Thursday , August 24 2017
Home / دنیا / بنگلہ دیش میں اطالوی پادری پر حملہ ‘ آئی ایس نے ذمہ داری قبول کی

بنگلہ دیش میں اطالوی پادری پر حملہ ‘ آئی ایس نے ذمہ داری قبول کی

پادری ‘ حالیہ وقتوں میں نشانہ بننے والا تیسرا بیرونی شہری ۔ حملوں کے واقعات میں اضافہ
ڈھاکہ 19 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) آئی ایس نے بنگلہ دیش میں ایک معمر اطالوی پادری پر فائرنگ اور اسے زخمی کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔ بنگلہ دیش میں کسی بیرونی شہری پر آئی ایس کا یہ تیسرا حملہ تھا ۔ 57 سالہ پادری پئیرو پارولاری پر کل نا معلوم موٹر سیکل سواروں نے قریبی فاصلہ سے فائرنگ کردی تھی ۔ یہ پادری اس وقت ایک کیتھولک مشنری دواخانہ کو اپنی سائیکل پر جا رہا تھا ۔ اس دواخانہ میں یہ پادری بحیثیت ڈاکٹر بھی کام کرتا ہے ۔ یہ پادری 35 سال قبل بنگلہ دیش آیا تھا ۔ اسے فائرنگ کے نتیجہ میں گلے اور کھوپڑی میںزخم آئے تھے ۔ یہ دوسرا اطالوی شہری اور تیسرا بیرونی شہری ہے جسے حالیہ ہفتوں میں بنگلہ دیش میں آئی ایس کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے ۔ جہادی نگرانی والی تنظیم ایس آئی ٹی ای نے آئی ایس آئی ایس کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا ہے کہ خلافت سے تعلق رکھنے والے سپاہیوں نے بنگلہ دیش میں بے مثال کارروائی کی ہے اور ایک اطالوی صلیبی بیرونی شہری پئیرو پارولری کو نشانہ بنایا ہے ۔

تنظیم نے رنگ پور میں ایک بہائی برادری کے لیڈر روح الامین پر بھی حملہ کیا تھا اور اس نے سیاسی لیڈر رحمت علی کے قتل کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی ۔ ڈائرکٹر ایس آئی ٹی ای انٹلی جنس گروپ ریٹار کاٹز نے یہ بات بتائی جنہوں نے اپنے سرکاری ٹوئیٹر پر یہ اطلاع فراہم کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پئیرو پارولری وہ تیسرا بیرونی شہری ہے جس پر حملہ کی ذمہ داری آئی ایس آئی ایسنے قبول کی ہے ۔ بنگلہ دیش میں 29 ستمبر کے بعد سے یہ اپنی نوعیت کا تیسرا حملہ تھا ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ بنگلہ دیش میں اب اس طرح کے حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ ایک اور اطالوی شہری 50 سالہ امدادی کارکن سیزار ٹاویلا پر 28 ستمبر کو گولیوں کی بوچھار کرکے قتل کردیا گیا تھا ۔ ایک جاپانی کسان 66 سالہ ہوشی کونیو کو بھی نا معلوم بندوق برداروں نے ہلاک کردیا تھا ۔ اس کی ذمہ داری بھی آئی ایس نے قبول کی تھی ۔ تاہم بنگلہ دیشی حکومت اور پولیس دونوں نے آئی ایس کے سابقہ ادعا جات کو مسترد کردیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT