Monday , October 23 2017
Home / مضامین / بچے میرے ، سازش آر ایس ایس کی الزامات پولیس کے ؟

بچے میرے ، سازش آر ایس ایس کی الزامات پولیس کے ؟

محمد مصطفی علی سروری
فیس بک ہو یا واٹس اپ ان کا استعمال ہماری روزمرہ کی زندگی میں کس قدر عام ہوگیا ہے اس کا اندازہ لگانا اب کچھ مشکل نہیں رہا ہے اور تو اور اب شادیوں کی اسم نویسی (بائیو ڈاٹا) اور تصاویر بھی واٹس اپ پر بھیجنے کی فرمائش عام ہوگئی ہے ۔ عوامی ترسیل کے ان نئے ذرائع نے ہماری زندگی کو سہولت بخش بنایا ہے یا ہماری مشکلات میں اضافہ ہوا ہے ۔ یہ ایسے موضوعات ہیں جس پر اب ہندوستانی یونیورسٹیوں کو بھی جامع تحقیق کرنے کی ضرورت ہے ۔ خیر میں اب اپنے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں کہ واٹس اپ کا استعمال کن کن کاموں میں انجام دہی کے لئے ہورہا ہے ۔ اس کے متعلق سب جانتے ہیں ۔ ایسا ہی ایک استعمال ہے لطائف بھیجنے کا ۔ ایسا ہی ایک لطفیہ گزشتہ کچھ دنوں سے بڑی تیزی کے ساتھ گشت کررہا ہے  ۔اب یہ لطیفہ کیا ہے اس کا ذکر بھی ضروری ہے ۔ ایک اسکول کے بچے کا جوابی بیاض answer sheet کی فوٹو ہے ۔ پرچہ میں سوال ہے کہ تعلیم کیا ہے اور کیوں ضروری ہے ؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے طالب علم لکھتا ہے ۔
’’تعلیم ایک زیور ہے اور زیور مرد پر حرام ہوتا ہے اس لئے ہم لڑکے اس کو حاصل نہیں کرتے‘‘ ۔ طالب علم کے جوابی بیاض پر ٹیچر نے لال سیاہی سے لکھا ’’نمبر بھی تم پر حرام ہیں‘‘ ۔
مجھے نہیں معلوم ہے کہ کتنے لوگوں نے اس چیز کو لطیفہ ہی سمجھ کر دوسرے لوگوں کو فارورڈ کیا ۔ مجھے بھی چند احباب نے یہ لطیفہ بھیجا پہلے تو میں نے اس کو نظر انداز کردیا لیکن جب ایک سے زائد لوگوں نے اس لطیفے کو مجھے فارورڈ کیا تو میں نے اس لطیفہ کوغور سے پڑھا اور مجھے احساس ہوا کہ واقعی یہ کوئی لطیفہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے اور ایسی حقیقت ہے کہ مسلمان قوم اس حقیقت سے آنکھ موڑ کر اپنی خام خیالی میں مگن ہے کیونکہ مسلم سماج کے لڑکوں نے واقعی تعلیم کو ایک زیور سمجھ رکھا ہے اور اسی سمجھ کو بنیاد بنا کر مسلم لڑکے تعلیم کے میدان میں بڑی تیزی سے مسلم لڑکیوں سے پچھڑتے جارہے ہیں ۔
9 مارچ کو اخبارات میں ایک چھوٹی جرائم نیوز شائع ہوئی خبر کے مطابق آصف نگر کے ایک اسکول میں زیر تعلیم دو لڑکے جو بالترتیب ساتویں اور دسویں جماعت کے طالب علم تھے ، بریانی کھانے کے شوق میں لوگوں کے موبائل فون چوری کرنے لگے تھے ۔ پولیس ذرائع کے حوالے سے خبر میں لکھا تھا کہ یہ دونوں نابالغ لڑکے دراصل روزانہ آصف نگر کی ایک ہوٹل میں بریانی کھانے کے شوقیں تھے اور روز بریانی کھانے کے لئے ان کے ہاں کوئی مستقل آمدنی کا ذریعہ بھی نہیں تھا اس لئے ان دونوں نے لوگوں کے موبائل فون چوری کرنا شروع کیا ۔ موبائل فون چرا کر اس کو بیچ کر یہ دونوں ہوٹل میں پیٹ بھر بریانی کھاتے ، کولڈرنکس پی کر خوب مزے کرتے ، جب پولیس کے ہتھے چڑھ گئے تو اعتراف جرم کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا  ۔
ایک اخباری نمائندے سے جب ہم نے اس واقعہ کے متعلق تفصیلات پوچھی تو انھوں نے جواب دیا ارے صاحب بچے ’’اپنے‘‘ نہیں ہیں ۔ آپ کیوں پریشان ہورہے ہیں ۔ میری پریشانی یہ تھی کہ بچے جن کلاسوں میں پڑھتے ہیں اور جس عمر کے ہیں ایسی مشکلات کسی ایک مذہب کے ماننے والے بچوں تک ہی محدود نہیں ہے ۔ بچے اپنے ہوں تو کیا وہ دودھ کے دھلے ہوتے ہیں ۔ اگر اب بھی یقین نہ آئے تو 16 مارچ کو پکڑے جانے والے ان دو طالب علموں کی خبر کو دوبارہ پڑھ لیجئے گا کہ خبر کے مطابق  انٹر کے دو طالب علموں نے انٹر کے سپلیمنٹری امتحان لکھنے کے دوران نقل کرنے کے لئے بلیو ٹوتھ مائک اور ear فون استعمال کرنے کی کوشش کی اور تلاشی کے دوران میں پکڑے گئے ۔ 16 مارچ کی اس خبر کی تفصیلات کے مطابق cheating کی اس کوشش میں پکڑے جانے والے دونوں طالب علم 19 برس کے تھے اور اخبارات نے باضابطہ طور پر ان کے نام لکھے جس سے معلوم ہوا کہ یہ بچے ’’اپنے‘‘ ہی تھے ۔
صرف 16 مارچ کی ہی خبر نہیں اس سے کچھ دن قبل سنٹرل زون کی ٹیم نے گولکنڈہ کے علاقے سے 20 اور 23 برس کے دو نوجوانوں کو ری یٹیلرس amazon اور فلپ کارٹ کو دھوکہ دینے کے جرم میں گرفتار کرلیا ۔ پولیس کے مطابق یہ دونوں پہلے تو آن لائین ویب سائٹس پر جا کر فون اور لیاب ٹاپ وغیرہ خریدتے اور گھر پر جب ڈیلیوری بوائے آرڈر کیا ہوا سامان دینے آتے تو اس کو وصول کرکے گھر کے اندر پیسے لانے جاتے ، اندر جاکر پارسل میں سے اصلی سامان نکال کر وہاں مٹی یا مساوی وزن کا پتھر رکھ کر اسکو دوبارہ پیاک کرکے باہر آتے اور ڈیلیوری بوائے کو ایک ایسا Debit کارڈ دیتے جس بینک کے اکاونٹ میں رقم ہی نہیں ہوتی ۔ تب ڈیلیوری بوائے کو  sorry کہہ کر پارسل واپس کردیتے تھے ۔ بدقسمتی کہوں یا کچھ اور اخبارات نے ان دونوں کے نام بھی خبر کے ساتھ ہی شائع کئے جس سے پتہ چلتا تھا کہ یہ دونوں بھی ’’اپنے‘‘ ہی ہیں ۔ ایک اگنو سے سائیکالوجی کی تعلیم حاصل کررہا ہے ، دوسرا بی بی اے کا طالب علم ہے۔
3 مارچ کو سکندرآباد کے علاقے سواپنا لوک کامپلکس میں سنجے جانگے نامی ایک نوجوان کا صبح کے وقت عین سڑک پر قتل کردیا جاتا ہے ۔ جمعرات کو ہوئے قتل کے اس واقعہ کے بعد 7 مارچ کو رام گوپال پیٹ پولیس نے 18 سال کے دو لڑکوں ، 19 سال کا ایک اور 22 سال کے ایک ، جملہ چار لڑکوں کو پرانے شہر حیدرآباد سے گرفتار کرلیا۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق 3 مارچ کی صبح یہ چاروں نوجوان ہتھیاروں کے ساتھ کار میں تصفیہ کرنے کے لئے جارہے تھے ۔ راستے میں سنجے نامی شخص ان سے لفٹ مانگتا ہے اور یہ لوگ اس کو اپنی کار میں بٹھالیتے ہیں ۔ کار میں سفر کے دوران ان چار نوجوانوں کا سنجے سے جھگڑا ہوجاتا ہے ۔ بس کیا تھا ، یہ لوگ سنجے کو فوری طور پر اپنی گاڑی سے اتار دیتے ہیں اور پھر ان کے پاس موجود ہتھیاروں سے سنجے کو عین سڑک پر مار کر ہلاک کردیتے ہیں ۔ اس کے بعد اخباری اطلاعات کے مطابق یہ چاروں ماہر نوجوان پولیس کو چکمہ دینے کے لئے اپنی کار ریورس میں چلاتے ہوئے  20 منٹ میں پرانے شہر کو واپس پہنچ جاتے ہیں ۔ لیکن پولیس 3 دن میں ان تک جا پہنچتی ہے اور چاروں کو گرفتار کرلیتی ہے ۔ پولیس کے مطابق ان چاروں میں 22 برس کا ایک نوجوان عصمت ریزی کے ایک کیس میں پہلے سے ہی ماخوذ ہے ۔ انگریزی کے علاوہ دیگر اخبارات نے بھی کرائم نیوز کے صفحے پر اس خبر کو شائع کیا اور چاروں ملزمان کے نام بھی شائع کئے ۔ میں کیا کروں مجھے اس بات کا اعتراف کئے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ یہ چاروں بھی اپنے ہی لوگ ہیں ۔
مجھے واٹس اپ پر بھیجا گیا لطیفہ ایسا لگ رہا ہے کہ لطیفہ نہیں ہے بلکہ لوگ میرا مذاق اڑارہے ہیں ۔ میرا مذاق ہی نہیں میری پوری قوم کا مذاق بنایا جارہا ہے ۔ یاالہی میں کیا کروں میں اور میری قوم اب سوچنے اور سمجھنے کی اتنی بھی صلاحیت نہیں رکھتی کہ خود پر کئے جانے والے مذاق کو بھی سمجھنے سے قاصر ہے ۔ یہ میری اور میری قوم کی کیسی بے حسی ہے ۔
ہمارا مستقبل ہمارے نوجوان تعلیم سے کوسوں دور جارہے ہیں ۔ تعلیم سے ہی نہیں بلکہ ہر فائدہ مند چیز سے بھاگ رہے ہیں ۔ اپنے آپ پر اپنے گھر والوں پر اپنی قوم پر ظلم کئے جارہے ہیں۔ یقیناً یہ ضرور کسی دشمن کی سازش ہے ۔ یا تو آر ایس ایس اس کے لئے ذمہ دار ہے ورنہ یہودی لابی تو کسی طرح اس کے پیچھے سرگرم ہوسکتی ہے ؟
کیا واقعی میں نے مسئلے کی جڑ پکڑلی ہے ۔ اگر ہاں تو یہ بڑی خوشی کی بات ہے ۔ جو کام بہت سارے لوگ نہیں کرسکے ، میں نے تنہا وہ کام کردیا ہے ۔ کہ اپنے دشمن کا پتہ چلا لیا اور ان کی سازش بے نقاب ہوگئی ہے ۔ دراصل آر ایس ایس اور یہودی مشترکہ طور پر ہمارے نوجوانوں کو جرائم کی طرف راغب کرنے کے لئے مصروف عمل ہیں ۔
لیکن میں ایسا کیوں سمجھ رہا ہوں کہ میں نے کسی پر الزام لگا کر کوئی بہت بڑا تیر مار لیا ہے ۔ کیونکہ یہ میری کم علمی ہوگی اگر میں یہ دعوی کروں کہ میں نے ہی ساری قوم کے دشمن کو ڈھونڈ نکالا ہے ۔ کیونکہ میں مسلمانوں کے قائدین کی تقریروں کو دیکھوں یا مسلم علماء اور مذہبی قائدین کے بیانات کو پڑھوں ۔ سب ایک زبان ہو کر آر ایس ایس اور یہودیوں کو ہی ہمارے خلاف سازش رچنے والا قرار دیتے ہیں۔
لیکن مجھے یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ میرے اپنے بچے انٹرمیڈیٹ کے امتحان کے لئے اچھی سی تیاری نہیں کررہے ہیں اور مجھے ان کا ریزلٹ آنے تک معلوم ہی نہیں ہورہا ہے کہ میرا لڑکا اکنامکس میں فیل ہوگیا ہے ۔ اور اس کو civics کے مضمون میں سکنڈ کلاس مارکس آئے ہیں ۔ مجھے تو نتیجہ آنے تک یہ بھی نہیں معلوم ہوا کہ میرا لڑکا کالج جانے کے لئے ہر روز گھر سے تو نکلتا تھا لیکن اب کالج پرنسپل کہتے ہیں کہ آپ کے بچے کی Attendance بہت کم تھی ۔ ہم نے تو آپ کے بچے کو کہلا بھیجا تھا کہ اپنے والدین کو ساتھ لیکر آؤ ۔ آپ کی wife آئی تھیں تو انھوں  نے کہا کہ گھر پر کچھ پریشانیاں چل رہی تھیں ۔ اس لئے آپ کا لڑکا کالج کو پورے دن حاضر نہیں ہوسکا ۔ یہاں تک کہ مجھے خود اپنی بیوی نے یہ نہیں بتایا کہ وہ میرے لڑکے کی short attendance کے لئے کالج ہو کر آئی ہے ۔ اب وہ کہتی ہے کہ آپ بچے کو غصہ کریں گے اور آپ کی طبیعت خراب ہوجائے گی ، پہلے ہی آپ کو جاب کی پریشانیاں الگ ہیں اس لئے میں ایک مرتبہ بچے کے کالج کو گئی تھی ۔
