Tuesday , April 25 2017
Home / Top Stories / بڑے نوٹوں کی تنسیخ کا مسئلہ :مودی حکومت سے دو سوال

بڑے نوٹوں کی تنسیخ کا مسئلہ :مودی حکومت سے دو سوال

جنوری تا ستمبر بینک ڈپازٹس میں اچانک اضافہ کی وجہ کیا تھی ؟ ‘ کیاکالا دھن کے ذخیرہ اندوزوںکو پیشگی اطلاع تھی
نئی دہلی ۔20نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) نریندر مودی حکومت 500 اور 1000روپیوں کی نوٹس منسوخ کرنے کے بعد پیدا ہونے والی اتھل پتھل سے نمٹنے کیلئے جدوجہد میں مصروف ہے جبکہ زیر گشت 86فیصد نوٹ واپس کردیئے گئے ہیں ۔ حالانکہ 11دن گزر چکے ہیں لیکن عام آدمی اب بھی مرکزی حکومت کے جادو کے توڑ میں مصروف ہے ۔ عام آدمی نہیں جانتا کہ وہ نوٹوں کی تنسیخ پر وزیراعظم کی تعریف کرے یا انہیں تنقید کا نشانہ بنائے ۔ دو باتوں کا جواب ہنوز حاصل نہیں ہوسکا ہے ۔ پہلا سوال یہ ہے کہ جولائی سے ستمبر کی مدت کے دوران بینک میں ڈپازٹ کی جانے والی رقموں میں نمایاں طور پر اضافہ کیوں ہوا ۔ ان تین مہینوں کے دوران ستمبر ختم تک کم از کم چھ لاکھ کروڑ روپئے بینکوں میں ڈپازٹ کئے گئے ۔ گذشتہ 19سال کی یہ اعظم ترین نوٹوں کی تعداد ہے ۔ ایک تجزیہ کے بموجب جو  فرسٹ پوسٹ کی تحقیقی ٹیم نے کیا ہے ۔ حکومت اور آر بی آئی بینکوں میں ڈپازٹ کی جانے والی رقم میں اس اچانک اضافہ کا جو جولائی سے ڈسمبر کی سہ ماہی میں ہوا کیا وضاحت کرے گی ۔ یہ ایسا اضافہ ہے جس پر ماہر معاشیات بھی حیران ہے ۔ بیشتر بینکوں کے بموجب یہ منفی ترقی ہے اور معیشت اب بھی انحطاط کے مرحلہ میں ہے ۔ آر بی آئی کو فراہم کردہ اعداد و شمار کے بموجب 5.9 لاکھ کروڑ روپئے جون سے ستمبر کے دوران ڈپازٹ کروائے گئے ۔

اس طرح 5.893 ارب روپیوں کا اضافہ دیکھا گیا ۔ 30ستمبر تک 5.89لاکھ کروڑ روپئے جمع کروائے گئے ۔ جیسا کہ قبل ازیں کہا گیا ہے ڈپازٹ میں اضافہ کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ یقینی طور پر یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ڈپازٹس کے ذرائع معلوم کرنا ضروری ہوگیا ہے ۔ اس کی آر بی آئی کی جانب سے وضاحت کی ضرورت ہے ۔ سابق ڈی جی ایم ‘ ایس بی آئی نریش ملہوترہ نے فرسٹ پوسٹ کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ سی این بی سی ۔ ٹی وی 18 کی جانب سے اس اضافہ کی اطلاع کے بعد مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے اس مسئلہ کی اہمیت کم کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ ساتویں پے کمیشن کے بقایا جات کی ادائیگی ہے ۔ بقایا جات کی رقم 70ہزار کروڑ روپئے ہے ۔ اگر دی جانے والی رعایتوں کواس میں شامل کرلیا جائے تو یہ 1.5 لاکھ کروڑ روپئے سے بہرحال زیادہ نہیں ہوسکتی ۔ مرکزی وزیر فینانس کی وضاحت الجھن دور کرنے کیلئے کافی نہیں تھی ۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ کالا دھن کے ذخیرہ اندوز جنہیں اس بات کی خبر مل چکی تھی بڑی ہوشیاری سے اپنی غیر محسوب دولت کا جو 500 اور 1000کے نوٹوں پر مشتمل تھی بینکوں میں ڈپازٹ کروا رہے تھے ۔ اگر ایسا نہیں ہے تو اس کی اور کیا وجہ ہوسکتی ہے ۔ اس سے خفیہ دولت کو بینکنگ کے نظام میں شامل کرنے میں مودی حکومت ‘ آر بی آئی اور بینکوں کے ارکان عملہ کی ملی بھگت کا انکشاف ہوتا ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT