Monday , July 24 2017
Home / اضلاع کی خبریں / بنگلور میں مدرسہ کے طلباء کی ریلوے اسٹیشنوں پر ہراسانی

بنگلور میں مدرسہ کے طلباء کی ریلوے اسٹیشنوں پر ہراسانی

دستاویزات کی جانچ کے بعد پولیس نے اساتذہ اور طلباء کو جانے دیا
بنگلورو۔12جولائی :(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) گوہاٹی سے بذریعہ ٹرین بنگلور پہنچنے والے مدرسہ کے بچوں کوکل پولیس نے اس شبہ پر پکڑ لیا کہ ان کو اغوا کرکے بنگلور لایا گیا ہے، اور کچھ دیر ان بچوں کو بنگلورکے کے آر پورم اسٹیشن پر ہراساں کیاگیا اور ساتھ ہی اساتذہ کو ملزمین کی طرح پکڑ دھکڑ کرکے ان سے پوچھ تاچھ کی۔ پوچھ تاچھ پر پتہ چلاکہ گوہاٹی سے ان بچوں کو شہر کے ایک مدرسہ میں ایک سالہ تعلیم کیلئے لایا گیا تھا، لیکن کچھ شرپسند ان بچوں کو دیکھتے ہی من گھڑت باتیں بنانے لگے اور یہ شبہ ظاہر کرنے لگے کہ بنگلہ دیش سے ان بچوں کولایا گیا ہے، دیکھتے ہی دیکھتے کنٹونمنٹ ریلوے اسٹیشن اور کے آر پورم ریلوے اسٹیشن میں صورتحال کو مکدر کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم تقریباً 260 بچوں کو روک کر جب تحقیقات کی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ ان تمام بچوں کو شہر کے ایک مدرسہ میں تعلیم کیلئے لایا گیاہے۔ یہ بچے یہاں ایک سالہ کورس کریں گے۔آٹھ اساتذہ ان بچوں کو اپنے ساتھ سخت نگرانی میں لے کر شہر پہنچے تھے، کچھ شرپسندوں کی باتوں میں آکر پولیس نے ان اساتذہ سے اس قدر برا سلوک کیا جیسا کہ اغوا کاروں کے ساتھ کیا جاتاہے، تاہم تحقیقات اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد اڈیشنل کمشنر آف پولیس کرائم ایس روی نے تصدیق کی کہ یہ تمام بچے مدرسہ کے طلبا ہیں اور شہر میں اپنی تعلیم کو آگے بڑھانے پہنچے ہوئے ہیں، ایک سال تک یہ شہر کے ایک مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے آئے ہوئے ہیں۔ آج صبح گیارہ بجے کے آس پاس کرشنا راج پورم ، بیپناہلی اور کنٹونمنٹ ریلوے اسٹیشن میں الگ الگ گروپ بن کر جب ان بچوں کی جماعتیں اساتذہ کے ہمراہ اتریں تو شبہ کی بنیاد پر ریلوے پولیس اور سٹی کرائم برانچ پولیس نے انہیں دھر لیا، جب پوچھ تاچھ کی گئی تو پتہ چلاکہ یہ تمام بچے تعلیم کیلئے گوہاٹی سے بنگلور آئے ہیں، ان بچوں کے اساتذہ نے تمام دستاویزات حکام کو پیش کئے۔ جس کے بعد پولیس نے انہیں جانے دیا۔ مسٹر روی نے بتایاکہ ان تمام بچوں کو جانچ کے بعد اساتذہ کے ہمراہ جانے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بعض حلقوں سے یہ الزامات لگانے کی کوشش کی گئی کہ ان بچوں کو تبدیلی ٔ مذہب یا بھیک منگوانے کیلئے لایا گیا ہوگا، تاہم تحقیقات کے بعد یہ تمام شبہات فرضی ثابت ہوئے جس کے سبب پولیس نے ان بچوں کو اساتذہ کے ہمراہ متعلقہ مدارس جانے دے دیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT