Monday , August 21 2017
Home / مضامین / بھارت ماتا کی جئے کو بلاوجہ طول دیا جارہا ہے

بھارت ماتا کی جئے کو بلاوجہ طول دیا جارہا ہے

سیما مصطفی
میں حب الوطنی میں ہمیشہ سے یقین کرتی رہی ہوں اور یہاں میں تھیوریز اور کتابوں کے بارے میں کچھ بات نہیں کرنا چاہتی ہوں ، بلکہ فیملی اور سماجی زمینی تجربے کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہوں ۔ اس وقت ملک سے محبت اور نیشنلزم کے مسئلے پر کافی بحث چل رہی ہے ۔ یہ ملک نہ صرف ایک ملک ہے جو عام ممالک کی طرح ہے بلکہ اس کی خصوصیت بالکل ہی الگ ہے ۔ یہاں کی آبادی مختلف المذاہب اور مختلف ثقافتوں کی ماننے والی ہے جہاں کثرت میں وحدت کی مثال دیکھی جاسکتی ہے ۔
نیشنلزم میرے نزدیک ایک فکر ہے جو نسل در نسل ہوتی ہوئی چلی آرہی ہے ۔ جن لوگوں نے ہندوستان کی آزادی کی لڑائی لڑی وہ تمام کے تمام بلا لحاظ مذہب و ملت اس ملک کے لئے یکساں اہمیت کے حامل ہیں ۔ ان تمام نے ملک کی حفاظت کے لئے لڑائی لڑی اور سبھوں کے نزدیک حب الوطنی کی اہمیت یکساں رہی ۔

ہمارے قومی ترانے کی جہاں تک بات ہے تو ہم سبھی اس کا احترام کرتے ہیں اور قومی پرچم کا بھی اتنا ہی احترام کرتے ہیں ۔ ہم اپنے دستور کی بھی اسی قدر عزت و احترام کرتے ہیں جس قدر ہم اپنے مذہب کا ۔ کسی سے بھی یہ نہیں کہا جاتا کہ وہ نعرے لگائے اور اپنی حب الوطنی کے ثبوت میں ہندوستانی پرچم لہرائے ۔ اس وقت بھی جب ہمارا ملک انگریزوں کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کی غرض سے جد وجہد کررہا تھا تو اس وقت بھی کسی ہندوستانی پر دباؤ نہیں ڈالا گیا کہ وہ حب الوطنی کے نعرے لگائے ، ہمیں اکثر کہا جاتا ہے کہ ہم ایک ایسے ملک کے شہری ہیں جہاں ہم مکمل طور پر محفوظ ہیں ۔ ایک ایسے ملک کے شہری ہونے پر ہمیں ناز ہونا چاہئے۔
ہمیں اسکول اور گھر میں یہ پڑھایا جاتا تھا کہ ملک کے کثیر ثقافتی و تہذیبی بنیادوں پر حملہ کسی طرح بھی برداشت نہیں کیاجانا چاہئے ۔ یہاں کے کسی بھی مذہب پر حملہ کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جاسکتا  ۔ہمیں یہ بھی سکھایا گیا کہ ملک میں اگر کسی کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے تو اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے۔ جسے برابری کا حق نہیں دیا جارہا ہے اسے برابری کا حق دلانے کے لئے جد و جہد کرنی چاہئے ۔ہمیں اس کے لئے نہ صرف آواز اٹھانی چاہئے بلکہ اس کے لئے جد وجہد بھی کرنی چاہئے ۔ اپنے ملک میں کسی کے ساتھ زیادتی ہورہی ہو تو اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے۔ مساوات دلانے کے لئے بھی کوشش کرنی چاہئے ۔

