Friday , August 18 2017
Home / ہندوستان / بڑے گوشت پر امتناع پی ڈی پی کے اجلاس کا ممکنہ موضوع

بڑے گوشت پر امتناع پی ڈی پی کے اجلاس کا ممکنہ موضوع

خطہ قبضہ پر ہند ۔ پاک صلح کا خیرمقدم، چیف منسٹر جموں و کشمیر مفتی سعید کا بیان
سرینگر 23 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کے چیف منسٹر مفتی محمد سعید نے ایک ’’اہم‘‘ پارٹی اجلاس آج شام طلب کیا ہے جہاں بڑے گوشت پر امتناع کا پیچیدہ مسئلہ غور و فکر کا امکانی موضوع ہوگا۔ پارٹی کے وزراء، ارکان اسمبلی اور عہدیدار تمام کو اجلاس میں شرکت کی ہدایت دی گئی ہے۔ امکان ہے کہ اجلاس میں ریاست کی صورتحال پر بھی غور کیا جائے گا جو بڑے گوشت پر امتناع کے متنازعہ فیصلہ کے بعد پائی جاتی ہے۔ امکان ہے کہ پارٹی دیگر اہم مسائل بشمول بڑے گوشت پر امتناع پر اجلاس میں تبادلہ خیال کرے گی اور امکان ہے کہ اِس مسئلہ پر اِس کے موقف کا تعین کیا جائے گا۔ جموں و کشمیر میں بڑے گوشت پر امتناع سے برسر اقتدار اتحاد کے شرکاء میں انتشار پیدا ہوگیا ہے۔ پی ڈی پی کا کہنا ہے کہ امتناع ناقابل قبول ہے جبکہ بی جے پی اِس کے سختی سے نفاذ پر زور دے رہی ہے۔ دو لاء آفیسرس جن کا تعلق ریاست سے ہے، کل برطرف کردیئے گئے کیوں کہ مبینہ طور پر وہ بڑے گوشت کے معاملہ میں ہائی کورٹ کے امتناع پر پی ڈی پی حکومت کے موقف کا دفاع نہیں کرسکے تھے۔ جموں و کشمیر کی ہائیکورٹ نے حال ہی میں حکم جاری کیا ہے کہ 1932 ء کا قانون جس کے تحت ریاست میں ذبیحہ گاؤ اور اُس کے گوشت کی فروخت پر سخت امتناع عائد ہے۔ دریں اثناء چیف منسٹر جموں و کشمیر مفتی محمد سعید نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خطہ قبضہ پر کشیدہ صورتحال ختم کرنے کے لئے صبروتحمل اختیار کرنے کے تازہ ترین معاہدہ کا خیرمقدم کیا۔ اُنھوں نے اِن مذاکرات کو پائیدار اور مسلسل عمل قرار دیتے ہوئے کہاکہ عوام کو دونوں ممالک سے توقعات ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعظم پاکستان نواز شریف 70 ویں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر جاریہ ہفتہ ملاقات کریں گے کیوں کہ لوگ اِس علاقہ میں امن کے منتظر ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر باہمی مذاکرات خوشگوار فضاء میں ہوئے اور امکان ہے کہ اِس سے اِس علاقہ میں امن اور استحکام کی فضاء بحال کرنے میں کافی مدد ملے گی۔ چیف منسٹر نے اُمید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان تازہ ترین صلح برقرار رہے گی اور دونوں ممالک دونوں مسائل کی خوشگوار یکسوئی کرسکیں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ اختلافات دور کرنے ایک نظام موجود ہے۔

TOPPOPULARRECENT