Friday , October 20 2017
Home / Top Stories / بنگلہ دیش میں عام ہڑتال کے پیش نظر زبردست سیکوریٹی

بنگلہ دیش میں عام ہڑتال کے پیش نظر زبردست سیکوریٹی

:   مطیع الرحمان پھانسی   :

متعدد مقامات پر چیک پوائنٹس کاقیام، سڑکوں اور گلیوں میں پولیس کا گشت
ڈھاکہ ۔ 12 مئی (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے قائد مطیع الرحمان نظامی کو پھانسی دیئے جانے کے بعد پورا ملک ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہوچکا ہے کیونکہ ملک گیر پیمانے پر پولیس کی بھاری جمعیتوں کو تعینات کیا گیا ہے کیونکہ ہڑتال کے اعلان کے بعد تشدد پھوٹ پڑنے کے اندیشے پائے جاتے ہیں۔ یاد رہیکہ نظامی کو 1971ء کی بنگلہ دیش کی آزادی کی جدوجہد کے دوران جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے اس وقت کے مشرقی پاکستان سے علحدہ ہو کر نیا ملک تشکیل دیئے جانے کے مطالبہ کی کبھی تائید نہیں کی تھی بلکہ مکتی باہنی فوج سے مقابلہ کرنے کیلئے البدر نامی تنظیم بھی قائم کی تھی۔ جماعت اسلامی نے 73 سالہ نظامی کو پھانسی دیئے جانے کے خلاف کل ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے ملک کے داخلی حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں کیونکہ بنگلہ دیش میں سیکولر کارکنوں اور بلاگرس کی ہلاکتوں کی وجہ سے حالات ویسے بھی دگرگوں ہیں۔

دوسری طرف بنگلہ دیش کے مختلف علاقوں میں پولیس اور جماعت کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں کے واقعات بھی رونما ہوئے۔ جماعت کے حامیوں نے پولیس پر سنگباری کی جس کے جواب میں پولیس نے ربر کی گولیاں چلائیں۔ یہ واقعہ شمال مغربی شہر راج شاہی میں رونما ہوا جہاں گذشتہ ماہ ایک آزاد خیال پروفیسر کو اسلام پسندوں نے ہلاک کردیا تھا۔ جہاں تک دارالخلافہ ڈھاکہ کا سوال ہے تو جماعت کے انتباہ کے باوجود دکانات اور تجارتی ادارے معمول کے مطابق کام کرتے رہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ جماعت اسلامی کے متعدد قائدین جن کے خلاف ماضی میں جنگی جرائم کے ارتکاب پر مقدمات چلائے گئے تھے، ان کے خلاف بھی جماعت اسلامی کی جانب سے ہڑتال کے اعلانات کا عوام پر کوئی اثر نہیں ہوا اور کئی ہڑتالیں ناکام ہوئیں۔ پولیس نے بتایا کہ ڈھاکہ میں کئی اہم مقامات پر پولیس کی بھاری جمعیت تعینات کی گئی ہے تاکہ تشدد کے واقعات کی روک تھام کی جاسکے جس کے مثبت نتائج سامنے آئے کیونکہ ڈھاکہ اور نظامی کے آبائی مقام پابنا میں تشدد کے کوئی واقعات رونما نہیں ہوئے۔ مین روڈس پر خصوصی طور پر چیک پوائنٹس قائم کئے گئے تھے تاکہ ہر آنے جانے والی گاڑیوں پر نظر رکھی جاسکے اور ساتھ ہی ساتھ گلیوں میں بھی پولیس گشت میں اضافہ کیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT