Wednesday , October 18 2017
Home / مذہبی صفحہ / بھیک مانگنا گھناؤنا فعل ، پیشہ ور بھکاریوں کو دینا درست نہیں

بھیک مانگنا گھناؤنا فعل ، پیشہ ور بھکاریوں کو دینا درست نہیں

حضور نبی کریم ﷺ کے زمانے میں تین چار سو ایسے مہاجر صحابہ کرام تھے جن کے پاس نہ مال تھا نہ اہل اور نہ سر چھپانے کے لئے جھونپڑا۔ وہ بارگاہِ رسالت میں حاضر رہتے اور جس کام کیلئے حکم ملتا اس کی تعمیل کرتے۔ جب کہیں سرایابھیجنے کی ضرورت ہوتی یہ بے تامّل حاضر ہوتے اور جب فارغ ہوتے تو قرآن کریم یاد کرتے اور حدیث پاک کو حفظ کرتے۔ ان کی رہائش کیلئے حضور ﷺ نے مسجد ہی میں ایک جھونپڑا بنوا دیا تھا۔ فقر و تنگدستی کے باوجود عزت نفس اور خود داری کا یہ عالم تھا کہ کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلاتے ۔جیسی بھی گزرتی خاموشی اور صبرسے گزاردیتے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سور ہ بقرہ،آیت نمبر۲۷۳ کے ذریعہ مسلمانوں کی توجہ ان کی طرف مبذول کرائی ۔ ایسے لوگوں کو تلاش کریں جو سوال نہیں کرتے اور صبر سے گزارتے ہیں۔ ان کی تعریف قرآن مجید میں کی گئی اور ان ہی کو دینے کا حکم ہوا ہے۔ قرآن و حدیث میں بھیک مانگنے کی سخت مذمت آئی ہے اور صبر و شکر سے رہنے ، سوال نہ کرنے والوں کی فضیلت بھی آئی ہے۔ جس طرح ہٹے کٹے اور جعلی فقیر و مسکین کا بھیک مانگنا درست نہیں اسی طرح ان پیشہ ور بھکاریوں کو بھیک دینا بھی درست نہیں۔ بھیک مانگنا انتہائی قبیح عمل ہے ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ اگر ان بھکاریوں کو بھیک دینا جائز نہیں تو پھر واقعی حاجت مندکی پہچان کیسے ہوگی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سب سے زیادہ حقدار اپنے قریبی لوگ ہیں۔ ان میں رشتہ دار، دوست احباب اور وہ لوگ ہیں جن کو آپ جانتے ہیں کہ یہ لوگ واقعی ضرورت مند ہیں۔ اس کے بعد تمام لوگوں کے چاہئے کہ اپنے اپنے علاقے اور محلہ میں تلاش کریںکہ کون ایسے شریف لوگ ہیں جو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے ہیں اور سوال نہیںکرتے ، شرماتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ڈھونڈ کر ان کو ان کا حق دیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT