Thursday , September 21 2017
Home / دنیا / بنگلہ دیش کی قدیم مندر میں خام بم حملہ ، 10 زخمی

بنگلہ دیش کی قدیم مندر میں خام بم حملہ ، 10 زخمی

ڈھاکہ ۔ 5 ڈسمبر۔(سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش کے شمالی علاقہ میں قدیم دور کی ایک مندر پر نامعلوم افراد نے کروڈ بم سے حملہ کردیا جس کے نتیجہ میں تقریباً 10 افراد زخمی ہوگئے ۔ ہندو مذہبی تہوار کی بناء ہزاروں کی تعداد میں بھگت یہاں موجود تھے ۔ ملک میں اسلام پسندوں کے سلسلہ وار حملوں کی یہ ایک تازہ کڑی ہے جہاں شمال مغربی دیناج پور میں واقع کانتاجی مندر کے احاطہ میں 5,000 سے زائد لوگ رش میلہ تہوار کے ضمن میں منعقدہ اوپن ایئر شو کا مشاہدہ کررہے تھے کہ اچانک دو بم دھماکے ہوئے ۔ پولیس نے بتایا کہ تقریباً 10 افراد زخمی ہوئے اور اکثر کو معمولی زخم آئے ۔ پولیس نے حملے کے بعد تفتیش کیلئے تین افراد کو حراست میں لے لیا ہے ۔ ابتداء میں ایسا لگ رہا تھاکہ حملہ آوروں نے ریموٹ کنٹرول آلہ استعمال کیا ہے لیکن تین افراد سے پوچھ تاچھ کے بعد ہی حقیقت کا پتہ چلے گا ۔ مقامی خرول پولیس اسٹیشن کے آفیسر انچارج عبدالغفور نے بتایا کہ تحقیقات جاری ہیں اور یہ ایک انتہاپسند حرکت ہوسکتی ہے ۔ کانتا جی مندر حکومت کے زیرکنٹرول ہے اور اس کا انتظام و انصرام محکمہ آثار قدیمہ کے تحت ہے ۔ یہاں ہزاروں کی تعداد میں ہندو مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں اور سالانہ رش میلہ میں مسلمان بھی شریک ہوتے ہیں ۔ یہ مندر شمالی ضلع خرول اُپا ضلع میں واقع ہے جو ایک سیاحتی مقام بھی ہے ۔ یہ مندر کانتانگر میں دیناج پور کے حکمرانوں نے دیپا ندی کے کنارے 1704 میں تعمیر کیا تھا اور اسے مہاراجہ رام ناتھ جس وقت جانشین بنے کئی دہوں بعد تعمیر مکمل ہوئی تھی ۔ بنگلہ دیش میں حالیہ چند ماہ کے دوران تشدد کے واقعات میں کافی اضافہ ہوگیا ہے اور بیرونی شہریوں کے علاوہ سکیولر بلاگرس کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ آئی ایس نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے لیکن حکومت کا یہ موقف ہے کہ مقامی اسلامی شدت پسند گروپس یہ کارروائیاں کررہے ہیں۔ ان حملوں کی وجہ سے بین الاقوامی برادری کی تشویش بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ عام طورپر اعتدال پسند سمجھے جانے والے جنوب ایشیائی اس ملک میں مذہبی انتہاپسندی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT