Tuesday , October 17 2017
Home / دنیا / بنگلہ دیش میں شیعہ جلوس پر بم حملہ ‘ایک ہلاک

بنگلہ دیش میں شیعہ جلوس پر بم حملہ ‘ایک ہلاک

تقریباً 90 زخمی ‘ دولت اسلامیہ نے ذمہ داری قبول کرلی ‘بنگلہ دیش نے دعویٰ مسترد کردیا
ڈھاکہ۔25اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) شیعہ برادری کی اہم بارگاہ واقع ڈھاکہ کے روبرو جلوس کو نشانہ بناکر بم دھماکے کئے گئے جس میں ایک 12سالہ لڑکا ہلاک اور دیگر 90افراد زخمی ہوگئے ۔ بم حملوں سے چند ہفتے قبل ایک اطالوی امدادی کارکن اور ایک جاپانی کاشتکار کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا اور ان حملوں کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کرلی تھی۔ ڈھاکہ میں شیعہ جلوس پر حملے کی ذمہ داری بھی دولت اسلامیہ نے ہی قبول کی ہے ۔ جسے حکومت بنگلہ دیش نے مکمل طور پر مسترد کردیا ۔ پولیس اور عینی شاہدین کے بموجب تین بم جلوس پر پھینکے گئے تھے جس میں 20ہزار سے زیادہ افراد شامل تھے

 

۔ یہ واقعہ تقریباً 1:30 بجے شب حسینی دلان کے قریب پیش آیا جو 17ویں صدی کی تعمیل ہے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ جاریہ سال بڑھتے ہوئے پُرتشدد حملوں کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کرلی ہے ۔ حملہ کے چند گھنٹے بعد امریکہ میں دولت اسلامیہ کی ویب سائیٹ پر گروپ نے کہا کہا اس کے عسکریت پسندوں نے شیعہ جلوس پر بم حملوں کی اطلاع دی ہے ۔ تاہم بنگلہ دیش کی پولیس کو شبہ ہے کہ یہ بم دھماکے بنگلہ دیش کے کسی گروپ کی کارستانی ہے تاکہ عدم استحکام پیدا کیا جاسکے ۔ اسلامی مملکت کا دعویٰ اس وقت منظر عام پر آیا جب کہ وزیر داخلہ بنگلہ دیش اسد الزماں خان کمال نے دولت اسلامیہ کے اس حملہ میں ملوث ہونے کے امکانات کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ یہ تخریبی عناصر کا منصوبہ بند حملہ ہے تاکہ ملک کو عدم استحکام سے دوچار کیا جاسکے ۔ مقابمی اور بین الاقوامی گروہ اس ساز میںملوث ہوسکتے ہیں جس کا مقصد ملک کو غیر مستحکم کرنا اور عوام میں  دہشت کی لہر دوڑانا ہے ۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ‘جب کہ وہ اسپتال میں حملے میںزحمیوں کی عیادت کیلئے گئے ہوئے تھے ۔ صیانتی خطرہ لاحق ہونے کے پرواہ کئے بغیر شیعہ عوام اپنے مقررہ پروگرام کے مطابق عاشورہ کے موقع پر جلوس کے انتظامات میں مصروف رہے ۔ ایک بم راست طور پر 12سالہ لڑکے سے ٹکرایا تھا جو برسرموقع ہلاک ہوگیا ۔ بنگلہ دیش میں یوم عاشورہ صدیوں سے منایا جاتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT