Thursday , August 17 2017
Home / مضامین / بنگلہ دیش میں دہشت کیلئے طلبہ کا استعمال

بنگلہ دیش میں دہشت کیلئے طلبہ کا استعمال

عقیل احمد
بنگلہ دیش میں یہ شخص کون ہے؟ اس سے چوکس رہنے کی ضرورت ہے اس کا کام نوجوان لڑکوں کو دہشت گردی میں ملوث کرنا ہے۔ یہ شخص ڈھاکہ کی خانگی یونیورسٹی میں ٹیچر ہے اور حزب التحریر بنگلہ دیش کی تخریبی تنظیم کا رکن ہے۔ جب وہ نوجوان طلبہ کو پڑھاتا نہیں ہے تب وہ انہیں تخریبی سرگرمیوں کی جانب مائل کرتا ہے۔ وہ ایسے نوجوان بچوں کی شناخت کرتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں اسلام خطرہ میں ہے اور انہیں تخریبی سرگرمیوں کے لئے تیار کرتا ہے۔ یکم جولائی 2016ء کو بنگلہ دیش کے کیفے ٹیریا میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا۔ اس کام کے لئے اچھے گھرانوں کے نوجوان بچوں کا استعمال کیا گیا۔ اب سوشیل میڈیا کے ذریعہ نوجوانوں کو دہشت گردی میں ملوث کیا جارہا ہے۔ انہیں تعلیمی اداروں میں، کیفے میں اور خانگی کالجس میں دہشت گردی کے لئے مائل کرتے ہوئے بھرتی کیا جارہا ہے۔ سکیوریٹی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کو دہشت گردی کے لئے استعمال کیا جارہا ہے تاکہ نشانہ چوکنے نہ پائے۔ ڈھاکہ کے دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیرء جنرل (ریٹائرڈ) ایم شیخاوت حسین کا کہنا ہے بنگلہ دیش کے جس کیفے ٹیریا میں جہاں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا ایک جانا پہچانا مقام ہے۔ جہاں دیگر افراد میں گھل مل کر حملہ آوروں کا بھی آنا جانا لگا رہتا ہے جس سے کسی کو کسی پر شبہ نہیں ہوا۔ گزشتہ ہفتہ دہشت گردوں نے آرٹین بیکری کیفے ٹیریا کو نشانہ بنایا اس میں 20 افراد کی ہلاکت واقع ہوئی۔ ان میں زیادہ تر بیرونی افراد ہیں۔ پولیس نے جن تین دہشت گردوں کی شناخت کی وہ بنگلہ دیش کے باثر خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں ایک کے والد عوامی لیگ کے قائد ہیں، تین حملہ آور بندوق برداروں کی نیراس اسلام، روہن امتیاز اور میر سامع مبشر کی حیثیت سے شناخت کی گئی۔ ان تینوں نے ڈھاکہ انسٹی ٹیوٹ ایلائٹ میں تعلیم حاصل کی تھی جبکہ اسلام ملیشیاء میں بھی تعلیم حاصل کیا تھا۔
ابتدائی تحقیقات بتاتے ہیں ان تینوں کا داعش سے تعلق تھا۔ قتل عام کے چند گھنٹوں کے اندر داعش نے ان تینوں کی تصاویر کو اپنی ویب سائٹ پر پیش کیا۔ گزشتہ ہفتہ ایک ویڈیو میں تین افراد کو دیکھا گیا جو شام جاچکے تھے اور مزید حملوں کی بات کررہے تھے۔ پولیس کے مطابق بنگلہ دیش میں اس وقت دو دہشت گرد گروپ انصار اللہ بنگلہ ٹیم (اے بی ٹی) اور جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی) سرگرم ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر تخریبی گروپس حزب التحریر ، حفاظت اسلام بھی سرگرم ہیں۔ ان کے کارکنوں کو اے بی ٹی اور جے ایم بی کو تربیت کے لئے روانہ کیا جاتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اے بی ٹی اور جے ایم بی کے القاعدہ، داعش سے قریبی روابط ہیں۔ غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش میں 70 افراد اس سال لاپتہ ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے ان میں زیادہ تر نے دہشت گرد گروپس میں شمولیت اختیار کرلی۔ یکم جولائی واقعہ کے پانچ حملہ آور بھی لاپتہ تھے۔ عبید رحمان جس کو پولیس نے ہلاک کردیا تھا بھی گھر سے لاپتہ تھا۔ کمانڈر صفی، محمود خاں کا کہنا ہے کہ ہم لاپتہ نوجوانوں کی مکمل تفصیلات اکھٹا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یقینا دہشت گرد تنظیموں میں نوجوانوں کی بھرتی کوئی نئی بات نہیں ہے جبکہ سکیوریٹی عہدیدار برس ہا برس سے اس بات کو دہراتے آرہے ہیں کہ طلبہ و تنظیم بنگلہ دیش اسلامی چھترا شبیر مدرسہ طلبہ کو جے ایم بی دہشت گرد تنظیم میں بھرتی کررہی ہے۔ کئی انجینئرنگ طللبہ کو اسکالرشپ، مفت کوچنگ کتابوں کا لالچ دے کر بھرتی کیا گیا۔ بھرتی کرنے والے افراد بھی 24-18 سال عمر کے درمیان ہوتے ہیں اور وہ بھی معاشرہ کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس طرح صدر شعبہ کریمینالوجی ڈھاکہ یونیورسٹی کا کہنا ہے نوجوانوں کو دہشت گردی میں ملوث کرنے کے لئے پہلے خانگی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے طلبہ کی فیس بک یا دیگر سوشل میڈیا سائٹیس پر تلاش کی جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں انصار اللہ بنگلہ ٹیم، بشیر کیلا اور اسلامی آن لائین کارکنوں کی فیس بک سے رابطہ پیدا کیا جاتا ہے۔ چند سائٹس  پر حکومت نے امتناع عائد کیا ہے۔ نوجوانوں کو دہشت گرد گروپس میں بھرتی کے لئے ایک عام طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ ایسے اجتماعات اور مباحثوں کا مشاہدہ کیا جاتا ہے جہاں اکثر مذہب اور سیاست پر مباحث ہوتے ہیں اور اس دوران ایسے نوجوانوں کو راغب کیا جاتا ہے جو مذہب کی حفاظت کے لئے زیادہ جوش و خروش دکھاتے ہیں اور پھر ایک پیام ان نوجوانوں کو روانہ کیا جاتا ہے۔ نوجوان کی جانب سے جواب حاصل ہونے پر مذہب پر تفصیلی گفتگو کے لئے راغب کیا جاتاہے۔ چند روز بعد بھرتی کرنے والے فیس بک اکائونٹ ہولڈر کو مباحث کے لئے کسی کیفے میں دعوت دی جاتی ہے۔ حزب التحریر کے ایک کارکن کا کہنا ہے کہ نوجوان سے ملاقات کے بعد ہم اگر یہ دیکھتے ہیں کہ نوجوان حکومت وقت سے مایوس ہیں تب ہم اس سے مذہب اور عالمی طور پر مسلمانوں کے حالات، مسلمانوں پر مغرب کے حملوں اور جہاد پر گفتگو کرتے ہیں۔ اس طرح چند ملاقاتوں کے بعد اس نوجوان کو جہاد سے متعلق ویڈیو مواد روانہ کرتے ہیں۔ اس مواد ویڈیو میں خودکش بمباری کا بھی ذکر ہوتا ہے۔ ان ویڈیوز میں مسلمانوں پر حملوں کو اجاگر کرتے ہوئے شام میں داعش کے زیر تربیت نوجوانوں کو بندوقیں اٹھائے دکھایا جاتا ہے۔ نوجوانوں کی جانب سے مزید دلچسپی دکھائے جانے تک ان ویڈیوز کو روانہ کیا جاتا ہے اور جب نوجوان ویڈیو مواد سے متاثر ہوجاتا ہے تب اس کو اسلحہ چلانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ سکیوریٹی فورسس کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیم اے بی ٹی نے واٹس اپ پر ویڈیوز کو روانہ کرتے ہوئے دہشت گرد کاروائیوں کو انجام دیا ہے۔ نوجوانوں کی دہشت گرد تنظیموں میں بھرتی کے لئے کالج کے ساتھی طلبہ کوچنگ اداروں یا خانگی اداروں کے اساتذہ کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ حفاظت اسلام کے ایک سینئر قائد کا کہنا ہے ، اس سلسلہ میں مختلف خانگی اداروں کے تقریباً ایک ہزار ٹیچرس کے دہشت گرد گروپس کے ساتھ روابط ہیں۔ یکم جولائی حملے کے مشتبہ حسنات کریم جن کو پولیس نے گرفتار کیا کو حزب التحریر سے مبینہ روابط کے الزام میں سال 2012 ء میں ڈھاکہ یونیورسٹی سے بحیثیت پروفیسر خدمات سے برطرف کیا جاچکا تھا جبکہ اس یونیورسٹی کے دو طلبہ کو بلاکر رجیب حیدر کی ہلاکت کے الزام میں سزائے موت دی جاچکی ہے۔
یاسمین کمال بورڈ ٹرسٹی نارتھ سائوتھ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ ان دنوں بنگلہ دیش میں 22 ہزار طلبہ لاپتہ ہیں اور ان کے والدین ان کے اتہ پتہ سے لاعلم ہیں۔ اس بات کا پتہ لگنا مشکل ہے کہ کن دہشت گرد تنظیموں سے یہ طلبہ رابطہ میں تھے تاہم اب یونیورسٹی کیمپس میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب عمل میں لائی گئی ہے۔ وزیر خارجہ بنگلہ دیش اسد الزماں خاں نے دی ٹیلی گراف کو بتایا کہ حکومت اب کالجس پر گہری نظر رکھ رہی ہے۔ ہمارا خفیہ محکمہ اس بات کو جاننے کی کوشش کررہا ہے کہ آخر کیوں طلبہ دہشت گردی سے وابستہ ہورہے ہیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے ضیاء الرحمن نے بتایا کہ طلبہ کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے کئی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ یہ بتائی کہ خانگی یونیورسٹیوں کے طلبہ اساتذہ کی باتوں سے متاثر ہوجاتے ہیں چاہے وہ انہیں دہشت گردی کی جانب راغب ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔ دوسری وجہ یہ بتاتے ہیں کہ طلبہ کی انٹرنیٹ کی سمت بے انتہا رغبت ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں بنگلہ دیش میں انٹرنیٹ استعمال کنندگان کی تعداد سال 2008 ء میں 35 لاکھ کے مقابل مارچ 2016ء میں 6.1 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔
جرنلسٹ فلم ساز شہریار کبیر کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے لئے ایسے نوجوانوں کا انتخاب کیا جارہا ہے جو بنگلہ دیش کی تاریخ سے بہت کم واقفیت رکھتے ہوں۔ سکیوریٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے لئے ایسے نوجوانوں کا بھی انتخاب کیا جاتا ہے جو خالصتاً مذہبی ذہن رکھتے ہیں۔ حزب التحریر سے جڑے ٹیچر کا کہنا ہے نوجوانوں کے انتخاب میں اس بات کو مدنظر رکھا جاتا ہے کہ نوجوانوں میں خفیہ رازوں کو اپنے اندر دبائے رکھنے کی صلاحیت ہو اس کے علاوہ کھلے عام بھرے اجتماع میں نہیں بلکہ تنہائی میں ان نوجوانوں کی ذہن سازی کی جاتی ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے ضیاء الرحمن کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں باغیانہ مزاج رکھنے والے نوجوانوں کو زیادہ تر اپنے کام کے لئے راغب کرتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT