Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / بھینسہ میں اوقافی اراضی کے تحفظ کیلئے اعلی سطحی اجلاس کا انعقاد

بھینسہ میں اوقافی اراضی کے تحفظ کیلئے اعلی سطحی اجلاس کا انعقاد

وقف بورڈ کو مقامی مسلمانوں اور ویلفیر پارٹی کی تائید۔ مجلس بلدیہ بھینسہ بھی اپنے موقف پر اٹل

حیدرآباد 21  نومبر  (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے بھینسہ میں قیمتی اوقافی اراضی کے تحفظ کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا جس میں اقلیتی بہبود اور وقف بورڈ کے عہدیداروں کے علاوہ کلکٹر ضلع نرمل ، جوائنٹ کلکٹر اور میونسپل کمشنر نے شرکت کی ۔ اجلاس میں وقف بورڈ اور بلدیہ بھینسہ اراضی کے سلسلہ میں اپنے موقف پر قائم رہے اور فیصلہ کیا گیا کہ اسسٹنٹ ڈائرکٹر سروے کی جانب سے اوقافی جائیداد کے بارے میں  جو رپورٹ پیش کی گئی ہے، وہ وقف بورڈ کے حوالے کی جائے گی جس کا جائزہ لینے کے بعد وقف بورڈ اعتراضات پیش کریگا۔ واضح رہے کہ بھینسہ میں مرکزی مقام پر واقع اوقافی اراضی پر بلدیہ نے دعویداری پیش کی جس کے تحت 40 سے زائد ملگیات ہیں۔ حالیہ دنوں میں چیف اگزیکیٹیو آفیسر محمد اسد اللہ نے بھینسہ کا دورہ کرکے اراضی کا معائنہ کیا تھا۔ انہوں نے وقف بورڈ ریکارڈ کی بنیاد پر اراضی کے تحفظ کی کارروائی شروع کی ۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی سیاسی جماعت کے ایک قائد اوقافی اراضی کو سرکاری قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں وقف بورڈ عہدیداروں کے خلاف الزامات عائد کئے گئے ۔ مقامی مسلمانوں اور خاص طور پر ویلفیر پارٹی قائدین نے اراضی کے تحفظ کیلئے وقف بورڈ کے اقدامات کی تائید کی۔ اس سلسلہ میں ڈپٹی چیف منسٹر نے آج اجلاس طلب کیا تھا تاکہ کوئی مستقل حل تلاش کیا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر محمد اسد اللہ نے وقف بورڈ کے ریکارڈ کی بنیاد پر اراضی پر اپنی دعویداری پیش کی ۔ سرکاری عہدیداروں کا استدلال تھا کہ اسسٹنٹ ڈائرکٹر سروے نے جو رپورٹ داخل کی ہے اس پر وقف بورڈ کو اتفاق کرنا چاہئے۔ عہدیداروں نے یہ رپورٹ وقف بورڈ کے حوالے کرنے سے اتفاق کرلیا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ اگر یہ اراضی وقف ثابت ہوتی ہے تو حکومت اپنی دعویداری سے دستبردار ہوجائیگی ۔ بھینسہ کے مقامی قائدین ویلفیر پارٹی آف انڈیا محمد سعید احمد ایڈوکیٹ ، محمد عبدالجبار اور مرزا الیاس بیگ اجلاس میں شریک تھے اور ڈپٹی چیف منسٹر سے خواہش کی کہ اوقافی اراضی کے تحفظ کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ واضح رہے کہ جب وقف بورڈ کے مقامی عہدیداروں نے اوقافی اراضی کے تحفظ کیلئے اقدامات کئے تو انکے خلاف پولیس میں شکایت درج کی گئی۔ وقف بورڈ نے متعلقہ ایس پی کو مکتوب روانہ کرکے مقدمہ سے دستبرداری کی خواہش کی اور اراضی کے حق میں اوقافی ریکارڈ کی تفصیلات روانہ کی۔ اسی دوران چیف اگزیکیٹیو آفیسر محمد اسد اللہ نے بتایا کہ وقف بورڈ کے پاس اراضی کے حق میں ٹھوس دستاویزات موجود ہیں اور وقف بورڈ کی دعویداری سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس اراضی کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائینگے ۔ انہوں نے بتایا کہ بھینسہ میں سروے نمبر 330 کے تحت جملہ 9 ایکر 9 گنٹہ وقف اراضی موجود ہے۔ 330/1 کے تحت 5 ایکر اور 330/2 کے تحت 4 ا یکر اراضی ہے جس کیلئے 1950 کا پہانی ریکارڈ وقف بورڈ کے پاس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 26 گنٹے اراضی قبرستان کی ہے جس پر میونسپل کارپوریشن نے کامپلکس تعمیر کردیا ۔ 2002 ء میں ضلع کلکٹر نے یہ اراضی بلدیہ کے حوالے کی تھی۔ سرکاری عہدیدار لینڈ ایکویزیشن کے تحت اس راضی کو حاصل کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں جبکہ اس کیلئے درکار شرائط کی تکمیل نہیں کی گئی۔

TOPPOPULARRECENT