Sunday , October 22 2017
Home / ہندوستان / بھاری مصنوعات کی تیاری اور فراہمی روزگار کیلئے نئی پالیسی کا اعلان

بھاری مصنوعات کی تیاری اور فراہمی روزگار کیلئے نئی پالیسی کا اعلان

آلودگی سے پاک تھرمل پاور پراجیکٹس کیلئے ہند۔جاپان معاہدہ کی تصدیق
نئی دہلی۔25 مئی (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے اپنی نوعیت کی منفرد بھاری مصنوعات ساز پالیسی کو منظوری دے دی ہے تاکہ ہندوستان کو عالمی درجہ کا پیداواری مرکز اور سال 2025ء تک 21 ملین اضافی ملازمتیں فراہم کی جاسکیں۔ یہ فیصلہ وزیراعظم نریندر مودی کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں کیا گیا۔ ایک سرکاری اعلامیہ میں بتایا گیا کہ اس پالیسی کا مقصد ہندوستان کو عالمی درجہ کی بھاری مصنوعات (کیپٹل گڈس) کی تیاری کا مرکز بنانے کے دیرینہ خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے۔ حکومت ہند نے پہلی مرتبہ بھاری مصنوعات کے شعبہ میں پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کا نصب العین بھاری مصنوعات سازی کی مالیت 2014-15ء میں 2,30,000 کروڑ سے سال 2025ء میں 7,50,000 کروڑ تک اضافہ کرنا ہے جبکہ راست اور بالراست روزگار کے مواقع میں موجودہ 8.4 ملین سے 30 ملین تک نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔ اس پالیسی پر عمل آوری کے باعث مینوفیکچرنگ شعبہ میں بھاری مصنوعات کے حصہ کو موجودہ 12 فیصد سے 2025ء تک 20 فیصد کردینا ہے۔ وزیر ریلوے سریش پربھو نے کہا ہے کہ اگر ہندوستان میں بھاری سازو سامان کی تیاری میں گراوٹ آجاتی ہے تو ملک کی معیشت متاثر ہوسکتی ہے۔ مذکورہ پالیسی کا بنیادی مقصد ڈپارٹمنٹ آف ہیوی انڈسٹری کی ضروریات کو بروقت کی تکمیل ہے تاکہ مختلف اسکیمات کی عاجلانہ منظوری کو یقینی بنایا جاسکے اور بھاری مصنوعات (گڈس) کی برآمدات میں موجود 27 فیصد سے 40 فیصد تک اضافہ کرنا ہے۔ جس کے ذریعہ ہندوستان کو برآمدات کا دارالخلافہ بنایا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں پالیسی میں یہ گنجائش ہے کہ مروجہ ٹکنالوجی کو عصری بنانے، مہارتوں کو بہتر بنانے اشیاء کے معیار کو بلند کرنے کے لئے ممکنہ اقدامات کئے ہیں جس کے لئے صنعتوں کو بنیادی سہولیات اور خام مال کی فراہمی کو یقینی بنایا جائیگا اور سرکاری ٹیکس اور ڈیوٹی کو معقولیت پسند بنایا جائیگا۔ مزید برآں مرکزی کابینہ نے ہندوستان۔جاپان کے درمیان طئے پائے آلودگی سے پاک تھرمل پاور تھرمل پراجیکٹس کے معاہدہ کی توثیق کردی جس کے تحت سنٹرل الیکٹریسٹی اتھاریٹی اور جاپان کول انرجی سنٹر کے درمیان باہمی اشتراک و تفاعل کیا جائیگا اور تھرمل پاور پراجیکٹس سے کاربن کے اخراج پر قابو پانے کے لئے جاپان کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائیگا۔کیوں کہ ملک میں فضائی آلودگی تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے جس سے مختلف امراض پیدا ہورہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT