Tuesday , August 22 2017
Home / ہندوستان / بھارت ماتا کی جئے، سے متعلق فڈنویس اور رام دیو کے ریمارکس پر اعتراض

بھارت ماتا کی جئے، سے متعلق فڈنویس اور رام دیو کے ریمارکس پر اعتراض

چیف منسٹر مہاراشٹرا سے معذرت خواہی اور یوگا گرو کے خلاف کیس درج کرنے سی پی ایم کا مطالبہ

نئی دہلی ۔ 4 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ’بھارت ماتا کی جئے‘ نعرہ کے مسئلہ پر دیویندر فڈنویس اور رام دیو کے ریمارکس پر شدید تنقید کرتے ہوئے سی پی ایم نے آج چیف منسٹر مہاراشٹرا سے کہا ہے کہ اپنے تبصرہ سے دستبردار ہوجائیں جبکہ یوگا گرو کے خلاف ایک کیس درج کرنے کا مطالبہ کیا ۔ فڈنویس کو نشانہ بناتے ہوئے لیفٹ پارٹی نے کہا کہ ان کا موقف دستوری عہدہ کی سنگین  خلاف ورزی ہے جس پر وہ فائز ہیں۔ ان کا یہ شخصی نقطہ نظر ایک چیف منسٹر کا نہیں بلکہ آر ایس ایس کا رکن کی حیثیت سے ہوسکتا ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا تھا کہ جو لوگ قوم پرستی پر ہندوتوا کے نظریہ سے اتفاق نہیں کرتے، انہیں ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ سی پی ایم پولیٹ بیورو نے ایک صحافتی بیان میں کہا کہ یہ ایک چیف منسٹر کا نہیں بلکہ آر ایس ایس کارکن کا نقطہ نظر ہوسکتا ہے جنہوں نے دستور کی پاسداری کا حلف لیا ہے ۔ پارٹی نے یہ بھی ادعا کیا کہ رام دیو کے موقف سے نفرت اور عدم رواداری کا ماحول بڑھتے ہوئے فرقہ واریت کا رخ اختیار کرلیا ہے، جن کی تقاریر سے تشدد اور فرقہ وارانہ منافرت کیلئے اکسایا جارہا ہے ، لہذا متعلقہ عہدیداروں کو چاہئے کہ یوگا گرو کے خلاف کیس درج کریں۔ دیویندر فڈنویس نے ہفتہ کی شب ناسک میں ایک جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ بھارت ماتا کی جئے کہنے پر آمادہ ہیں وہ ملک میں سکونت کا حق رکھتے ہیں اور جنہیں یہ نعرہ لگانے پر اعتراض ہے انہیں یہاںرہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ دوسری طرف رام دیو نے یہ کہتے ہوئے تنازعہ چھیڑ دیا کہ وہ ملک کے قانون اور دستور کا احترام کرتے ہیں ورنہ بھارت ماتا کی جئے کہنے سے انکار پر لاکھوں سر کاٹ دیئے جاتے۔ دریں اثناء ممبئی سے موصولہ اطلاعات کے بموجب ’بھارت ماتا کی جئے‘ نعرہ سے متعلق دیویندر فڈنویس کے ریمارکس پر آج مہاراشٹرا اسمبلی میں زبردست ہنگامہ برپا ہوگیا جبکہ اپوزیشن ارکان نے چیف منسٹر سے متنازعہ ریمارک پر معذرت خواہی کا مطالبہ کیا ۔ اپوزیشن کے مطالبہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فڈنویس نے کہا کہ وہ ’بھارت ماتا کی جئے‘ کہتے رہیں گے جس کیلئے انہیں چیف منسٹر کا عہدہ قربان کیوں نہ کرنا پڑے۔ ایوان  میں وقفہ صفر ختم ہونے میں اپوزیشن لیڈر رادھا کرشنا وکی پاٹل نے تحریک التواء پیش کیا اور کہاکہ ملک کی اقلیتوں نے بارہا حب الوطنی  کا ثبوت دے  چکے ہیں ، لہذا چیف منسٹر نے اپنے بیان پر معذرت کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو درپیش سنگین مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے یہ متنازعہ مسئلہ چھیڑا گیا ہے ۔ اس موقع پر اپوزیشن ارکان قومی پرچم لہراتے ہوئے دیکھے گئے۔ کانگریس لیڈر نے بتایا کہ درگاہ حضرت مخدوم فتح علی ماہیمی کی عرس تقاریب میں 500 علماء و مشائخین نے ترنگا لہراکر بھارت ماتا کی جئے نعرے بلند کئے جو کہ مسلمانوں کی حب الوطنی کا ثبوت ہے لیکن جس طرح انداز میں یہ نعرہ لگانے کا اصرار کیا جارہا ہے اس سے اتحاد سے زیادہ اور انتشار پھیل رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT