Friday , October 20 2017
Home / دنیا / بنگلہ دیش کے دو اپوزیشن قائدین کی سزائے موت برقرار سپریم کورٹ میں صلاح الدین چودھری، محمد مجاہد کی درخواست مسترد

بنگلہ دیش کے دو اپوزیشن قائدین کی سزائے موت برقرار سپریم کورٹ میں صلاح الدین چودھری، محمد مجاہد کی درخواست مسترد

ڈھاکہ ۔ 18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش سپریم کورٹ نے 1978ء میں پاکستان کے خلاف جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کے مرتکب دو سرکردہ اپوزیشن قائدین کو دی گئی سزائے موت کو آج جائز قرار دیا۔ اس کے ساتھ ہی ان دونوں کو پھانسی کے پھندہ پر چڑھائے جانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ چیف جسٹس سریندر کمار سنہا کے زیرقیادت چار رکنی بنچ نے جماعت اسلامی کے سکریٹری جنرل علی احسن محمد مجاہد اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) لیڈر صلاح الدین قادر چودھری کی طرف سے داخل کردہ قطعی درخواست پر نظرثانی کو مسترد کردیا۔ 67 سالہ مجاہد اور 66 سالہ چودھری، سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی بی این پی کے زیرقیادت مخلوط حکومت میں وزیر تھے۔ اس حکومت نے بنیاد پرست جماعت اسلامی کے کلیدی حلیف تھی۔ مجاہد، جماعت اسلامی کے دوسرے انتہائی سینئر رکن ہیں جو 16 ڈسمبر 1971ء کو جنگ آزادی میں فتح سے عین قبل ملک کی سرکردہ شخصیات کے قتل عام کے منصوبے کا اصل سازشی سرغنہ پایا گیا تھا۔ خالدہ ضیاء کے دست راست صالح الدین چودھری نے اپنے آبائی ضلع میں بڑے پیمانے پر مظالم کئے تھے اور ہندوؤں کے خلاف پرتشدد مہم کی قیادت کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT