Wednesday , September 20 2017
Home / دنیا / بنگلہ دیش کو غیرمحفوظ ظاہر کرنے کی مہم جاری

بنگلہ دیش کو غیرمحفوظ ظاہر کرنے کی مہم جاری

وزیراعظم بنگلہ دیش شیخ حسینہ کا الزام ‘ پاکستان کے فوجی حملے کا اندیشہ ‘ قائداپوزیشن خالدضیاء پر بھی الزامات
ڈھاکہ۔8نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) دہشت گرد تنظیموں جیسے دولت اسلامیہ کی بنگلہ دیش میں موجودگی کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم بنگلہ دیش شیخ حسینہ نے کہا کہ ایک مہم چلائی جارہی ہے تاکہ بنگلہ دیش کو ’’ غیر محفوظ‘‘ ظاہر کیا جائے اور غیر ملکی فوج حملوں جیسے پاکستان کے فوجی حملوں کی راہ ہموار کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروپگنڈہ جاری ہے کہ دولت اسلامیہ یا القاعدہ کی شاخیں بنگلہ دیش میں موجود ہیں ۔ ایسا بنگلہ دیش کو غیر محفوظ ظاہر کرنے کیلئے کیا جارہا ہے ۔ وہ اپنی قیامگاہ واقع گونوبھابن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل خفیہ حملے اور قتل کی وارداتیں حالیہ مہینوں میں منصوبہ بند انداز میں کی گئی ہیں ۔ ان کا مقصد بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کی بنگلہ دیش میں موجودگی اور بنگلہ دیش کو غیر ملکیوں پر غیر محفوظ ظاہر کرنے کی سازش ہے جیسا کہ پاکستان میں غیر ملکیوں پر حملے کئے جاتے ہیں ‘ اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی کئے جارہے ہیں ۔ شیخ حسینہ نے اپنی کٹر حریف خالدہ ضیاء پر  الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کی اہم اپوزیشن بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی قائد اور بی این پی کی اہم حلیف بنیاد پرست جماعت اسلامی ان حملوں کی سازش تیار کرتے ہیں اور پروپگنڈہ کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ مشتبہ افراد کا حالیہ حملوں کے سلسلہ میں سراغ لگایا جاچکا ہے اور ان کے روابط بی این پی اور جماعت اسلامی سے ثابت ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کیا وہ عوام سے ان تمام باتوں اور واقعات پر غور کرنے کی اپیل نہیں کرسکتیں جو بنگلہ دیش میں غیر ملکی دہشت گردوں کی موجودگی کوثابت کرنے کیلئے کی جارہی ہیں ۔ انہوں نے سوال کیا کہ شام ‘ عراق اور افغانستان میں کیا ہورہا ہے ۔ وزیراعظم بنگلہ دیش نے دولت اسلامیہ اور القاعدہ پر مظالم کا الزام عائد کیا اور کہا کہ مذہب کے نام پر یہ پارٹیاں عوام پر مظالم ڈھارہی ہیں ۔ پاک مصنف اور بلاگرس کے علاوہ ایک پبلشر کو بھی گذشتہ ڈھائی سال میں بنگلہ دیش میں ہلاک کردیا گیا ہے ۔ جاریہ سال جنوری سے اب تک پانچ افراد کو ان کے ارکان خاندان اور احباب کے ساتھ ہلاک کیا جاچکا ہے کیونکہ مبینہ طور پر پولیس خاطیوں کو انصاف کے کٹھرے میں کھڑا کرنجے سے قاصر رہی ۔ ایک گروپ نے جس نے خود کو انصار الاسلام القاعدہ کی شاخ برائے بنگلہ دیش قرار دیا ہے ۔ برصغیر ہند میں ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرچکی ہے ۔ گذشتہ دو ماہ میں دو غیر ملکیوں کا قتل ہوچکا ہے جس کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے ۔ وزیراعظم کے یہ تبصرے صیانتی محکموں کی جانب سے بار بار یہ کہنے کے بعد منظر عام پر آئے ہیں کہ انہوں نے دولت اسلامیہ یا القاعدہ کا برصغیر ہند میں پتہ چلالیاہے اور ان کا تعلق دو غیر ملکیوں کے قتل سے ثابت ہوچکا ہے ‘ دو ملازمین پولیس ایک پبلیشرہلاک کئے جاچکے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT