Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / بھارت مرد ہے عورت نہیں ، ہمیں سکون سے رہنے دو

بھارت مرد ہے عورت نہیں ، ہمیں سکون سے رہنے دو

حیدرآباد ۔ 23 ۔ مارچ : ( سیاست ڈاٹ کام ) : ایک ایسے وقت جب کہ ملک میں ’ بھارت ماتا کی جئے ‘ کہنے یا نہ کہنے پر ایک بحث چھڑ گئی ہے اس بارے میں سوشیل میڈیا پر بھی لوگ پرجوش انداز میں اظہار خیال کرتے ہوئے دنیا کو اپنے نقطہ نظر سے واقف کروا رہے ہیں ۔ کینڈا میں مقیم ایک سکھ شخص کا ویڈیو سماجی رابطے کی سائٹس پر بہت دلچسپی سے دیکھا جارہا ہے ۔ جس میں انہوں نے ’ بھارت ماتا کی جئے ‘ کے نعرہ کی حقیقت بتانے کی کوشش کی ۔ ذیل میں اس سکھ شخص کے خیالات من و عن پیش کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ’’ ایک نیا سسٹم آج کل اپنے انڈیا میں نیشنل ازم ( قوم پرستی ) کا چالو ( شروع ) ہوگیا ہے کہ جب تک آپ بھارت ماتا کی جئے نہیں کہیں گے تب تک آپ قوم پرست اور دیش بھگت نہیں ہو وغیرہ وغیرہ … میرا ایک سوال ہے ان راشٹر بھگتوں ( دیش بھگتوں ) سے ، ہم جب اسکول میں تھے تو ہمیں ایک دیومالائی کہانی پڑھائی جاتی تھی اس دیومالائی کہانی کے مطابق ایک راجہ دشینت (King Dushyant) ہوا کرتا تھا ۔ دشینت کو جنگل میں رہنے والی ایک لڑکی شکنتلا سے پیار ہوجاتا ہے اور اسے شکنتلا سے ایک بچہ پیدا ہوتا ہے جسے وہ ( دشینت ) چھوڑ کر چلا جاتا ہے ، کہانی میں موڑ توڑ جوڑ کے بعد آپ سمجھئے وہ اسے واپس ملتی ہے وہ جو بچہ ہوتا ہے اس کا نام ’ بھارت ‘ ہوتا ہے ۔ بھارت آگے چل کر ایک اچھا راجہ ، بہادر راجہ اور بہترین راجہ بنتا ہے اور اسی کے نام پر اس ملک کا نام بھارت بنتا ہے ۔ ہاں … !! تو پہلا سوال ہے کہ اس کہانی کے مطابق بھارت کا نام بھارت اس لیے پڑا کیوں کہ وہ دشینت Dushyant اور شکنتلا کے بیٹے کا نام تھا ۔ اس کا مطلب بھارت ایک مرد کا نام ہے وہ مرد کے نام پر رکھا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ بھارت Male ( مرد ) ہے ایسے میں ایک مرد کو بھارت ماتا کی جئے کیسے کہیں گے ۔ اگر آپ زبردستی کسی Male کو Female ثابت کرنے کی کوشش کریں گے تو وہ نہ Male رہے گا نہ Female رہے گا جو چیز میل ( مرد ) ہوتی ہے نہ فی میل ( خاتون ) ہوتی ہے وہ کیا ہوتی ہے ۔ یہ بھگت جن توگاڑیہ صاحب شیوسینا والے بی جے پی والے یہ سارے سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ مرد نہ ہو عورت نہ ہو تو وہ چیز کیا ہوتی ہے ؟ لہذا اس چیز کو نہ چھیڑیں اپنے ملک کی صنف کے جھگڑے میں نہ پڑیں ہر بندہ اپنے ملک کے بارے میں سچا ہوتا ہے ۔ ہر بندہ میں قوم پرستی کے گن ہوتے ہیں اس کو کسی نہ کسی طریقہ سے ملک کے فائدہ کی فکر ہوتی ہے وہ چاہتا ہے کہ ملک کا فائدہ ہو ، آپ اکیلے ٹھیکیدار بن کر یہ ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں کہ بھارت ماتا کی جئے نہ کہنے والے قوم پرست اور دیش بھگت نہیں ہے ۔ یہ نظریہ اپنے پاس ہی رکھیں اور لوگوں کو سکھ و چین سے جینے دو ‘‘ ۔۔

TOPPOPULARRECENT