Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / بوجہ گٹہ سرکاری اراضی کے تحفظ پر زور : سی پی ایم

بوجہ گٹہ سرکاری اراضی کے تحفظ پر زور : سی پی ایم

78 ایکڑ اراضی معاملت میں مقامی جماعت کے بے نامامی افراد کی تحقیقات کا مطالبہ
حیدرآباد /15 جون ( سیاست نیوز ) کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ( سی پی ایم ) نے بوجہ گٹہ سرکاری اراضی کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے ۔ سی پی ایم قائد ایم سرینواس نے ایک پریس کانفرنس کے دوران مطالبہ کیا کہ بوجہ گٹہ کی 78 ایکڑ اراضی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے ۔ انہوں نے تلگودیشم کے رکن قانون ساز کونسل دیپک ریڈی کی گرفتاری کو ناکافی قرار دیا اور کہا کہ دیپک ریڈی کی ٹولی کے علاوہ ایم آئی ایم کے بے نامی افراد کے خلاف بھی مکمل تحقیقات کروائی جائے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایم آئی ایم قائدین نے مصطفی ہلز سوسائٹی کی آڑ میں بے نامی قبضہ کئے ہیں اور سرکاری اراضی کو مکمل ہڑپنے کی کوشش جاری ہے ۔ انہوں نے اربن لینڈ سیلنگ عہدیداروں کی جانب سے درخواستوں کو مسترد کرنے کا حوالہ دیا اور بتایا کہ سابق 31 درخواستیں اراضی کو ریگولرائز کرنے کیلئے داخل کی گئی تھیں ۔ جس میں سے 19 درخواستوں کو مسترد کردیا گیا ۔ سی پی ایم قائد نے الزام لگایا کہ سوسائٹی کی چند افراد کی ملی بھگت سے ان اراضیات پر ایم آئی ایم قائدین قبضہ کی کوشش کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سال 2005 میں سی پی ایم کے بڑے پیمانے پر منعقدہ احتجاج کے سبب حکومت نے حرکت میں آتے ہوئے 45 ایکڑ سیلنگ اراضی کو حاصل کرلیا تھا اور باضابطہ طور پر اس اراضی میں سے 13 ایکڑ اراضی کو غریب عوام کیلئے مختص کیا تھا ۔ سی پی آئی ایم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جی او 58 کے تحت 3 ہزار خاندانوں میں اراضی کو تقسیم کرے جو 30 سال سے بے گھر ہے ۔ انہوں نے بوگس سوسائٹی کے نام پر جاری دھاندلیوں اور دیپک ریڈی ٹولی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT