Thursday , August 24 2017
Home / دنیا / بنگلہ دیش میں حوجی سربراہ کو پھانسی

بنگلہ دیش میں حوجی سربراہ کو پھانسی

درگاہ پر حملہ کے مقدمہ میں دیگر دو ساتھیوں پر بھی سزائے موت کی تعمیل
ڈھاکہ ۔ 12 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش میں آج رات ممنوعہ حرکت الجہاد الاسلامی (حوجی) کے سربراہ مفتی عبدالحنان اور ان کے دو ساتھیوں کو 2004ء حملے کے سلسلہ میں پھانسی دیدی گئی۔ ایک درگاہ پر کئے گئے اس حملہ میں تین افراد ہلاک اور سابقہ برطانوی ہائی کمشنر زخمی ہوگئے۔ وزیرداخلہ اسدالزماں خاں نے بتایا کہ مفتی عبدالحنان کو غازی پور میں واقع قاسم پور جیل میں ان کے ساتھی شریف شہیدل عرف بیپل کے ہمراہ 10 بجے شب پھانسی دی گئی۔ ان کے ایک اور ساتھی دلاور حسین ریپون کو شائیلت جیل میں پھانسی دی گئی۔ غازی پور کے سپرنٹنڈنٹ پولیس ہارون الرشید نے بتایا کہ نعشوں کا پوسٹ مارٹم کرلیا گیا ہے اور اسے ورثا کے حوالے کردیا جائے گا۔ صدر عبدالحامد نے جاریہ ہفتہ ان تمام کی درخواست رحم مسترد کردی تھی۔ قبل ازیں حکام نے قاسم پور جیل اور اطراف سیکوریٹی انتظامات سخت کردیئے تھے۔ مفتی عبدالحنان کے ارکان خاندان نے آج صبح جیل پہنچ کر ان سے ملاقات کی۔ اسی طرح ریپون کے ارکان خاندان نے بھی جیل میں ان سے ملاقات کی۔ سپریم کورٹ نے 19مارچ کو اپنے پہلے سنائے گئے سزائے موت کے فیصلہ کی دوبارہ توثیق کی۔ 2004ء میں جنوب مشرقی شائیلت میں ایک درگاہ کو گرینیڈ حملہ کا نشانہ بنایا گیا جس میں بنگلہ دیشی نژاد برطانوی ہائی کمشنر انور چودھری بال بال بچ گئے جبکہ تین افراد ہلاک اور 70 دیگر زخمی ہوئے۔ انور چودھری معمولی زخمی ہوئے۔ حوجی نے درگاہ حضرت شاہ جلال ؒ کو اس حملہ کا نشانہ بنایا تھا۔

TOPPOPULARRECENT