Saturday , August 19 2017
Home / کھیل کی خبریں / بنگلہ دیش کو آج ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے اخراج کا اندیشہ، ہندوستان کو ہرانا ضروری

بنگلہ دیش کو آج ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے اخراج کا اندیشہ، ہندوستان کو ہرانا ضروری

بولروں تسکین اور عرفات کی معطلی سے بنگلہ دیش شدید متاثر، مستفیض کی واپسی پر کچھ راحت۔ ٹیم انڈیا کو جیت سیمی فائنلس سے قریب تر پہنچائے گی
بنگلورو ، 22 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کٹر حریف پاکستان کے مقابل فتح سے بلند حوصلہ و پُراعتماد ہندوستان چاہے گا کہ ایک اور شاندار فتح درج کراتے ہوئے سیمی فائنلس سے قریب تر ہوجائیں جب وہ پریشانیوں میں گھرے بنگلہ دیش کے خلاف آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی 20 میں کل یہاں مدمقابل ہوں گے۔ نیوزی لینڈ کے مقابل افتتاحی ناکامی کے بعد کافی دباؤ کے شکار اولین چمپینس ہندوستان نے زبردست واپسی کرتے ہوئے پاکستان کو ایڈن گارڈنس میں کافی گرما گرمی والے مقابلے میں شکست دی اور اس ٹورنمنٹ میں اپنی مہم کو درست راہ پر واپس لائے۔ کل کے سوپر 10 گروپ 2 میچ میں فتح میزبانوں کو باوقار سیمی فائنل پوزیشن کے قریب تر پہنچا دے گی اور ٹیم یہی یقینی بنانا چاہے گا کہ اسے بڑی جیت ملے تاکہ اپنا نٹ رن ریٹ بہتر کیا جاسکے، جو نیوزی لینڈ کے مقابل ناکامی کے نتیجے میں خاصا متاثر ہوا۔ دوسری طرف بنگلہ دیش اس ایونٹ سے اخراج کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں اور کل جیت کی صورت میں انھیں اعداد و شمار کے حساب سے آخری چار کے مرحلے تک رسائی کی طویل راہ ضرور مل جائے گی۔

تاہم دونوں ٹیموں کے موجودہ فام پر قریبی نظر ڈالی جائے تو ہندوستان اس میچ کیلئے واضح پسندیدہ نظر آتا ہے حالانکہ بنگلہ دیش نے بڑے ایونٹس میں بڑی ٹیموں کے قدم اکھاڑ دینے کی ساکھ بنالی ہے۔ ہندوستان کی طاقتور بیٹنگ لائن اپ جس کی قیادت بیش قیمت ویراٹ کوہلی کررہے ہیں، میزبانوں کو واضح برتری عطا کرتی ہے اور یہ لائن اپ بنگلہ دیشی بولروں کیلئے کافی سے زیادہ ثابت ہونا چاہئے، جنھیں ہندوستانی بیٹسمنوں کو قابو میں رکھنے یا آل آؤٹ کرنے کا کام بڑا کٹھن معلوم ہوگا۔ بلاشبہ کوہلی پھر ایک بار سب کی نظروں کا مرکز رہیں گے جبکہ پاکستان کے خلاف معیاری 55 ناٹ آؤٹ کے بعد وہ تازہ دم ہیں۔ جہاں تک آسانی سے رنز بنانے کا معاملہ ہے، اسٹار رائٹ ہینڈر موجودہ طور پر سب سے برتر نظر آتے ہیں۔ اور کیپٹن ایم ایس دھونی امید کریں گے کہ کوہلی اسی طرح انڈین اننگز کو سنبھالتے رہیں تاکہ بقیہ لائن اپ پر دباؤ کم ہوجائے۔

یوراج سنگھ جنھوں نے پاکستان کے خلاف میچ میں مفید 24 رنز بنائے اور کوہلی کے ساتھ 61 رنز جوڑے، بلاشبہ اپنی اچھی کارکردگی کو کل کے میچ میں جاری رکھنا چاہیں گے۔ بولنگ کے محاذ پر انڈین اٹیک مستحکم معلوم ہوتا ہے لیکن یہ دیکھنا دلچسپ رہے گا کہ آیا دھونی اس مرحلے پر ہربھجن سنگھ کو موقع دیں گے کیونکہ ابھی تک حالات دھیمی رفتار والے بولروں کے حق میں نظر آئے ہیں۔ اس کے برعکس بنگلہ دیش جو دو اہم بولروں پیسر تسکین احمد اور لیفٹ آرم اسپنر عرفات سنی سے محروم ہوچکا ہے، اسے عملاً یہ سمجھنا مشکل ہورہا ہے کہ اس باوقار ایونٹ سے قبل شاندار پیشرفت کے بعد یکایک کیا غلطی ہوگئی۔ بنگلہ ٹیم نے ایشیا کپ فائنلس تک رسائی کے ذریعے ہلچل مچائی تھی لیکن ورلڈ ٹوئنٹی 20 کے مین ڈرا میں پہنچنے کے بعد سے شکستہ نظر آئی ہے۔ اس صورتحال میں بنگلہ دیشی کپتان مشرف مرتضیٰ یقینا شکیب الحسن اور محمود اللہ کی آل راؤنڈصلاحیتوں پر انحصار کریں گے، جنھوں نے گزشتہ میچ میں آسٹریلیا کے خلاف اچھا مظاہرہ پیش کیا۔ بنگلہ ٹیم مینجمنٹ تمیم اقبال کو واپس لانے پر غور کرے گا، جو اچھے فام میں ہیں، جیسا کہ کوالیفائرز میں 103 ناٹ آؤٹ، 47 اور 83 ناٹ آؤٹ اور پھر پاکستان کے خلاف 25 اسکور کئے۔ ٹیم کو یہ بھی امید رہے گی کہ اُن کے اوپننگ پارٹنر سومیا سرکار بنگلہ اننگز کو اچھی شروعات فراہم کریں گے۔ بنگلہ دیش کیلئے سب سے بڑی پریشانی تسکین اور عرفات کے مناسب متبادل حاصل کرنا ہے۔ اُن کی معطلی کا اثر اتنا شدید ہوا ہے کہ مرتضیٰ ایک پریس کانفرنس کے دوران رو پڑے جب یہ دونوں کے تعلق سے سوال کیا گیا۔ انھوں نے زور دیا کہ معطلی کا فیصلہ نہایت سخت رہا ہے۔ مرتضیٰ کی آنکھوں میں آنسو شاید بنگلہ دیشی ڈریسنگ روم میں پست حوصلہ ماحول کے عکاس ہیں، حالانکہ ٹیم نے آسٹریلیا کے مقابل ناکامی کے دوران قابل لحاظ مظاہرہ پیش کیا ہے۔ مستفیض الرحمن نے انجری سے واپسی کرتے ہوئے کل رات دو وکٹیں حاصل کئے۔ وہ کوالیفائرز اور پاکستان کے خلاف سوپر 10 اوپننگ میچ ایشیا کپ T20 کے دوران کی بیک انجری کے سبب نہیں کھیل سکے تھے۔ کل کا میچ اُن کی اور بنگلہ دیش کی اُبھرنے کی قوت کی ایک اور آزمائش رہے گا کیونکہ اس ٹیم نے ہمیشہ ہی بڑے ایونٹس میں اپنے دم خم سے بڑھ کر زور لگایا ہے۔
میچ کا آغاز :  رات 7:30 بجے (IST)

TOPPOPULARRECENT