اب کوئی یہ بتائے بچے کی ناکامی کے لئے یا امتحان ہال میں جب میں بلیو ٹوتھ کے ساتھ پکڑا جاتا ہے تو اس کے لئے آر ایس ایس ذمہ دار ہے یا میں بھی ذمہ دار ہوں ؟
کیا یہ میری ذمہ داری نہیں کہ میں بچے کی امتحان کی تیاری کے حوالے سے کبھی دریافت کروں ۔ کبھی اس کے کالج کو جاکر ٹیچر یا پرنسپل سے پوچھ لوں کہ بھئی میرا لڑکا کیسا ہے ؟
میرے بچے کے ہاں ہر ہفتہ ایک نیا موبائل فون آرہا ہے ۔ ادھر مارکٹ میں نیا برانڈ آیا ، ادھر وہی برانڈ میرے لڑکے کے ہاتھ میں کیسے پہنچ رہا ہے ۔ کیا میں کبھی سوچا؟ ایک لیاپ ٹاپ خریدنے میں مجھے دس برس لگ گئے اور میرے بچے کے ایسے کونسے دوست ہیں جو اس کو اپنا لیاپ ٹاپ دے کر واپس لینے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں ۔ اس بات پر مجھے فکر کیوں نہیں ہورہی ہے ۔ کیا میں نے کبھی غور کیا ؟کیا میرے بچے کے دوستوں کے پاس ایسے کون سے sources ہیں کہ وہ ہر وقت کاروں میں گھومنے جاتے ہیں ۔ کون ہے جو ان کو کار دے کر اس کو چلانے کے لئے روزانہ پٹرول ڈلواتا ہے ۔ اگر میں پولیس کی باتوں پر یقین کروں تو ’’ہمارے‘‘ بچوں کے ہاں سے چوری کے موبائل فون ، لیاپ ٹاپ ، سونے کے زیورات ، ٹووھیلرس ، کاریں ، کریڈٹ کارڈ اور کیا نہیں ہر چیز تو نکلتی ہی ہے اور تو اور پولیس کے ہاتھ لگنے والے ہمارے بچوں کے پاس سے خطرناک ہتھیار ، چاقو ، خنجر ، تلوار اور معلوم نہیں کیا کیا برآمد ہورہا ہے ۔ کیا یہ میری ذمہ داری نہیں کہ میں اپنے بچوں کے کمروں پر نظر رکھوں ۔ وہ اپنے ساتھ کیا کیا چیزیں رکھ رہے ہیں ۔ اور آر ایس ایس ان کو کیا چیزیں سپلائی کررہا ہے ؟
ارے نہیں بھائی میرے گھر میں تو آر ایس ایس کا سایہ بھی نہیں پڑسکتا ہے ۔ آپ کیا بولے جارہے ہیں ۔ اگر آپ کا یہ جواب ہے تو میں اس پر یقین کرلوں گا ۔ یقین مانئے آنکھ بند کرکے میں آپ کی بات مان لوں گا اور اللہ کا شکر ادا کروں گا کہ آر ایس ایس میں ابھی اتنی ہمت نہیں کہ ہمارے گھروں میں قدم رکھ سکے ۔ لیکن بڑے ہی ادب و احترام سے میرا آپ سب سے سوال ہے کہ میرے لڑکوں کی تعلیم و تربیت کے لئے میں ہی ذمہ دار ہوں یا نہیں ۔ اگر آپ ہی آپ کے لڑکوں کے ہر کام کے لئے ذمہ دار نہیں ہیں تو پھر کون ذمہ دار ہے ۔ خدارا ہوش کے ناخن لیجئے گا ۔ یاالہی تو مجھے ، میرے بچوں کو اور میری ملت کو رسوائی کا سامان بننے سے بچالے (آمین)
بقول شاعر میری حالت تویہ ہے کہ ؎
اپنی حالت کا خود احساس نہیں ہے مجھ کو
میں نے اوروں سے سنا ہے کہ پریشان ہوں میں
[email protected]

TOPPOPULARRECENT