اس لئے ہم نے یہ تمام کام کئے ۔ اور جس حد تک ممکن ہوسکا اس کے لئے جد وجہد کیا ۔ اس کے لئے ہم نے اپنی تحریروں کا استعمال کیا ۔ ٹیچنگ کے ذریعہ اس مقصد کا حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ کچھ لوگوں نے سیاست کے ذریعہ یہ کام کیا ۔ کچھ نے ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا ۔ کچھ نے اپنے بچوں کو اخلاقی اقدار اور ایمانداری کا درس دے کر یہ کام کیا ۔ کچھ نے خیرات کرکے اور اچھے کاموں کے ذریعہ اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ کچھ نے میدان عمل میں جا کر اسے حاصل کیا  ۔ لیکن ہر شخص نے یہ کام نہایت اعتماد سے کیا ۔ انھیں اپنی سیکورٹی کا احساس تھا ۔ یہ تمام ہندوستانی تھے اور ان کا تحفظ ملک کے قوانین کے تحت ممکن بنایا گیا ۔ انھیں اپنے دستور اور ملک کے قانون پر بھروسہ تھا۔ انھیں اپنے حقوق کے لئے جد و جہد کرنے کا اختیار دیا گیا ۔ جب جب حکومت نے ان کے ساتھ ناانصافی کرنے کی کوشش کی ، انھوں نے آواز اٹھائی ۔ انھیں آواز اٹھانے کا حق دیا گیا ۔ اس مرحلے میں حکومت کو شاید اپنی کمزوریوں کا احساس ہوا ، وہ کمزور ہوگئی ، لیکن ہماری جمہوریت مضبوط ہوئی ۔

گزشتہ روز مجھے وینکیا نائیڈو کا ایک آرٹیکل پڑھنے کا موقع ملا ، جس میں نیشنلزم کو حیدرآباد یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے ،روہت ویمولا کی خودکشی اور نوجوان ریسرچ اسکالر کنہیا کمار پر وطن سے غداری کے معاملے کو پیش کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ وہ خود بھی اس واقعے سے کافی فکرمند ہیں ۔ ان کے اس آرٹیکل کو پڑھ کر میں کافی حیرت زدہ ہوئی کہ مسٹر نائیڈو اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کنہیا کمار نے اپنے بیل کنڈیشن کی خلاف ورزی کی ہے ۔ یہ کہتے ہوئے کہ جموں و کشمیر میں سیکورٹی اہلکار خواتین کا ریپ کرتے ہیں اور وہ اس بات کے لئے فکرمند ہیں کہ یہ بات کس طریقے سے پاکستان کے لئے ایک میوزک کا کام کرسکتی ہے ۔ جی ہاں ! میں پوری ایمانداری اور یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ پاکستانی آرمی اس ریسرچ اسکالر کے بیان میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائے گی ۔ لیکن وہ ہندوستان کے نیشنلزم اور اینٹی نیشنلزم کی بحث میں دلچسپی ضرور دکھائے گی ، جہاں ملک کی سوسائٹی کو حاشیے پر ڈال کر اس طرح کی بے معنی باتوں پر پوری صلاحیت صرف کی جارہی ہے ۔ ملک میں جہاں اس طرح کی باتیں چل رہی ہیں جو ملک کو نقصان پہنچانے کے سوا اور کچھ نہیں پہنچاسکتی ۔ ایسے ماحول میں مجھے اسدالدین اویسی سے کافی اختلافات کی گنجائش پیدا ہوگئی ہے ۔ وہ ایک ایسی زبان کا استعمال کررہے ہیں جو انھیں نہیں استعمال کرنی چاہئے ۔ یہ بات جگ ظاہر ہے کہ نیشنلزم کا تصور جس طرح ہمارے مجاہدین آزادی نے پیش کیا وہی اصل نیشنلزم ہے اور اس کو صرف ایک نعرے تک محدود کرکے رکھ دیا گیا ہے ۔ وہ وہاں پر تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں اس کی گنجائش ہی نہیں ہوتی ہے۔ اور وہ وہاں اقلیتوں کو لا کر کھڑا کردیتے ہیں ۔ اس کٹہرے میں پوری اقلیت کو لاکر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ انھوں نے اس طرح کا عمل بہت بار کیا ہے ۔ میں یہ بات جانتی ہوں کہ وہ بی جے پی کے ساتھ مل کر اس طرح کا گیم کھیل رہے ہیں ۔ ممکن ہے یہ بات درست ہو یا غلط بھی ہوسکتی ہے ، لیکن جو الزام ان پر عائد کئے جارہے ہیں ، وہ ایک طرح سے ایسے الزام ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ ڈیموکریسی کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں۔ وہ تنازع کے نام پر تنازع پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ اور اس عمل میں سب سے زیادہ نقصان سیکولرازم کو ہونے والا ہے جو پہلے سے ہی خطرات میں ہے ۔

اس سے قبل اسی طرح کا پولرائزیشن کا معاملہ وندے ماترم والے گانے پر ہوا تھا جسے اے آر رحمان نے گایا تھا ۔ اس پر بھی کافی تنازع ہوا تھا ۔ اِس وقت اویسی اس معاملے کو اچھال کر پولرائزیشن کا ماحول بنانا چاہتے ہیں ۔ اس سے ہندو شدت پسندوں کو ہی فائدہ ہونے والا ہے ۔ لیکن وہ اس بات کو سمجھ نہیں پارہے ہیں ۔ اس وقت ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ شدت پسند ہندوؤں کا پسندیدہ نعرہ بن چکا ہے ۔ جس کی حمایت اسٹیبلشمنٹ بھی کررہا ہے ۔ بلکہ وہ اس نعرے کو فروغ دینے کا ماحول بنارہا ہے ۔ وہ اس پر بحث کرنے کی بات بھی کررہے ہیں  ۔ یہ ایک پیچیدہ معاملہ بن گیا ہے ۔ بنیاد پرست پوری دنیا میں چاہے وہ فاشسٹ زیئونسٹ ، مذہبی فرقہ پرست ہوں وہ تمام اس طرح کے نعرے لگا کر نفرت پھیلانے اور پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس کے ذریعہ وہ نیا ماحول اور نیا منظر نامہ پیدا کرنا چاہتے ہیں ، جو ان کے نظریات کے موافق ہو ۔ ایک سیکولر ذہن رکھنے والے شاعر جاوید اختر کا جو ردعمل سامنے آیا وہ اس نعرے کو بار بار دہرانے کا تھا ۔ وہ پارلیمنٹ میں بار بار بھارت ماتا کی جے کے نعرے کو دہراتے رہے اور وہ یہ بات بھی کہہ رہے تھے کہ مجھے اس نعرے کو لگانے میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ یہ الفاظ ہندی کے ہیں ، لیکن جذبات کی کوئی زبان نہیں ہوتی ہے ۔ اس کے بعد اویسی نے کیا کیا ، انھوں نے کہا کہ وہ بھارت ماتا کی جے نہیں کہیں گے ۔ کیونکہ یہ صرف اور صرف لینڈ کا ایشو ہے ۔ اور اس سے کیا حاصل ہونے والا ہے ۔ انھوں نے فوری طور پر دائیں بازو کے نظریات والوں کو ایک سنہرا موقع فراہم کردیا ، لیکن اس سے دائیں بازو والوں کو نیشنلزم کے مسئلہ پر بحث کرنے سے احتراز کرنے کا موقع دیا ۔ مہاراشٹرا اسمبلی میں ایم آئی کے ایم ایل اے کو بھی اسمبلی سے نکالنے کا حکم صادر کردیا گیا ۔

اس لئے اویسی سے میرے درخواست ہے کہ وہ اپنی توجہ عوامی مسائل پر مرکوز کریں اور خاص طور پر جس حیدرآباد کے عوام کے نمائندہ ہیں ، ان کے فلاح و بہبود اور ان کے مسائل کو حل کرنے کا کام کریں ۔ خاص طور پر ان کے لئے کام کریں جو حاشیہ پر ڈال دئے گئے ہیں ۔ اس طرح کے نعروں کے معاملے میں اپنی انرجی ضائع نہ کریں ۔

TOPPOPULARRECENT