Friday , September 22 2017
Home / مضامین / بڑی ہمت والے ہیں جن کی محنت جان ہے

بڑی ہمت والے ہیں جن کی محنت جان ہے

محمد مصطفی علی سروری
حیدرآباد کے آٹو ڈرائیورس ان دنوں میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ پہلے تو ایک آٹو ڈرائیور بابا کی ایک اجنبی خاتون سے ہمدردی کی خبریں مقامی اخبارات ہی نہیں قومی اخبارات  میں بھی شائع ہوئی ہیں ۔ انگریزی اخبار فینانشیل اکسپریس نے 16 اپریل 2017 ء کو آٹو ڈرائیور بابا کی کہانی کو شائع کیا ۔ تفصیلات کے مطابق بنگلور کی متوطن ایک خاتون شہر حیدرآباد کے ایک قونصل خانے میں انٹرویو دینے کیلئے آتی ہے ، وریجا شری نامی اس حاتون کو ویزا فیس جمع کرنے کا مرحلہ آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ  اس کے ہاں رقم کم ہے ۔ تب وہ خاتون باباکے آٹو میں سوار ہوکر بینک کے ATM کا رخ کرتی ہے ۔ ایک ATM دو ATM 10 جگہ جانے پر بھی خاتون کو پیسے نہیں نکلتے ، خاتون اس صورتحال پر کافی پریشان ہوجاتی تب آٹو ڈرائیور بابا اس اجنبی خاتون مسافر کو اپنی جیب سے 3 ہزار روپئے نقد دیتا ہے تاکہ خاتون اپنی ویزا فیس فوری جمع کرواسکے ۔ بنگلور کی اس پریشان حال خاتون حیدرآباد کے آٹو ڈرائیور کی ہمدردی سے بے حد متاثر ہوجاتی ہیں۔ وریجا شری نے آٹو ڈرائیور بابا کے ساتھ نہ صرف ایک تصورپر کھنچوائی بلکہ اپنے فیس بک پر بابا کی تصویر کو “Share” کرتے ہوئے لکھا کہ ’’بابا تم نے مجھے یقین دلایا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا مذہب انسانیت کا ہے ‘‘۔ وریجا نے مزید لکھا کہ ’’بابا سے اس نے زندگی کا ایک اہم سبق سیکھا ہے ، یہ تو خیر سے گزشتہ مہینے اپریل کی خبر تھی اس مہینے میں اخبارات نے حیدرآباد کے ایک اور آٹو ڈرائیور کے بارے میں خبر شائع کی ۔ 8 مئی 2017 ء کو خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے توسط سے انگریزی اخبار دکن کرانیکل نے ایک خبر شائع کی ۔ خبر کی تفصیلات کے مطابق شہر حیدرآباد کے جاوید خان محکمہ پولیس میں ہوم گارڈ کے طور پر کام کرتے ہیں ۔ ان کی عمر  45 برس ہے اور ان کو چار لڑکیاں اورا یک لڑکا ہے ۔ وہ اپنے سبھی بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کے خواہشمند ہیں، ان کی بڑی لڑکی چارٹرڈ اکاونٹنٹ بننے کیلئے تعلیم حاصل کر رہی ہے ۔ اس کے علاوہ دیگر بچے بھی ابھی اسکول جارہے ہیں، ان بچوں کی تعلیم پر جاوید خان کو ماہانہ کئی ہزار کا خرچہ ہورہا ہے ۔ جاوید خان نے پی ٹی آئی کو بتلایا کہ انہوں نے خود انٹرمیڈیٹ کے دوران ہی تعلیم ترک کردی لیکن وہ چاہتے ہیںکہ ان کے بچوں کو تعلیم ترک کرنا نہ پڑے ۔ اپنی مالی تنگی کے سبب جاوید خان نے ہوم گارڈ کی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ آٹو چلانا شروع کیا ۔ ہوم گارڈ کی تنخواہ 12 ہزار مل رہی ہے ، ساتھ میں آٹو چلاکر وہ روزانہ 300 روپئے کما رہے ہیں ۔ جاوید خان کی بیوی بھی گھر پر بیٹھ کر ایمبرائیڈری کا کام کرتے ہوئے شوہر کا ہاتھ بٹاتی ہے ۔ جاوید خان کی لڑکیاں بھی اپنے والد کی معاشی حالت سے واقف ہیں۔ اس لئے وہ اپنے والد سے دیگر لڑکیوں کی طرح اسمارٹ فون دلوانے کی ضد نہیں کرتی۔ جاوید خان کی کہانی میڈیا کے ذریعہ سے جیسے ہی عام ہوئی لوگوں نے ریاستی حکومت اور اقلیتی  بہبود کے محکمے سے جاوید کے بچوں کو اسکالرشپس دینے اور جاوید کی مدد کرنے کی سفارش کردی ۔

