Friday , October 20 2017
Home / مضامین / بٹوارا مسلمانوں کی سب سے بڑی تاریخی غلطی

بٹوارا مسلمانوں کی سب سے بڑی تاریخی غلطی

آپ جس وقت یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے، ہندوستان کی یوم آزادی تقریب منائی جاچکی ہوگی اور ہر سال کی طرح اس سال بھی وزیر اعظم کا پیغام مل چکا ہوگا۔ یوم آزادی ہر برس کی طرح اس سال بھی ایک رسم کے طورپر منایا گیا، کیونکہ اب یوم آزادی منانا ایک رسم بن چکی ہے، لیکن ہندوستانی مسلمانوں کو یوم آزادی تقریب ایک رسم کے طورپر نہیں منانی چاہئے، کیونکہ ہندوستانی مسلمانوں کے لئے 15 اگست 1947ء ایک سنگ میل ہے، جس نے اس ملک میں ہی نہیں، بلکہ پورے برصغیر کے مسلمانوں کی زندگی تاریخی سطح پر بدل دی۔ یہ وہ دن تھا، جس روز برصغیر کا بٹوارا ہوا اور اس نے ہندوستانی مسلمانوں کو خود اپنے وطن میں بے یار و مددگار بنادیا۔ جناح صاحب تو ملک کے دو ٹکڑے کرکے پاکستان چلے گئے اور ادھر ہندوستانی مسلمانوں کے ماتھے پر بلاوجہ غداری کا کلنک لگ گیا، جو بلاوجہ ہونے کے باوجود آج تک مسلمانوں کی پیشانی سے نہیں دھل سکا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آزادی کے نام پر ہندوستانی مسلمانوں کو لامتناہی فسادات کا تحفہ ملا۔ آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ کبھی بابری مسجد شہید کی گئی تو کبھی گجرات میں نسل کشی ہوئی، جب کہ مسلمان اپنے گھروں میں ڈرے اور سہمے بیٹھے رہے۔

آج ہندوستانی مسلمانوں کے پاس نہ کوئی لیڈر شپ ہے اور نہ ہی کوئی آواز، یہ تو ہندوستانی آئین اور جمہوریت کا کمال ہے کہ اس آزاد ہندوستان میں اس کو کم از کم آئینی سطح پر ہر طرح کے اختیارات حاصل ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے آج بھی زندہ ہے۔ لیکن اس ووٹ کی طاقت کو بھی مسلم سوداگر، جو خود کو مسلم قائد کہتے ہیں، اکثر انتخابات کے بازار میں فروخت کرکے ہندوستانی مسلمانوں کو بے یار و مددگار بنا دیتے ہیں۔ بس ایک بے بسی ہے، جس کے سہارے ہندوستانی مسلمان جی رہے ہیں۔ لیکن یہ بے بسی کیوں؟ جب کہ آج بھی ہندوستان کے یوم آزادی کا جشن لال قلعہ سے منایا جاتا ہے، کیونکہ جنگ آزادی کی ابتدا 1857ء میں بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں اسی لال قلعہ سے ہوئی تھی۔ یعنی 1857ء تک اس ملک کی قیادت مسلمانوں کے ہاتھوں میں تھی، لیکن 1857ء سے 2015ء کے درمیان ایسی کیا قیامت آگئی کہ اس ملک کا مسلمان قیادت چھوڑکر غلامی کی حد تک پہنچ گیا۔ 15 اگست ایک ایسی تاریخ ہے کہ اس دن ہندوستانی مسلمانوں کو اس تبدیلی کا محاسبہ کرنا چاہئے، لیکن ہم مسلمان اتنی گہری نیند سو رہے ہیں کہ ہم کو اب اپنی تقدیر بدلنے کی بھی فکر نہیں رہی۔

اب ہندوستان ہی کیا بلکہ ساری دنیا کے مسلمانوں کے پاس صرف ماضی کی یادیں ہیں، جب کہ کسی دور میں اس ملک کا مسلمان کسی سپر پاور طاقت سے کم نہ تھا۔ مسلمانوں کی زیر قیادت مغل دور عظیم تر معیشت میں شمار ہوتا تھا۔ ابھی حال ہی میں ٹائمز آف انڈیا نے مغل شہنشاہ اکبر کا شمار دنیا کے آج تک کے دس سب سے دولت مند لوگوں میں شمار کیا ہے۔ مسلمانوں کی عظمت ایسی تھی کہ ہندوستان کے ہندو۔ مسلمان اکٹھا ہوکر 1857ء میں لال قلعہ پہنچے اور بہادر شاہ ظفر کے حضور میں یہ معروضہ پیش کیا کہ ’’جنگ آزادی کی کمان آپ سنبھالیں‘‘۔ الغرض تقریباً 800 برس تک مسلمانوں کا شمار اس ملک کی اولین قوم میں ہوتا تھا۔ پھر جنگ آزادی شروع ہوئی اور آہستہ آہستہ مسلمان پیچھے ہوتے گئے، کیونکہ جنگ آزادی کے ساتھ ساتھ اس ملک میں ایک سوال یہ بھی اٹھ کھڑا ہوا کہ ’’اس ملک کا نظام کیسا ہوگا؟‘‘۔ کانگریس اور اس ملک کی اکثریت نے یہ طے کیا کہ آزادی کے بعد اس ملک میں جمہوری نظام قائم ہوگا، جب کہ جمہوریت بنیادی طورپر ایک نمبر گیم ہے اور نمبر گیم میں ہندو اکثریت کے تحت یہ ظاہر تھا کہ آزاد ہندوستان کی سیاست میں ہندوؤں کا دبدبہ ہوگا۔ اس حقیقت کے پیش نظر مسلم لیڈر شپ کے ذہن میں خوف بیٹھ گیا اور پھر راتوں رات مسلمان شاہی قوم کی بجائے اقلیتی قوم بن گئے۔ اس خوف نے مسلمانوں کے ذہن میں یہ خیال بھی پیدا کیا کہ آزادی کے بعد کیا یہ ملک ہندو راشٹر میں تبدیل ہو جائے گا؟۔ صرف یہی نہیں، بلکہ خود کانگریس اور اس کے باہر کچھ ایسے عناصر تھے، جو ہندو راشٹر کے حق میں تھے۔ اسی وجہ سے مسلمانوں کا متوسط اور زمیندار طبقہ مسلم لیگ کا ہمنوا بنتا گیا اور اس نے اپنے تحفظ کے لئے آزاد ہندوستان میں کچھ خصوصی مراعات کا مطالبہ شروع کردیا، جن میں Separote Electorate جیسی مانگیں شامل تھیں۔ گاندھی اور نہرو قیادت نے ان مطالبات کو یہ کہہ کر رد کردیا کہ سیکولر ہندوستان میں ہر شخص کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے، لہذا مسلمانوں کو خصوصی مراعات دینے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ اسی نکتہ پر جناح اور گاندھی و نہرو یعنی مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے اور نوبت بٹوارا تک پہنچ گئی۔ جناح کا کہنا یہ تھا کہ اگر مسلمانوں کو خصوصی آئینی مراعات نہیں دیتے تو ہم کو ہمارا حصہ دے دیجئے، تاکہ ہم یہاں سے چلے جائیں، جب کہ نہرو کا کہنا یہ تھا کہ سیکولر ہندوستان میں ہندو۔ مسلم سب برابر ہوں گے۔

آزادی کے بعد سے اب تک ہندوستانی مسلمانوں کے تجربات اس بات کے شاہد ہیں کہ جنگ آزادی کے دوران ہندوستانی مسلمانوں کی لیڈر شپ نے جو خطرات محسوس کئے تھے، وہ بے معنی نہیں تھے۔ آج وشوا ہندو پریشد کے لیڈر اشوک سنگھل کھل کر کہہ رہے ہیں کہ ’’ہندوستان ہندو راشٹر کی جانب گامزن ہے‘‘ اور مسلمان خود کو لاچار محسوس کر رہے ہیں۔ یعنی آج ہندوستان میں اکثریتی راج کے خدوخال پائے جاتے ہیں، لیکن مسلم لیگ اور جناح صاحب کی سمجھ میں یہ نہیں آیا تھا کہ جمہوریت ایک نمبر گیم ہے، جب کہ بٹوارے کی وجہ سے برصغیر کے مسلمانوں نے تین حصوں (ہندوستان، پاکستان اور بعد میں بنگلہ دیش) میں تقسیم ہوکر اپنے گیم کو کمزور کرلیا۔ اگر آج ہندوستان مغلوں کے دور کا ہندوستان ہوتا اور مسلمان متحد ہوتے تو پورے برصغیر میں حقیقی جمہوریت ہوتی اور نمبر گیم کے اعتبار سے مسلمان دوسروں سے کمزور نہ ہوتے، ان کی اپنی آواز اور اپنی طاقت ہوتی اور پھر متحدہ ہندوستان میں مسلمان خصوصی مراعات بھی حاصل کرسکتے۔
اگر مسلمان یوم آزادی کے موقع پر اپنے ماضی پر نگاہ ڈالیں تو یہ بات بہت واضح ہو جاتی ہے کہ برصغیر کا بٹوارا ہندوستانی مسلمانوں کی سب سے بڑی تاریخی غلطی تھی اور اس تاریخی غلطی کی ذمہ داری جناح اور مسلم لیگ کے سر جاتی ہے۔ لیکن اس غلطی کو ہوا دینے میں گاندھی اور نہرو کے علاوہ اس ملک کی ہندو لیڈر شپ کا بھی ہاتھ تھا۔ الغرض اسی نتیجے میں جمہوری نظام کے نمبر گیم کے تحت مسلمان اقلیت میں ہو گئے اور خود کو بے یار و مددگار محسوس کرنے لگے۔

TOPPOPULARRECENT