Thursday , October 19 2017
Home / عرب دنیا / بنگلہ دیش میں تین اسلام پسندوں کو سزائے موت

بنگلہ دیش میں تین اسلام پسندوں کو سزائے موت

5 کو عمرقید ،1971 ء جنگ آزادی کے مجرم ، ٹریبونل کا فیصلہ
ڈھاکہ ۔18جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) بدنام زمانہ نیم فوجی تنظیم البدر کے تین اسلام پسندوں کو آج سزائے موت سنائی گئی جب کہ دیگر پانچ کو موت تک عمر قید کی سناتے ہوئے جیل بھیج دیا گیا ۔ بنگلہ دیش میں خصوصی ٹریبونل نے انسانیت سوز جرائم کے ارتکاب پر جو 1971ء کی پاکستان کے خلاف جنگ آزادی کے دوران کئے گئے تھے بنگلہ دیش کی بین الاقوامی جرائم ٹریبونل کی تین رکنی کمیٹی نے جو جسٹس انوارالحق کی زیرقیادت دیگر اور دیگر تین ججس پر مشتمل تھی اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ دو مجرم سزائے موت کے مستحق ہیں جن میں سے دو پر اُن کی موجودگی میں اور دیگر 6پر غیر موجودگی میں جو انصاف سے بچنے کیلئے فرار ہوگئے تھے ۔ یہ فیصلہ استغاثہ کی جانب سے تمام 8ملزمین پر فرد جرم عائدکرنے کے بعد سنایا گیا تھا ۔ پانچ افراد کو انسانیت سوز جرائم جیسے قتل عام ‘ اغوا کی وارداتیں ‘ اذیت رسانی اور لوک مار کا مجرم قرار دیا گیا ۔ استغاثہ کے وکلاء نے کہاکہ مجرموں میں سے 6البدر نیم فوجی تنظیم کے ارکان تھے جو پاکستانی فوجیوں پر بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کے دوران مشتمل تھی اور اس نے شمالی جمال پور ضلع میں مظالم کئے تھے ۔ دیگر 2 رضاکار تھے  ایک اور بنگالی افراد پر مشتمل مسلح گروپ تھا جو پاکستان نے بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کے دوران قائم کیا تھا ۔ بنیاد پرست جماعت اسلامی 1971ء کی پاکستان کے خلاف بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کی مخالف تھی اس تنظیم کے ارکان تھے۔ البدر نے جو انتہائی بدنام زمانہ تنظیم تھی بے رحمانہ مظالم کئے تھے جن کو پاکستانی فوجیوں کی تائید حاصل تھی ۔ مقدمہ کا فیصلہ ایک ایسے وقت منظر عام پر آیا ہے جب کہ حالیہ عرصہ میں دو دہشت گرد حملے ایک کے بعد ایک ہونے کی وجہ سے ملک گیر سطح پر کشیدگی پھیلی ہوئی ہے ۔ وزیراعظم شیخ حسینہ نے اشارہ دیا ہے کہ ان حملوں کے پس پردہ جماعت کا ہاتھ ہوسکتاہے ۔بنگلہ دیش تاحال چار افراد کو جنگی جرائم کے مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت دے چکاہے ۔ مقدمہ کی کارروائی اعلیٰ سطحی بنگالی جنگ آزادی کے بعد 1971ء میں عوام پر مظالم کے خلاف شروع ہوئی تھی اور یہ وزیراعظم شیخ حسینہ کے 2008ء کے انتخابی تیقن کے مطابق ہے ۔

TOPPOPULARRECENT