Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / بھارت ماتا کی جئے نعرہ لگانے سے انکار پر مجلسی رکن معطل

بھارت ماتا کی جئے نعرہ لگانے سے انکار پر مجلسی رکن معطل

وارث پٹھان کے ریمارکس پر مہاراشٹرا اسمبلی میں ارکان برہم، متفقہ قرارداد منظور
ممبئی ۔ 16 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا قانون ساز اسمبلی سے آج مجلس اتحادالمسلمین (ایم آئی ایم) کے رکن وارث پٹھان کو معطل کردیا گیا جنہوں نے ’بھارت ماتا کی جئے‘ کہنے سے انکار کردیا تھا جس پر دیگر تمام ارکان اسمبلی نے اپنی جماعتی وابستگی سے بالاتر ہوکر ان کے خلاف متحدہ قرارداد کے ذریعہ کارروائی کی۔ وارث پٹھان جو جنوبی ممبئی کے حلقہ بائیکلا کی نمائندگی کرتے ہیں، رواں بجٹ سیشن کے اختتام تک ایوان کی کارروائیوں میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔ وزیر پارلیمانی امور گرچ باپٹ نے کہا کہ ’’پٹھان کو قومی ہیروز کے تئیں بداحترامی کے مظاہرے اور بھارت ماتا کی جئے کہنے سے انکار پر اسمبلی سے معطل کیا گیا ہے‘‘۔ یہ ہنگامہ اس وقت شروع ہوا جب آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے اورنگ آباد کی نمائندگی کرنے والے رکن امتیاز جلیل ایوان میں گورنر کے خطبہ پر خطاب کررہے تھے۔ جلیل نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ ’عظیم شخصیات‘ کی یادگاروں کی تعمیر پر ٹیکس دینے والوں کی رقومات خرچ نہ کرے جس پر شیوسینا کے ایک رکن نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ جلیل کے پارٹی لیڈر اسدالدین اویسی نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ بھارت ماتا کی جئے نہیں کہیں گے،

جس پر وارث پٹھان نے کہا کہ ’’ہم جئے ہند کہیں گے لیکن بھارت ماتا کی جئے نہیں کہیں گے۔ ’بھارت ماتا کی جئے‘ کہنا لازمی نہیں ہے۔ دستور میں یہ بات نہیں کہی گئی ہے‘‘۔ ان کے ان ریمارکس کے فوری بعد حکمراں بی جے پی اور شیوسینا کے بشمول کانگریس اور این سی پی دیگر اپوزیشن جماعتوں نے ایم آئی ایم کے ارکان اسمبلی کو ایوان سے معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیر مال ایکناتھ کھڈسے نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم کے ارکان اسمبلی کو معذرت خواہی کرنا چاہئے لیکن ایوان کے دیگر تمام برہم ارکان نے ان کی تجویز کو مسترد کردیا اور سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کی معطلی کا مطالبہ کیا۔ باپٹ نے کہا کہ ایم آئی ایم ارکان کی ایوان سے معطلی کیلئے وہ ایک قرارداد پیش کریں گے جس کے بعد ایوان 10 منٹ کیلئے ملتوی کردیا گیا۔ شوروغل اور ہنگامہ آرائی کے مناظر کے درمیان ایوان کا یہ تیسرا التوا تھا اور جیسے ہی کارروائی بحال ہوئی، مملکتی وزیرداخلہ رنجیت پاٹل نے ایوان میں قرارداد پیش کی اور پٹھان کی معطلی کی تجویز رکھی گئی جس کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ رنجیت پاٹل نے کہا کہ ’’پٹھان نے حق آزادیٔ اظہارخیال کا بیجا استعمال کیا ہے، پارلیمانی روایات کی خلاف ورزی کی ہے اور ’بھارت ماتا‘ کی توہین کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کے جذبات ملحوظ رکھتے ہوئے یہ قرارداد پیش کی گئی ہے۔

اسپیکر ہری بھاؤ بگاڈے نے ایوان کو مطلع کیا کہ یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ بعدازاں وارث پٹھان نے اپنی پارٹی کے ساتھی امتیاز جلیل کے ساتھ اسپیکر سے ملاقات کی اور کہا ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ صدر مجلس اسدالدین اویسی نے کہا کہ وارث پٹھان کی معطلی سے غلط مثال قائم ہوگی اور ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی شخص کو محض اس لئے ایوان سے معطل کیا گیا کہ انہوں نے نعرہ نہیں لگایا تھا۔ ایم آئی ایم نے ’بھارت ماتا کی جئے‘ کا نعرہ لگانے کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ تجویز آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے پیش کی ہے جنہوں نے کہا تھا کہ نئی نسل کو مادر ہند کی تعریف و ستائش کا درس دینے کی ضرورت ہے۔ اسد اویسی نے کہا تھا کہ وہ یہ نعرہ نہیں لگائیں گے۔ اویسی نے 13 مارچ کو ضلع لاتور کی اودگیر تحصیل میں ایک عام جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’آپ کیا کہنے جارہے ہیں بھاگوت صاحب۔ میں (یہ نعرہ) نہیں لگاؤں گا حتیٰ کہ آپ اگر میرے گلے پر چاقو بھی رکھ دیں۔ دستور میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا ہیکہ کسی کو ’بھارت ماتا کی جئے‘ کہنا ہوگا‘‘۔ آج دہلی میں اسداویسی کی رہائش گاہ کے باہر ہندوسینا نے پوسٹر چسپاں کرتے ہوئے انہیں غدار قرار دیا اور بھارت ماتا کی توہین کا الزام عائد کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT