Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / بھینسہ کے تین قبرستانوں کی حصار بندی کیلئے این او سی کی اجرائی سے انکار

بھینسہ کے تین قبرستانوں کی حصار بندی کیلئے این او سی کی اجرائی سے انکار

موقف کا جائزہ لینے وقف بورڈ کی جانب سے سہ رکنی کمیٹی کی تشکیل ۔ صدر نشین الحاج محمد سلیم کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 23 ۔ مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ نے بھینسہ کے تین قبرستانوں کے موقف کا جائزہ لینے دو ارکان اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر پر مشتمل سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی ۔یہ کمیٹی اندرون تین یوم بھینسہ کا دورہ کرکے وقف اراضیات کا معائنہ کریگی اور اندرون ایک ہفتہ اپنی رپورٹ پیش کردے گی۔ بورڈ کے اجلاس میں آج یہ مسئلہ زیر بحث آیا ۔ صدرنشین بورڈ محمد سلیم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھینسہ کے قبرستانوں کے بارے میں جو تنازعہ پیدا ہوا ہے ، اس کا جائزہ لینے مولانا اکبر نظام الدین اور جناب ملک معتصم خاں ارکان وقف بورڈ کے علاوہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر ایم اے منان فاروقی بورڈ کے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ بھینسہ کا دورہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ تین قبرستانوں کے حقیقی موقف کا جائزہ لیتے ہوئے وقف ریکارڈ اور مقامی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا ۔ محمد سلیم نے کہا کہ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق بورڈ آئندہ اجلاس میں فیصلہ کریگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر رپورٹ میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ 3111 مربع گز پر مشتمل عبداللہ خاں قبرستان وقف اراضی ہے تو وہاں کسی تجارتی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائیگی اور بورڈ اراضی کا تحفظ کریگا۔ بتایا جاتاہے کہ مقامی جماعت کے ارکان نے بھینسہ کی اراضی کے بارے میں حیدرآباد رکن پارلیمنٹ کے روانہ کردہ مکتوب کے افشا پر سخت اعتراض کیا اور اس معاملہ کی جانچ کرنے کی مانگ کی۔ تحقیقات کیلئے وقف بورڈ کے کسی عہدیدار کے نام پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا کیونکہ کوئی بھی عہدیدار غیر جانبدارانہ تحقیقات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ لہذا چیف اگزیکیٹیو آفیسر منان فاروقی سے خواہش کی گئی کہ وہ خود اس معاملہ کی جانچ کریں کہ کس سیکشن سے مکتوب کا افشا ہوا ہے۔ بھینسہ میونسپلٹی کی جانب سے تین قبرستان کی حصار بندی کے سلسلہ میں وقف بورڈ سے نو آبجیکشن سرٹیفکٹ کی اجرائی کی درخواست کی گئی تھی ۔ تاہم وقف بورڈ نے این او سی کی اجرائی سے انکار کرتے ہوئے اس معاملہ کی جانچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ متعلقہ انسپکٹر آڈیٹر سے رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ سہ رکنی کمیٹی دورہ بھینسہ کے موقع پر فریقین کی نمائندگیوں کی سماعت کریگی اور ریکارڈ کا جائزہ لے گی۔ بورڈ نے مسجد عیدگاہ گٹالہ بیگم پیٹ کو اپنی راست نگرانی میں لینے کا فیصلہ کیا ہے ، اس سلسلہ میں انتظامات کی مستقل نگرانی کیلئے بورڈ سے عہدیدار کا تقرر کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ میں منیجنگ کمیٹی کیلئے دو علحدہ پیانل داخل کئے گئے تھے ، تاہم کسی ایک پیانل کو بھی منظوری نہیں دی گئی اور فی الوقت راست نگرانی میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے بتایا کہ اندرون 15 یوم اڈہاک کمیٹی تشکیل دی جائیگی اور وہ چاہتے ہیں کہ مسجد تعمیر کرنے والے حیدرآبادی این آر آئی شہری کو کمیٹی کا صدر مقرر کیا جائے۔ بورڈ میں مسجد کے موثر انتظامات اور خاص طور پر رمضان المبارک کو پیش نظر رکھتے ہوئے کسی عہدیدار کو مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وقف بورڈ میں ریٹائرڈ اور ضعیف العمر افراد کی خدمات کی برقراری کے مسئلہ پر بھی مباحث ہوئے۔ گزشتہ اجلاس میں بعض ضعیف العمر افراد کے تقرر پر اعتراض کرکے بورڈ نے خدمات کو ختم کردیا تھا۔ سی ای او نے بورڈ سے خواہش کی تھی کہ اس فیصلہ کو واپس لے کیونکہ جن ملازمین کے نام اس فہرست میں شامل کئے گئے تھے، وہ بورڈ کیلئے ضروری ہیں۔ اس تجویز کا جائزہ لینے کے بعد بتایا جاتا ہے کہ بورڈ نے اصولی طور پر فیصلہ کیا کہ 65 سال کی عمر تک کے افراد کو بورڈ میں ذمہ داریاں دی جائیں۔ اس سے زائد عمر کے ملازمین کو سبکدوش کردیا جائے جنہیں عارضی طور پر ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ بورڈ نے کسی مخصوص ریٹائرڈ عہدیدار کا نام لئے بغیر 65 سال کی عمر کی حد مقرر کردی ہے۔ اجلاس میں درگاہ حضرت سالار اولیاءؒ حفیظ پیٹ کے متولی کے تقرر کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مستقل طور پر تقرر کی منظوری کے خلاف بورڈ کے رکن وحید احمد ایڈوکیٹ نے اپنا اختلافی نوٹ تحریر کرایا۔ درگاہ کے تحت تقریباً 140 ایکر اراضی ہے اور بیشتر اراضی پر ناجائز قابضین ہیں۔

TOPPOPULARRECENT