Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / بھینسہ کے قبرستان کی اراضی پر مقامی جماعت کا جھوٹ بے نقاب

بھینسہ کے قبرستان کی اراضی پر مقامی جماعت کا جھوٹ بے نقاب

این او سی کیلئے حیدرآباد ایم پی کا مکتوب، بھینسہ کے قائد نے کیا انکار، وقف بورڈ کو گمراہ کرنے علحدہ قراردادیں، بھینسہ کے مسلمانوں میں برہمی
حیدرآباد۔/20مئی، ( سیاست نیوز) مقامی سیاسی جماعت کی سرپرستی میں بھینسہ کے ایک مقامی قائد کی جانب سے قیمتی اوقافی اراضی کو ہڑپنے کیلئے اختیار کردہ نت نئے ہتھکنڈے بے نقاب ہوچکے ہیں۔ بھینسہ کے مسلمانوں کو مطمئن کرنے کیلئے مقامی طور پر علحدہ بیان جاری کیا گیا جبکہ وقف بورڈ میں اوقافی اراضی کی کمپاونڈ وال کی تعمیر کے سلسلہ میں این او سی حاصل کرنے کی سرگرمیاں مقامی جماعت کی حقیقت کو ظاہر کررہی ہیں۔ ایک طویل عرصہ سے بھینسہ کے عبداللہ خان قبرستان کے تحت 3111 مربع گز قیمتی اراضی کو ہڑپنے کیلئے اسے بلدیہ کی اراضی قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ اس اراضی پر تقریباً 40 ملگیات تعمیر کی جاچکی ہیں جو یقینی طور پر قبرستان کو مسمار کرکے تعمیر کی گئیں۔ لیکن افسوس کہ مسلمانوں کی نمائندگی اور اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا دم بھرنے والی قیادت نے وقف بورڈ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے این او سی کی اجرائی کی سفارش کی ہے۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ جو وقف بورڈ کے رکن بھی ہیں‘ 4 اپریل کو بھینسہ میونسپلٹی کی قرارداد کے حوالہ سے صدرنشین وقف بورڈ کو مکتوب روانہ کیا اور 3 قبرستانوں کی حصار بندی کیلئے این او سی جاری کرنے کی سفارش کی۔ رکن پارلیمنٹ کا مکتوب اور بھینسہ میونسپلٹی کی قرارداد ’سیاست‘ کے پاس محفوظ ہے۔ اس قیمتی اوقافی اراضی کو ہڑپنے کیلئے کئی ہتھکنڈے استعمال کئے گئے اور وقف بورڈ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ رکن پارلیمنٹ کے مکتوب کے ساتھ میونسپلٹی کی قرارداد نمبر 134 منسلک کی گئی جبکہ وقف بورڈ کو بھی علحدہ 134 قرارداد روانہ کی گئی لیکن دونوں قراردادوں میں کافی فرق ہے۔ آخر کس قرارداد کو درست مانا جائے۔ رکن پارلیمنٹ کے ذریعہ روانہ کی گئی قرارداد میں وقف گزٹ میں موجود بھینسہ کے 3 قبرستانوں کا تذکرہ ہے اور سیریل نمبر 7601 تا 7603 کا ذکر موجود ہے۔ لیکن وقف بورڈ کو روانہ کی گئی اسی نمبر کی یعنی 134 قرارداد میں صرف سیریل نمبر 7602 کے تحت قبرستان کا تذکرہ ہے جس کا سروے نمبر 330/2 ہے۔ اس قرارداد میں قبرستان کا نام شامل نہیں کیا گیا بلکہ صرف تین حصوں میں فی کس 2 لاکھ روپئے کے حساب سے حصار بندی کی بات کہی گئی۔ قبرستان کے نام کے بجائے دارالعلوم کے قریب موجود مسلم قبرستان لکھا گیا۔ حالانکہ وقف گزٹ میں اس سیریل اور سروے نمبر کے تحت متولی کا نام درج ہے اور بھینسہ میں یہ عبداللہ خان قبرستان کے نام سے مشہور ہے۔ وقف گزٹ کے مطابق سیریل نمبر 7601 کے تحت 4 گنٹے اراضی پر مسلم قبرستان موجود ہے جس کا سروے نمبر 330/2 ہے اور اسی سروے نمبر کے تحت سیریل نمبر 7602 میں 3111 مربع گز پر محیط ایک اور قبرستان کا تذکرہ موجود ہے۔ روز نامہ ’سیاست‘ نے اس اراضی کو ہڑپنے کی کوششوں کو جب بے نقاب کیا تو وقف بورڈ نے فوری حرکت میں آتے ہوئے این او سی کی اجرائی روک دی اور اس معاملہ کو 23 مئی کے وقف بورڈ اجلاس سے رجوع کردیا گیا۔ مسلمانوں کی نظریں اب بورڈ کے اجلاس پر ٹکی ہیں کہ آیا مقامی جماعت کے دباؤ کے تحت این او سی کی اجرائی کا فیصلہ کرلیا جائے گا۔؟ مقامی جماعت کے قائد نے بھینسہ میں مسلمانوں کو گمراہ کرنے کیلئے ترجمان اخبار میں بیان دیا اور کہا کہ عبداللہ خان قبرستان کی حصاربندی کے بارے میں نمائندگی نہیں کی گئی بلکہ مولوی صاحب دائرہ قبرستان کے تعلق سے نمائندگی کی گئی جبکہ رکن پارلیمنٹ کے ذریعہ اور راست طور پر روانہ کی گئی میونسپلٹی کی قرارداد میں عبداللہ خان قبرستان کا نام لئے بغیر ذکر معہ سروے نمبر درج ہے۔ اس کے علاوہ مقامی جماعت کے قائد کی نیت بیان کے اس جملہ سے بے نقاب ہوگئی کہ وقف بورڈ کے سرویئر اور محکمہ مال کے مشترکہ سروے میں عبداللہ خان قبرستان کو بلدیہ کی اراضی قراردیا گیا ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر منان فاروقی نے اس دعویٰ کی سختی سے مذمت کی اور کہا کہ وقف ریکارڈ میں یہ اراضی درج ہے اور وقف سرویئر نے کبھی بھی اسے بلدیہ کی اراضی قرار نہیں دیا۔ حالانکہ مقامی سطح پر اس سلسلہ میں کافی دباؤ بنایا گیا۔ عبداللہ خان قبرستان کو این او سی کے نام پر حاصل کرنے کی بلدیہ کی ایک اور کوشش کا اندازہ قرارداد کی تحریر سے ہوتا ہے۔ بلدیہ نے اپنی قرارداد میں عبداللہ خان قبرستان کی اراضی کو صرف نوٹیفائیڈ اراضی لکھا ہے جبکہ دیگر دو قبرستانوں کی اراضی کو نوٹیفائیڈ وقف اراضی لکھا۔ اگر اس باریکی میں گئے بغیر وقف بورڈ این او سی جاری کردے تو بھینسہ میونسپلٹی کو یہ کہنے کا موقع حاصل ہوجائے گا کہ انہوں نے کبھی بھی اسے وقف اراضی نہیں کہا تھا۔ رکن پارلیمنٹ کے مکتوب کے ساتھ روانہ کی گئی 3 قبرستانوں کی فہرست میں 2 قبرستانوں کے نام درج ہیں لیکن عبداللہ خان قبرستان کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ اس قرارداد میں قبرستانوں کی درج کی گئی ترتیب بھی سیریل کے اعتبار سے غلط ہے۔ پہلے سیریل نمبر 7602 کا ذکر کیا گیا جبکہ اس کے بعد 7601 اور پھر 7603 کا ذکر ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ پہلے 7601 کا ذکر کیا جاتا۔’ سیاست‘ کی بروقت چوکسی کے نتیجہ میں عبداللہ خان قبرستان کی اراضی کے تحفظ سے بھینسہ کے مسلمانوں میں مسرت کی لہر دوڑ گئی اور وہ مقامی سیاسی جماعت کے قائد کی سرگرمیوں پر برہم ہیں۔ مسلمانوں کو اس بات پر حیرت ہے کہ کس طرح حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اوقافی جائیدادوں کی تباہی کے ذمہ داروں کی سرپرستی کررہے ہیں۔ یوں بھی حیدرآباد میں ٹولی مسجد کی قیمتی اوقافی اراضیات پر مقامی جماعت کے حامیوں نے شادی خانے تعمیر کرلئے ہیں اور وقف بورڈ بے بس دکھائی دے رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT