Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / بنگلہ دیش میں بلاگر قتل کیس میں ملوث مزید دو حملہ آور گرفتار

بنگلہ دیش میں بلاگر قتل کیس میں ملوث مزید دو حملہ آور گرفتار

حملہ آوروں کا ممنوعہ انصار اللہ بنگلہ ٹیم سے تعلق، کوثرحسین خان اور کمال حسین سردار کی حیثیت سے شناخت

ڈھاکہ ۔ 28 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ممنوعہ انصاراللہ بنگلہ ٹیم شورش پسند گروپ کے مزید دو ارکان کو چوتھے سیکولر بلاگر کو جاریہ ماہ کے اوائل میں موت کے گھاٹ اترانے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا جس کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔ 29 سالہ نیلائے چکرورتی نیل جو اپنے قلمی نام نیلائے نیل کی حیثیت سے زیادہ معروف تھا، اسے قاتلوں نے اس کے پانچویں منزل پر واقع فلیٹ میں گھس کر 7 اگست کو ہلاک کردیا تھا۔ نیلائے نیل اپنے ارکان خاندان کے ساتھ مذکورہ فلیٹ میں رہائش پذیر تھا جو دارالخلافہ کے نارتھ گورہن علاقہ میں واقع ہے۔ نماز جمعہ کے بعد پانچوں حملہ آور اس کے فلیٹ میں داخل ہوگئے۔ اس کی بیوی اور دوست کو ایک طرف ڈھکیلتے ہوئے انہوں نے نیلائے کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ پولیس نے کل دھاوے کے دوران کوثر حسین خان اور کمال حسین سردار کو گرفتار کیا جن کے بارے میں یہ کہا جارہا ہیکہ وہ انصاراللہ بنگلہ ٹیم کے مشتبہ ارکان ہیں۔ ڈیٹیکٹیو برانچ ڈپٹی محبوب عالم نے یہ بات کہی۔ بی ڈی نیوز کے مطابق خدا کے منکر بلاگرس اور رائٹرس کی ہلاکت کیلئے ممنوعہ تنظیم کو موردالزام ٹھہرایا گیا۔ قبل ازیں پولیس نے جونیر لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ منسٹر مجیب الحق چنو کے بھتیجہ سعدالہنین اور مسعود رانا کو بھی قتل میں مشتبہ طور پر ان کے ملوث ہونے پر گرفتار کیا تھا۔

نیل کے بارے میں یہ بھی کہا جارہا ہیکہ وہ ایک این جی او گنا جاگرن منچ کا ایک عہدیدار تھا اور اپنے بلاگس میں وہ سیکولر موضوعات پر اپنی تحریریں اپ لوڈ کیا کرتا تھا۔ اس طرح جنگی جرائم میں ملوث افراد کے لئے سزائے موت کے خلاف ان لوگوں نے باقاعدہ ایک مہم شروع کی تھی۔ جنگی جرائم میں ان لوگوں کو ملوث بتایا جارہا تھا جنوہں نے 1971ء میں بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کے زمانے میں پاکستانی افواج کی حمایت کی تھی۔ ملک میں سیکولر بلاگرس کے قتل کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور نیل قاتلوں کا چوتھا نشانہ تھا۔ جاریہ سال مئی میں کچھ نقاب پوشوں نے 33 سالہ سیکولر بلاگر اننتابجو کے داس کو سیلہٹ سٹی میں موت کے گھاٹ اتار دیا ہے جبکہ فروری میں 45 سالہ اویجیت رائے، جو بنگلہ دیشی نژاد امریکی شہری تھا، کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ اس حملہ میں رائے کی بیوی بال بال بچ گئی تھی۔ رائے کی ہلاکت کے ایک ماہ بعد ایک اور بلاگر وثیق الرحمن کو بھی بالکل اسی طرح موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا لیکن اس بار ایسا ہوا کہ وثیق الرحمن کے پڑوس میں رہنے والے لوگ بھی فوری حرکت میں آ گئے اور دو مشتبہ حملہ آوروں پر قابو پاتے ہوئے انہیں پولیس کے حوالے کردیا تھا۔ تینوں مقتولین گناجاگرن منچ سے وابستہ تھے۔ یاد رہے کہ مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) 1971ء کی جنگ میں پاکستان سے الگ ہوکر بنگلہ دیش کی شکل میں ایک نئے ملک کی حیثیت سے وجود میں آیا تھا اور ملک کے پہلے وزیراعظم تحریک آزادی کے روح رواں شیخ مجیب الرحمن بتائے گئے تھے جو موجودہ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے والد تھے۔ 15 اگست 1975ء کو فوج کی بغاوت میں مجیب الرحمن اور ان کے پورے خاندان کو قتل کردیا گیا تھا۔ شیخ حسینہ اس وقت ملک سے باہر تھیں اور اسی لئے وہ بچ گئی تھیں۔

TOPPOPULARRECENT