Tuesday , August 22 2017
Home / اداریہ / بھاری رقومات کی ضبطی

بھاری رقومات کی ضبطی

خاطی تو سب چھوٹ گئے جو ہیں معصوم پریشاں ہیں
بھاری رقمیں ضبط ہوئیں ہے حقیقت کہ اک تماشہ ہے
بھاری رقومات کی ضبطی
جس وقت سے مرکزی حکومت نے ملک میں بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کردیا ہے اس کے بعد سے ایک طرف عوام کئی مسائل کا شکار ہوگئے ہیں اور ان کی تکالیف میں کمی آنے کی بجائے مسلسل اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے تو دوسری طرف مختلف معروف اور با اثر شخصیتوں ‘ سیاسی قائدین اور تاجروں کے پاس سے بھاری رقومات کی ضبطیوں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ عوام کے پاس دو تا چار ہزار روپئے نئی کرنسی آنی مشکل ہوتی جا رہی ہے لوگ اپنی ضروریات کی تکمیل سے تک قاصر ہیں لیکن با اثر طبقہ لاکھوں بلکہ کروڑوں روپئے کی نئی کرنسی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتاجا رہا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس کالے دھن کو ختم کرنے کیلئے نوٹ بند کرنے کا مرکز نے دعوی کیا تھا وہ مقصد فوت ہوتا جا رہا ہے ۔ لوگ کالے دھن کو دوبارہ کالے دھن میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوتے جا رہے ہیں اور کروڑ ہا روپئے کا خرد برد ہوچکا ہے ۔ جو تکلیف ہے و ہملک کے عام آدمی کو اور غریبوں کو ہے اور وزیر اعظم ان ہی غریبوں اور تکالیف کا سامنا کرنے والوں کو کالا دھن رکھنے والے افراد قرار دے رہے ہیں۔ جن کے پاس کالا دھن موجود ہے اور جو کروڑ ہا روپئے کو تبدیل کرواچکے ہیں انہیں کسی مشکل کا سامنا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی کارروائی ہوتی نظر آ رہی ہے۔ دو تا چار ہزار روپئے حاصل کرنے والے عوام پر حکومت شکنجہ کسنے کی کوشش کر رہی ہے اور انہیں مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ حکومت نے عوام کو بینکوں اور اے ٹی ایم کی قطاروں میں کھڑا کردیا ہے ۔انہیںبینکوں کی ہراسانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ملک بھر میں بینکوں کی اکثریت حکومت کی جانب سے مقرر کردہ حد تک رقومات جاری کرنے سے انکار کررہی ہے ۔ اے ٹی ایم مشینوں کی اکثریت کرنسی سے خالی ہے اور جہاں کہیں کرنسی موجود ہے وہیں طویل قطاریں ہیں اور عوام کو کبھی ختم نہ ہونے والے انتظار کا سامنا کرنا پڑ  رہا ہے ۔ اب تک اس مسئلہ پر 90 کے قریب اموات ہوگئی ہیں لیکن وزیر اعظم یا پھر حکومت کے دوسرے نمائندوں پر اس کا کوئی اثر ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ وہ سب اپنی ہی دنیا میں مگن ہیں۔ انہیں ہندوستانیوں کے مرنے کی بھی کوئی فکر نظر نہیں آتی ۔
اس بات کے اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں کہ عوام کو مسائل سے راحت دلائی جائے اور ان کے کھاتوں میں جو رقومات جمع ہوئی ہیں انہیں یا تو بینکوں کے ذریعہ یا پھر اے ٹی ایمس کے ذریعہ عوام تک پہونچایا جائے ۔ ایسے میں اگر لاکھوں اور کروڑوں روپئے کی نئی کرنسی کسی با اثر شخص یا تاجر یا سیاستدان کے قبضہ سے ضبط کی جاتی ہے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ کالا دھن ختم کرنے کی مرکزی حکومت کی کوشش یکسر ناکام ہوگئی ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم کے اقدام کی تائید کرنے اور سوشیل میڈیا پر مہم چلانے والے بی جے پی کے قائدین کے پاس سے بھی بھاری ضبطیاں ہو رہی ہیں۔ جہاں یہ رقومات ان لیڈروں تک پہونچ گئی ہیں وہیں یہ پتہ چلانا بہت ضروری ہے کہ یہ رقومات ان قائدین تک کس طرح پہونچی ہیں۔ حکومت نے تو ہفتہ بھر میں نکالی جانے والی رقومات کی حد مقرر کر دی ہے تو پھر ان کے پاس کروڑ ہا روپئے کس طرح سے پہونچ گئے ۔ یہ کس طرح کی ساز باز کا نتیجہ ہے اور وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے ساز باز کرتے ہوئے با اثر طبقہ یا سیاسی قائدین کے پاس تو روپیہ پہونچا دیا لیکن ملک کے حقیقی ضرورت مند اور غریب عوام ہنوز مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور کردئے گئے ہیں۔ دو تا چار ہزار روپئے حاصل کرنا ان کیلئے تقریبا نا ممکن ہوتا جا رہا ہے اور کروڑہا روپیہ دوبارہ کالے بازار میں چلا جا رہا ہے ۔ یہ کون سے چینلس ہیں جو اتنے موثر انداز میں کسی کو خبر ہوئے بغیر کروڑہا روپئے کالا دھن کو کالا دھن ہی میں تبدیل کرتے چلے جا رہے ہیں اور وہ ابھی تک قانون کی گرفت سے بھی بچے ہوئے ہیں۔
حکومت کو اگر واقعی کالا دھن ختم کرنے کی فکر لاحق ہے اور نوٹ بند کرنے کا فیصلہ اسی مقصد سے کیا گیا تو پھر اسے وہ چینلس اور ذرائع بے نقاب کرنے ہونگے جنہوں نے کروڑ ہا روپئے کی ناجائز دولت کو دوبارہ نوٹوں کے انبار کی شکل میں جمع رکھنے میں مدد کی ہے ۔ ان عناصر کو بے نقاب کیا جانا چاہئے جنہوں نے یہ کام کردکھایا ہے اور عوام کی مشکلات میں اضافہ کی وجہ بن گئے ہیں۔ ایسے عناصر کا پردہ فاش کرتے ہوئے ساری سازش کو منظر عام پر لانے اور انہیں ملک کے عوام کے سامنے بے نقاب کیا جانا چاہئے ۔ اس کام میں سیاسی وابستگیوں کا خیال رکھے بغیر کارروائی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔ جب تک حکومت سنجیدگی سے اس سلسلہ میں کوئی کارروائی نہیںکرتے وہ چینلس اور ذرائع بے نقاب نہیں ہوسکتے جو عوام کو تکالیف میں میں مبتلا کرتے ہوئے محض اپنے کمیشن کیلئے یا پھر دباؤ میں کروڑہا روپئے کے کالے دھن کو دوبارہ کالے دھن میں تبدیل کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT