Sunday , August 20 2017
Home / ہندوستان / بھوپال انکاؤنٹر ۔ دلت مسلم اتحاد کیخلاف سازش!

بھوپال انکاؤنٹر ۔ دلت مسلم اتحاد کیخلاف سازش!

عوام میں تفریق پیدا کرنے کیلئے یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی کوشش
نئی دہلی 5 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) میڈیا میں 31 اکٹوبر کی صبح کا آغاز ان شہ سرخیوں (ہیڈ لائین) سے عمل میں آیا کہ مدھیہ پردیش پولیس اور انسداد دہشت گردی دستہ )اے ٹی ایس) نے سیمی کے 8 کارکنوں کا انکاؤنٹر کردیا ہے جوکہ بھوپال جیل کے ایک سکیورٹی گارڈ کو ہلاک کرکے فرار ہوگئے تھے۔ میڈیا پرجوش تھا کہ زیردریافت قیدی انتہائی سخت سکیوریٹی سے آراستہ جیل توڑ کر فرار ہوگئے جبکہ اس جیل کو حفاظتی معیارات کے معاملہ میں آئی ایس او سرٹیفکٹ بھی دیا گیا تھا۔ میڈیا گھرانوں کو ایک چٹ پٹی اور مسالہ دار خبر مل گئی جسے کئی دنوں تک تبصروں، جائزوں، دعوؤں اور جوابی دعوؤں کے ساتھ چلایا جائے گا۔ گوکہ بھوپال انکاؤنٹر اپنی نوعیت کا منفرد نہیں تھا۔ اس سے قبل بھی انکاؤنٹر کے نام پر زیردریافت مسلم قیدیوں کو مار گرایا گیا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فرضی انکاؤنٹر میں ہلاکتیں، حکومت ہند کی پالیسی بن گئی ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ میں گزشتہ سال جو ٹی آر ایس حکومت نے آلیر انکاؤنٹر کروایا تھا اور اب بھوپال میں بھی اس کا اعادہ کیا گیا ہے۔ یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ آلیر اور بھوپال کے انکاؤنٹر میں ہلاک نوجوان مسلمان اور زیردریافت قیدی تھے اور ان کے مقدمات کی سماعت قریب الختم تھی اور یہ قوی امکان تھاکہ وہ باعزت بری کئے جاسکتے ہیں۔ ایک ہفتہ قبل بھی آندھراپردیش اور اڑیشہ پولیس نے ضلع ملکانگری میں 24 ماؤیسٹوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا۔ سرحدی علاقہ میں پیش آئے انکاؤنٹر میں جملہ 40 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

لیکن سیمی کارکنوں کے انکاؤنٹر کا مقصد کچھ اور تھا تاکہ یکساں سیول کوڈ کے تنازعہ سے عوام کی توجہ ہٹادی جائے۔ چونکہ بابری مسجد کی شہادت کے 25 سال بعد مسلمان پھر ایک بار متحد نظر آرہے ہیں اور یکساں سیول کوڈ پر زبردستی عمل آوری کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوگئے ہیں، حتیٰ کہ تمام مکتب فکر سے وابستہ مسلم خواتین، تنظیمیں، یکساں سیول کوڈ اور مودی حکومت کی تفرقہ پرست سیاسی حربوں کے خلاف میدان عمل میں آگئی ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل  لاء بورڈ کی اپیل پر ملک بھر میں دستخطی مہم کامیابی کے ساتھ چلائی جارہی ہے اور شریعت میں مداخلت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا جارہا ہے۔ مسلم خواتین کا کہنا ہے کہ شریعت کے معاملہ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی عائلی قانون میں تبدیلی کی اجازت ہوگی۔ جبکہ یکساں سیول کوڈ کے نفاذ سے مسلمانوں کے ساتھ دیگر مذہبی فرقے بھی متاثر ہوں گے۔ درج فہرست ذاتوں و قبائیل کے علاوہ لنگایت، بدھسٹ، دیگر پسماندہ طبقات کی تنظیموں نے یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی کوششوں پر حکومت کی شدید مذمت کی ہے۔ علاقہ اونا (اترپردیش) میں دلتوں پر حملے کے نتیجہ میں دلت ۔ مسلم اتحاد قائم ہوگیا ہے کیوں کہ دونوں برادریوں کے لوگ گاؤ رکھشکوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں حالت اسمیتا یاترا کے موقع پر مسلمان بھی شریک ہوکر اتحاد کا ثبوت پیش کیا ہے اور پہلی مرتبہ دلت ۔ مسلم بھائی بھائی کے نعرے بلند کئے گئے۔ غیر متوقع دلت مسلم اتحاد کہیں این ڈی اے حکومت کی تباہی کا سامان نہ بن جائے۔ گوکہ تمام سیاسی جماعتوں میں یکساں سیول کوڈ کا تنازعہ موضوع بحث بن گیا ہے لیکن این ڈی اے حکومت سال 2019 ء کے انتخابات کی تیاری کے لئے یکساں سیول کوڈ کے ایجنڈہ کو آگے بڑھاتے ہوئے عوام میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش میں ہے۔

TOPPOPULARRECENT