Tuesday , October 17 2017
Home / خواتین کا صفحہ / بچوں کوسزائیں دے کر ان کی ذہنی استعداد کم نہ کریں

بچوں کوسزائیں دے کر ان کی ذہنی استعداد کم نہ کریں

مائیں اپنے بچوں کے ساتھ ہر وقت ہوتی ہیں ۔ لہذا جب بچے تنگ کرتے ہیں تو وہ ان کی پٹائی لگانے سے بھی گریز نہیں کرتیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں بچوں کی پٹائی کرنا معمولی بات سمجھی جاتی ہے تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں وہ بچے جن کو پٹائی یا جسمانی سزائیں دی جاتی ہیں ۔

ان میں ذہانت کا معیار کم دیکھا گیا ہے ۔  ہر ماں کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بچے ذہین ہوں اور ہر میدان میں کامیاب بھی ہوں ۔ لہذا وہ بچوں کی غلطیوں کو درست کروانے کیلئے پٹائی تک لگادیتی ہیں جبکہ اگر غلطیوں کو سدھارنے کیلئے مارپیٹ کے بجائے دوسرے راستے اپنائے جائیں تو وہ زیادہ موثر ثابت ہوسکتے ہیں ۔ تحقیق کے مطابق ایسے بچے جن کو سیدھا کرنے کیلئے مارپیٹ کی گئی ان کی ذہنی استعداد چار سال کے عرصے میں ان بچوں کے مقابلے میں کم سطح پر آگئی جن کی مارپیٹ نہیں کی جاتی تھی ۔ یہاں پر وہ خواتین غور کریں جو بچوں کو جسمانی سزائیں دے کر ان کی غلطیوں کو سدھارنے کی کوشش کرتی ہیں ۔ وہ بجائے بچوں کا بھلا کرنے کے ان کی ذہنی صلاحیتوں میں کمی لانے کا باعث بن رہی ہیں ۔ لہذا بچوں کے ساتھ سختی کریں لیکن مارپیٹ سے گریز کریں ۔متبادل راستے اختیار کرکے آپ بچوں کی اصلاح کریں تاکہ وہ ذہانت کی بناء پر زندگی کے ہر میدان میں ترقی کرسکیں ۔

TOPPOPULARRECENT