Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / بھینسہ کی اہم وقف اراضی پر مقامی جماعت کی نظر

بھینسہ کی اہم وقف اراضی پر مقامی جماعت کی نظر

این او سی جاری کرنے رکن پارلیمنٹ حیدرآباد کا سفارشی خط، صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کا سخت موقف

حیدرآباد ۔ 16 ۔ مئی (سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم نے مقامی سیاسی جماعت کی جانب سے ایک اہم اوقافی جائیداد کو مبینہ طور پر مقامی بلدیہ کے حوالے کرنے کی کوششوں کی مخالفت کی ہے۔ اس سلسلہ میں حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ کے سفارشی خط کے ساتھ شہر کے ایک رکن اسمبلی جو وقف بورڈ کے رکن بھی ہیں، آج صدرنشین وقف بورڈ سے ملاقات کی ۔ ان کے ہمراہ بھینسہ کے مقامی جماعت کے قائد موجود تھے اور اس بات کیلئے اصرار کیا جارہا تھا کہ بھینسہ میں واقع قیمتی اوقافی اراضی کے تحفظ کے لئے وقف بورڈ این او سی جاری کردے۔ بھینسہ کے عبداللہ خاں قبرستان کے تحت 4111 مربع گز اوقافی اراضی سروے نمبر 330/2 میں موجود ہے۔ اس اراضی کے بارے میں وقف بورڈ میں مکمل ریکارڈ موجود ہیں۔ تاہم مقامی بلدیہ اس اراضی پر اپنا دعویٰ پیش کر رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بلدیہ میں اہم عہدہ پر فائز مقامی جماعت کے قائد نے اس اراضی پر تقریباً 15 ملگیات تعمیر کرلی ہے اور وقف بورڈ کے عہدیداروں کو اراضی کے سروے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔ مقامی بلدیہ کا یہ دعویٰ ہے کہ 1954 ء میں اس نے یہ اراضی حاصل کی تھی جبکہ 1950 ء کے پہانی کے اعتبار سے قبرستان کی موجودگی کا ثبوت موجود ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس اراضی پر مقامی بلدیہ کی دعویداری ہے، اس کی کمپاؤنڈ وال کی تعمیر کیلئے وقف بورڈ کی جانب سے این او سی کیوں جاری کیا جائے۔ دراصل مقامی سیاسی جماعت کے قائد کو فائدہ پہنچانے اور بلدیات کے تحفظ کیلئے این او سی حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ سابق سی او محمد اسد اللہ نے اس اراضی کا شخصی طور پر معائنہ کیا تھا اور اس وقت مقامی جماعت کے قائد نے ا نہیں گھر طلب کیا لیکن انہوں نے جانے سے انکار کردیا جس پر الزام عائد کیا کہ اسد اللہ نے بھاری رقومات حاصل کرلی ہے۔ وقف بورڈ کے انسپکٹر آڈیٹر اور سرویئر نے جب اراضی کے سروے کی کوشش کی تو مقامی جماعت کے قائد نے ان کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر درج کرایا تھا۔ وقف بورڈ کے عہدیدار اس اراضی کا معائنہ کرنے یا سروے کرنے کیلئے خوفزدہ ہے ۔ بتایا جاتاہے کہ رکن اسمبلی کے ذریعہ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے وقف بورڈ سے خواہش کی ہے کہ اس مسئلہ کو بورڈ کی میٹنگ میں رکھتے ہوئے این او سی جاری کیا جائے۔ وقف بورڈ کو بتایا گیا کہ این او سی کی اجرائی کی صورت میں بلدیہ 21 لاکھ روپئے کے خرچ سے کمپاؤنڈ وال تعمیر کرے گی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وقف اراضی کی کمپاؤنڈ وال بلدیہ اپنے خرچ سے کیوں تعمیر کرے گی۔ الغرض اس معاملہ میں مقامی جماعت کے قائد کو فائدہ پہنچانے کی زبردست کوششیں کی جارہی ہیں جبکہ مقامی افراد اس اراضی کے تحفظ کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے اس بارے میں جب وقف بورڈ کے عہدیداروں سے مشاورت کی تو انہوں نے بتایا کہ این او سی کی اجرائی کی صورت میں یہ قیمتی اراضی وقف بورڈ کے کنٹرول سے نکل جائے گی۔ انہو نے وقف ریکارڈ اور پہانی کے اعتبار سے اوقافی اراضی کے ثبوت پیش کئے اور بھینسہ میں دورہ کے موقع پر پیش آئے واقعات بیان کئے۔ بتایا جاتا ہے کہ محمد سلیم نے اس قیمتی اراضی کے تحفظ کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلہ پر اگرچہ بورڈ کے اجلاس میں غور کیا جائے گا تاہم این او سی کی اجرائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مقامی سیاسی جماعت کے قائدین اور کارکنوں کی جانب سے حیدرآباد اور اضلاع میں اوقافی جائیدادوں کی تباہی اور اسے ذاتی ملکیت بنانے کی کوششوں کا تسلسل جاری ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ 23 مئی کو وقف بورڈ کے اجلاس میں بھینسہ کی اس قیمتی اراضی کے تحفظ کیلئے ارکان کیا فیصلہ کریں گے ۔

TOPPOPULARRECENT