی کے تناسب سے کارپوریشن میں کم از کم 25 مسلم ارکان ہونے چاہئے تھے۔ کئی مسلم اکثریتی وارڈس میں ہمہ رخی مقابلہ ہونے کی وجہ سے اکثر امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ حکمراں بی جے پی نے تقریباً 100 وارڈس پر کامیابی حاصل کی لیکن ایک بھی مسلم امیدوارنہیں۔ مجلس اتحاد ا لمسلمین نے بی بی ایم پی میں اپنے امیدوار نامزد کرتے ہوئے کرناٹک کی سیاست میں داخلہ لیا تھا لیکن اسے ایک وارڈپر بھی کامیابی نہیں ملی۔

TOPPOPULARRECENT