حیدرآباد کے اس آٹو ڈرائیور کی کہانی قارئین اکرام ہمیں اس رجحان کے متعلق بتلاتی ہے کہ مسلمانوں میں ایمانداری ، اچھی تربیت اور اعلیٰ تعلیم سے اپنے بچوں کو آراستہ کرنے کی  فکر سب سے زیادہ متوسط اور نچلے متوسط  طبقے کو ہے، یہ لوگ اپنے بچوںکو اچھی تربیت کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم دلواکر ان کو حقیقی معنوں میں اپنے پیروں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ کیا صرف حیدرآباد کے آٹو ڈرائیورس ہی اپنے بچوں اور خاندان کے لئے محنت کر رہے ہیں؟ کیا دوسرے شہروں کے آٹو ڈرائیورس کو مسائل کا سامنا نہیں ہے ۔ کیا مسائل کے سبب ان لوگوں نے ہمت ہاری ہے اور سب سے اہم سوال کیا ان آٹو ڈرائیورس سے اور ان کی جدوجہد سے عام آدمی کے لئے سیکھنے کا کچھ سامان ہے یا نہیں۔

15 مئی کو ممبئی کے انگریزی اخبار “Mumbai Mirror” نے تانوی دیشپانڈے کی ایک رپورٹ شائع کی ۔ رپورٹ کے مطابق ورسوا کے رہنے والے محمد سعید ایک آٹو ڈرائیور ہیں، ان کی عمر 26 برس ہے اور اترپردیش سے تعلق رکھتے ہیں۔ گزشتہ 10 برسوں سے وہ ممبئی میں رہتے آرہے ہیں، ان کے دو بچے ہیں، ایک لڑکا دو سال کا ، دوسری لڑکی تین مہینے کی ، سعید کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب پندرہ دن پہلے اس کی بیوی کو اچانک فالج کا حملہ ہوا جس کے پنجے میں سعید کی بیوی کے جسم کا بایاں حصہ مکمل مفلوج ہوگیا اور اب وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال تو دور خود اپنے کام بھی کرنے کے قابل نہیں اور بستر تک محدود ہوگئی۔ اس پریشانی میں بھی سعید نے ہمت نہیں ہاری، تین مہینے کی بچی کو پڑوس کے ہاں چھوڑا ، بیمار بیوی کو دواخانہ سے ڈسچارج کرواکر گھر چھوڑا اور دو سال کے بچے کو اپنے گود میں بٹھاکر آٹو چلانا شروع کیا۔
کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا نہ ہی بچے کو گود میں بٹھاکر لوگوں سے ہمدردی بٹورنے کی کوششیں کی ۔ ممبئی کی سڑکوں پر اور گرما کے موسم میں سعید پچھلے دو ہفتوں سے آٹو چلا رہا ہے ، اس منظر کو کئی لوگوں نے دیکھا ۔ جب کسی نے سعید سے پوچھا کہ تم اپنے بچے کو گھر پر کیوں نہیں چھوڑ دیتے تو سعید نے بتلایا کہ چھوڑنے کو چھوڑ تو دیتا مگر چونکہ اس کی ماں مفلوج ہے اور بچے کو سنبھال نہیں سکتی تو بچے کو آٹو میں لیکر ہی کمانے نکل پڑا۔ ممبئی فلموں کی نگری ہے اسی نگری کے رہنے والے فلم ڈائرکٹر ونود کاپری نے جب سعید کو اپنی گود میں بٹھاکر آٹو چلاتے دیکھا تو جذبہ ہمدردی کے تحت سعید کی فوٹو اور فون نمبر ٹوئیٹر پر لکھ ڈالا۔ یوں لوگوں کو سعید کی کہانی معلوم ہوئی اور پھر بہت سارے میڈیا والوں نے سعید کے متعلق خبریں شائع کی۔ خاص کر سعیدکی وہ تصویر جس میں اس کا لڑکا اس کے گود میں ہی سوگیا اور وہ آٹو کے ہینڈل کو بھی پکڑا ہوا ہے اور اپنے سوئے ہوئے معصوم بچے کو بھی سنبھالا ہوا ہے ۔

