Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / بھائی چارگی اور رواداری ہندوستانی تہذیب کا حصہ: ہرش مندر

بھائی چارگی اور رواداری ہندوستانی تہذیب کا حصہ: ہرش مندر

کاروان محبت کے دوسرے مرحلے کا باپو گھاٹ سے آغاز
حیدرآباد۔12ستمبر(سیاست نیوز) منافرت کی فضاء کے خاتمہ کیلئے شروع کردہ ’کاروان محبت‘ کے دوسرے مرحلہ کی شروعات دہلی سے ہوئی جو کہ چار ریاستوں اترپردیش ‘ ہریانہ ‘ مدھیہ پردیش‘ راجستھان کا دورہ کرتے ہوئے مذہبی شدت پسندی کے شکار افراد اور ان کے لواحقین سے ملاقات کرے گا۔ دہلی سے شروع ہوا کاروان بس کے ذریعہ 4ریاستوں کا سفر شروع کرچکا ہے اور اس سفر کا آغاز گاندھی جی کی سمادھی راج گھاٹ سے کیا گیا جہاں سے کاروان سیدھے تلک وہار پہنچا جہاں مخالف سکھ فسادات کی یادگار پر گلہائے تعزیت پیش کرتے ہوئے تقریب کا انعقاد عمل میں لایاگیا اور سکھ طبقہ سے تعلق رکھنے والے 1984کے متاثرین سے ملاقات کی گئی جو 33سال بعد بھی انصاف کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مسٹر ہرش مندر سابق آئی اے ایس عہدیدار کی نگرانی میں جاری اس کاروان محبت کے دوران سکھ فسادات میں فوت ہونے والوں کی بیواؤں نے اپنی جدوجہد کی داستاں سنائی اور کہا کہ 33سال گذر جانے کے باوجود بھی وہ انصاف کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں کیونکہ اب تک انصاف کے نام پر انہیں تیقنات اور دلاسہ ہی دیا گیا ہے۔ مسٹر ہرش مندر نے بتایا کہ ملک میں مذہبی شدت پسندی کے خاتمہ کے لئے محبت کے ماحول کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور اس بات کو عام شہری اچھی طرح جانتا ہے لیکن اس کے باوجود آر ایس ایس اپنے نظریات کے فروغ کے ذریعہ ملک کی فرقہ وارانہ یکجہتی کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروان محبت سے جڑنے والے افراد اس بات کو عام کر رہے ہیں کہ ملک کی بقاء اور سلامتی کیلئے یہ ضروری ہے کہ ملک میں پر امن ماحول کی فراہمی اور مظلوم کے ساتھ انصاف کے عمل کو یقینی بنایاجائے کیونکہ جب تک مظلو موں کو انصاف حاصل نہیں ہوتا اس وقت تک قیام امن اور مذہبی جنون و تشدد کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہندستان میں 2014کے بعد سے اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لئے ایک نیا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور اسی سلسلہ کے تحت ہندستان میں مسلمانوں‘ عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کی مدد کیلئے دلتوں کے اٹھ کھڑے ہونے یا مسلم ۔دلت اتحاد فروغ پانے کے خوف سے دلتوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہاہے تاکہ مخصوص نظریہ کی حامل حکومت کی برقراری اور تسلط کو قانون کے دائرے میں اپنے پاس رکھا جا سکے۔ شرکاء نے کہا کہ ملک میں مخصوص فکر کے حامل سیاستداں ماحول کو مکدر کرتے ہوئے ہندو مسلم فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کر رہے ہیں۔ دہلی میں منعقدہ کاروان محبت کے اس خیرمقدمی پروگرام کے دوران مختلف تنظیموں کے طلبہ اور قائدین نے حصہ لیتے ہوئے کلچرل پروگرامس پیش کئے ۔ کاروان محبت دہلی سے روانہ ہواجہاں سے وہ اتر پردیش میں داخل ہوگا جہاں سے وہ ریاست شاملی میں رات گذارنے کے بعد اترپردیش کے دیگر علاقوں کے متاثرین سے ملاقات کیلئے روانہ ہوجائے گا۔

TOPPOPULARRECENT