Wednesday , August 16 2017
Home / کھیل کی خبریں / بھونیشور عالمی معیاری بولر ، مستفیض کی بھی دل کھول کر تعریف

بھونیشور عالمی معیاری بولر ، مستفیض کی بھی دل کھول کر تعریف

میں نے اچھا ضرور کھیلا مگر سن رائزرز حیدرآباد کی خطابی فتح اجتماعی کوشش کا نتیجہ ، فائنل میں گیل کی جارحیت مشکل مرحلہ رہا ، کپتان وارنر کے تاثرات

بنگلور ، 30 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سن رائزرز حیدرآباد کے کپتان ڈیوڈ وارنر کا کہنا ہے کہ حالیہ اختتام پذیر انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) کے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بھونیشور کمار عالمی معیاری بولر ہیں اور اس سیمر کا اپوزیشن بیٹسمن کے طور پر سامنا کرنے کیلئے بے چین ہیں۔ سن رائزرز کی اپنی اولین آئی پی ایل خطابی فتح تک قیادت کرنے والے وارنر نے گزشتہ شب یہاں ایم چنا سوامی اسٹیڈیم میں مابعد مقابلہ منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا، ’’یہ صحیح ہے بھووی (بھونیشور) انڈین ٹیم میں آتے جاتے رہے ہیں، لیکن وہ عالمی معیاری بولر ہے۔ نئی گیند سے کھیل کے وقت اوپننگ بیٹسمن کے طور پر میں اُن کے خلاف اسی طرح کی وکٹ پر کھیلنا چاہوں گا کیونکہ وہ پہلی گیند سے ہی آگے کا منظر ظاہر کرنے لگتے ہیں۔‘‘ وارنر نے کہا کہ کیپٹن کی حیثیت سے انھیں بھونیشور کی صلاحیتوں اور اس کھیل کے تئیں جوش و جذبہ پر کامل بھروسہ ہے۔ آسٹریلیائی اسٹار نے کہا کہ وہ ہمیشہ اننگز کے اواخر میں بھونیشور پر انحصار کرتے رہے۔ وارنر نے پیش پیش رہتے ہوئے قیادت کی اور 69 رنز محض 38 گیندوں میں بنائے، جس کے بعد بھونیشور اور مستفیض الرحمن نے میچ کے اختتامی اوورز میں بہت عمدہ گیندبازی کرتے ہوئے رائل چیلنجرز بنگلور کے مقابل کل شب کے آئی پی ایل فائنل میں 8 رنز کی جیت درج کرائی۔ اپنے پہلے آئی پی ایل خطاب کیلئے 208 کا دفاع کرتے ہوئے حیدرآباد نے ویراٹ کوہلی کی  آر سی بی ٹیم کو 200/7 تک محدود رکھا۔ وارنر نے نوجوان لیفٹ آرم پیسر مستفیض کی بھی دل کھول کر تعریف کی، جنھوں نے اِس سیزن سن رائزرز کیلئے بھونیشور (23 وکٹیں) کے ساتھ مل کر خطرناک جوڑی بنائی۔ ’’ظاہر ہے، مستفیض بنگلہ دیش کیلئے ابھرتا کھلاڑی ہے۔ اُن کی تعریف کرنا پڑے گا کہ وہ بھووی کے ساتھ مل کر غیرمعمولی کرکٹ کھیلے۔ امید ہے کہ وہ فٹنس برقرار رکھتے ہوئے مستقبل کے مقابلوں میں (بھی) زبردست کھیلیں گے۔

‘‘ سن رائزرز کے اسکور 208/7 کا تعاقب کرتے ہوئے آر سی بی والے ایک مرحلے پر 114/1 کے ساتھ اطمینان سے آگے بڑھتے نظر آئے جبکہ کرس گیل اپنے جارح موڈ میں تھے۔ یہ پوچھنے پر کہ اُس مرحلہ پر وہ بطور کپتان کیا سوچ رہے تھے، وارنر نے کہا: ’’جب کرس گیل ہماری بولنگ کی پٹائی کررہے تھے، ہماری سعی یہی رہی کہ اوسان بحال رکھیں۔ میں نے بولروں سے کہا کہ کچھ وائیڈ اور دھیمی گیندیں پھینکیں مگر پھر بھی وہ (گیل) پوری طاقت سے گیند کو پیٹ رہے تھے۔ لیکن ہمیں معلوم تھا کہ اگر ہم تیزی سے وکٹیں لے پائیں تو آنے والوں کیلئے شاٹس کھیلنا کٹھن رہے گا۔‘‘وارنر نے اپنی کامیابی کو ٹیم کی اجتماعی کوشش سے تعبیر کیا۔ ’’ایسا نہیں کہ سب کچھ میں نے کردکھایا، یہ تو اجتماعی سعی ہوئی۔ کوئی ٹورنمنٹ جیتنا ساری ٹیم کی کوشش ہوتی ہے۔‘‘ وارنر نے بین کٹنگ کو بھی اُن کے آل راؤنڈ پرفارمنس کیلئے سراہا ۔ کٹنگ نے پہلے صرف 15 گیندوں میں برق رفتار 39* اسکور کئے اور پھر 2/35 کے اعداد و شمار کے ساتھ اپنی ٹیم کی مدد کی۔ سن رائزرز کوچ ٹام موڈی نے وارنر کی ستائش کی کہ انھوں نے سارے ٹورنمنٹ میں اپنی ’’غیرمعمولی‘‘ کپتانی کے ذریعے اپنے نقوش چھوڑے، حالانکہ نصف ٹورنمنٹ وہ یوراج سنگھ اور آشیش نہرا جیسے کھلاڑیوں سے محروم رہے۔

TOPPOPULARRECENT