یہ تو ممبئی کے جرأت مندآٹو ڈرائیور سعید کی کہانی ہے جس نے سخت محنت کرنا گوارا کیا مگر کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے اور اکل حلال کیلئے آ ٹو چلاتا رہا ۔ خدا بھلا کرے ان لوگوں کا جو ایک محنتی شخص کو محنت کے علاوہ لوگوں سے مانگنے کی ترغیب دلا رہے ہیں۔ کیا محنت کرنا جرم ہے ، محنتی شخص کیا صرف ہماری ہمدردی کا ہی مستحق ہوتاہے ، کیا ہم نے کبھی سوچا ہے ۔ آٹو ڈرائیورس کی محنت کیسے کیسے رنگ دکھا رہی ہے ۔ انگریزی اخبار TOI نے 11 مئی 2017 ء کو ایک ایسی لڑکی کی اسٹوری شائع کی جس کے والد آٹو چلاکر گھر کا خرچ پورا کرتے ہیں۔ احمد آباد میں فرحانہ باوانی کے والد آٹو چلاتے ہیں، فرحانہ بادانی ہی گجرات کی وہ لڑکی ہے جس نے پوری ریاست میں 12 ویں کے امتحان میں (99.52) فیصد مارکس حاصل کرتے ہو ئے نمایاں کامیابی حاصل کی ۔ فرحانہ نے TOI کو بتلایا کہ وہ میڈیسن پڑھ کر کارڈیالوجسٹ بننا چاہتی ہے ۔ NEET کا امتحان بھی اس نے گجراتی زبان میں لکھی ہے ۔ فرحانہ نے اخبار کو بتلایا کہ وہ عام دنوں میں 5 تا 6 گھنٹے پڑھا کرتی تھی اور امتحانات کے دوران وہ روزانہ 10 گھنٹے پڑھا کرتی تھی ۔ فرحانہ آج بھی اخبار کیلئے تصویر کھنچوانے کیلئے اپنے والد کے ساتھ فخر سے کھڑی تھی اور پیچھے آٹو تھا ۔

خبروں کے ہجوم میں اس برس جنوری کی 24 تاریخ کو ایک خبر Mumbai Mirror میں شائع ہوئی چونکہ یہ خبر بھی ایک آٹو ڈرائیور سے متعلق ہے تو اس کا یہاں پر ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ خبر کی تفصیلات میں بتلایا گیا کہ گھاٹ کوپر ممبئی کے رہنے والے فرانسیس اپنی روٹی روزی کمانے کیلئے آٹو چلاتے ہیں ان کی دو لڑکیاں ہیں اور دوسری لڑکی اسٹیفی فریرا نے 25 سال کی عمر میں چارٹرڈ ا کاؤنٹنٹ (CA) کا امتحان کامیاب کر کے اپنے والد کا سر فخر سے اونچا کردیا ۔ فرانسیس جہاں آٹو چلاتے ہیں وہیں اسٹیفی کی ماں لوگوںکے گھروں میں کام کر کے گھر چلانے میں ہاتھ بٹاتی ہے۔ والدین نے خود محنت کی اور اپنی لڑکی کو کامیابی کیلئے ہر ممکنہ تعاون کیا ۔ اسٹیفی کے والد ہر روز  10 ، 10 ، 20 ، 20 روپئے آٹو چلاکر نوٹوں کی شکل میں جمع کرتے تھے اور اپنی لڑکی کی فیس کے طور پر یہی نوٹ ادا کرتے تھے ۔
یہ تو آٹو ڈرائیورس کی وہ کہانیاں ہے جو میری نظروں سے گزری جن کو گزشتہ عرصہ میں مختلف اخبارات اور میڈیا گھرانوں نے کوریج دیا ۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ آٹو ڈرائیورس کی ان کہانیوں کو پڑھ کر عام عوام کو کیا سبق مل سکتا ہے ۔

حیدرآباد کے جاوید خان ہوں یا ممبئی کے سعید ان لوگوں نے اپنی ضروریات کی تکمیل کیلئے اپنے مسائل کے حل کیلئے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا گوارا نہیں کیا ، اپنی قوت بازو پر بھروسہ کیا ، مگر ہمارا یہ المیہ ہے کہ ہم جاوید خان ہو یا سعید ان کو ایک چیز سکھانے پر مصر ہے کہ بھیا تم پریشان ہو تو اپنی پریشانی لوگوں کو سناؤ اپنی قوت بازو کے بجائے لوگوں کی امداد پر بھروسہ کرو۔ اب سننے میں یہ آیا کہ جاوید ہو یا سعید ان کو لوگ آٹو چلانا چھوڑ کر مختلف افراد اور اداروں سے مدد مانگنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ کیا یہی ا یک راستہ صحیح ہے ، سوچنا ہوگا ۔ اگر جاوید و سعید ضرورت مند ہیں تو کیا ’’ہماری زکوٰۃ کے مستحق نہیں ؟ ان سوالات کے جواب ہمیں ہی ڈھونڈنے ہوں گے۔ محنت کرنے والوں کو محنت سے دور کرنا ہمدردی نہیں ہوسکتی ہے ۔ محنتی لوگوں پر ترس کھانے کی نہیں بلکہ ترغیب لینے کی ضرورت ہے ، ہاں ان کے لئے کچھ آسانیاں پیدا کرو ، ان کو ان کی جڑوں سے نہ کاٹو۔ ان کی محنت ان کی جان ہے ۔ ان سے ان کی جان نہ چھینو اور سنو مسلمانوں محنت کو عیب ، تو نہ بناؤ معلوم نہیں کتنے لوگ ہیں جنہوں نے محنت کو عیب سمجھا اور دوسروں کی محنت کی ہنسی اڑائی اور کئی نوجوان اسی سبب غلط راستے پر چل پڑے (اللہ اکبر) اللہ ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT