Tuesday , October 17 2017
Home / مضامین / ’’ بہادر ترک عوام کو سلام‘‘

’’ بہادر ترک عوام کو سلام‘‘

مجید صدیقی
ترکی میں فوجی بغاوت ناکام ہوگئی اور صدر ترکی رجب طیب اردغان نے بغاوت پر قابو پاتے ہوئے اپنے 13سالہ دور حکومت کو بچالیا ۔ اس فوجی بغاوت کی ناکامی کا سہرا ترکی کے بہادر عوام کو جاتا ہے جو اپنی جان پر کھیل کر گولیوں کے سامنے سینہ سپر ہوگئے اوردبابوں اور ٹینکوں کو روکنے کی خاطر اُن کے سامنے لیٹ گئے ۔ ترکی جو ایک مسلمان یوروپی ملک ہے اور یورپی یونین کا ممبر بننے جارہا ہے اور ناٹو کا شریک ملک ہے ‘ دفاعی اور سیاسی طور پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ یہ بغاوت ایک ایسے موقع پر کی گئی جبکہ صدر ترکی طیب اردغان ملک سے باہر گئے ہوئے تھے اور جیسے ہی انہیں اس بغاوت کی اطلاع ملی تو انہوں نے اولین صبح استنبول ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی اور وہیں سے قوم کو خطاب کرتے ہوئے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر ڈٹے رہیں اور باغی فوجیوں ‘ پولیس اور دوسرے باغیوں کی سخت مزاحمت کرتے ہوئے انہیں گرفتار کروائیں ۔ صدر اردغان نے بغاوت کی ابتدائی خبروں کے بعد ہی اپنے پیغامات میں عوام کو فوجی بغاوت کو ناکام بنانے کی ہدایات جاری کیں تھیں ۔ استنبول کے قریب ہی باسفورس پُل اور تقسیم اسکوائر پر عوام کرفیو اور تمام تحدیدات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پر جمع ہوگئے اور باسفورس پُل پر جو فوجی عوام پر گولیاں برسا رہے تھے ان کے ہتھیار چھین لئے اور انہیں ٹینکوں اور دبابوں سے نکال نکال کر پیٹنا شروع کیا اور انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا اور انہیں عوام گرفتار کروایا ۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن نشر گاہوں سے فوجی بغاوت شروع ہوتے ہی پیغامات کا سلسلہ جاری کردیا تھا تاکہ ترکی میں فوج نے بغاوت کردی ہے اور اب ملک کے اہم شہروں پر فوج کا کنٹرول قائم ہوچکا ہے لیکن نہتے عوام نے اپنے قائد طیب اردغان ‘ اپنے ملک ترکی کو اس فوجی انقلاب سے بچانے کیلئے سردھڑ کی بازی لگادی کیونکہ اُن کے سامنے اسی طرح کے فوجی انقلاب کی مثالیں موجود تھیں جو کہ مغرب اور امریکہ ( یورپ) کی اسپانسر کی ہوئی تھیں ان سے ملک شام ‘ عراق ‘ افغانستان ‘ لیبیا ‘ الجیریا اور یمن میں برسرپیکار ہیں ‘ جہاں سے لاکھوں عوام بحیثیت پناہ گزین دوسرے ملکوں کو منتقل ہوچکے ہیں ( شام سے ) اور وہاں امریکی یورپی حلیفوں نے نہ صرف نظام حکومت تباہ کرڈالا بلکہ عمارتوں کو ملبہ کے ڈھیر میں تبدیل کر کے لاکھوں انسانوں کو تہہ تیغ کرچکے ہیں اور اب وہاں نہ ہاسپٹلس ہیں ‘ نہ دوائیں ہیں ‘ نہ غذا ہے اور نہ انسان ہیں ۔ وہاں اب  صرف خاموشی اور سناٹے کا راج ہے ۔ ترک عوام نے اپنے ملک کو اپنے مذہبی تشخص کو بچا لایا لیکن اُس کے لئے انہیں اپنی جانوں کی بیش قیمت قربانیاں دینی پڑیں ۔
ترکی میں بغاوت کے بعد مسلسل مشتبہ مقامات پر دھاوے جاری ہیں اور اس بیچ ہزاروں عہدیداروں کو برطرف کردیا گیا ہے ۔ اس فوجی بغاوت کا علمبردار کون ہے اور کس نے اس انقلاب کی رہنمائی کی ‘ ابھی تک یہ معلوم نہ ہوسکا لیکن بتایا جاتا ہیکہ سابق ایئرفورس کمانڈ جنرل ’’ اکین از ترک ‘‘ اس کے ماسٹر مائنڈ ہوسکتے ہیں جنہیں گرفتار کیا جاچکا ہے ۔ استنبول میں باوقار ملٹری اکیڈیمی پر دھاوا کر کے چار مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے ۔ حکام نے جنرل محمد ویسلی کو بھی حراست میں لے لیا جنہوں نے بغاوت کے دوران چیف آف اسٹاف بلوسی اکر کو پکڑنے کی کارروائی انجام دی تھی ۔ اس دوران یہ اندیشے اُبھر رہے ہیںکہ فوجی بغآوت اور اتنی زیادہ گرفتاریوں کے نتیجہ میں ترکی میں پھر سے ’’ سزائے موت ‘‘ کا قانون بحال کیا جاسکتا ہے ۔ یہاں سزائے موت کا قانون ختم کردیا گیا تھا جبکہ مغربی ممالک نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ اقوام متحدہ ‘ امریکہ اور یورپی یونین نے بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے خلاف طاقت کی ضرورت سے زیادہ استعمال کے بارے میں خبردار کیا ہے ۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے ترجمان نے سڑکوں پر سپاہیوں کے ساتھ انتقامی رویہ کی مذمت کی ہے اور کہا کہ مشتبہ افراد کے ساتھ جنہیں حراست میں لے لیا گیا ہے روا رکھے گئے سلوک پر جرمنی کو تشویش ہے۔

صدر ترکی اور عوام کا خیال ہے کہ ترکی کی اس فوجی بغاوت کے پیچھے ممتاز عالم دین اور صوفی فتح اللہ گولن ہوسکتے ہیں جو 2013ء سے امریکہ میں مقیم ہیں اور جنہیں امریکہ کی ہر لحاظ سے سرپرستی حاصل ہے ۔ گولن کے 2013ء میںطیب اردغان سے تعلقات خراب ہونے اور نظریات میں اختلافات ہونے کے بعد سے انہوں نے امریکہ جاکر خود ملک بدری اختیار کرلی تھی ۔ آج بھی دنیا کے کونے کونے میں گولن کے نظریات کو ماننے والے مسلمانوں کی کمی نہیں ہے ۔ خود ترکی میں پولیس ‘ فوج اور عام ملازمین میں گولن کے سخت گیر حامی بڑی تعداد میں شامل ہیں جنہیں بغآوت کے بعد حکومت گرفتار کررہی ہے جس میں گولن کے ایک بھتیجہ بھی شامل ہے لیکن اس درمیان فتح اللہ گولن کا کہنا اس بغاوت میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے ۔ بغاوت کے فوری بعد ترکی کے وزیر خارجہ نے امریکہ پر الزام لگایا تھا کہ ترکی میں بغاوت امریکہ کی ایماء پر کی گئی ہے لیکن وزیر خارجہ امریکہ جان کیری اور صدر امریکہ بارک اوباما نے اس بغاوت کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ امریکہ ترکی کی منتخبہ جمہوریت کے استحکام کیلئے ہمیشہ کوشاں رہتا ہے اور اس کا اس بغاوت میں کوئی ہاتھ نہیں ہے ۔ بہرحال اس طرح کی امریکی سیاست ہر زمانے میں چلتی ہی رہتی ہے اور امریکہ کی ناپسندیدہ حکومتیں بدل دی جاتی رہی ہیں ۔ طیب اردغان صدر ترکی کے اسلام کی جانب جھکاؤ اور اس طرح کے فیصلے جو مسلمانوں کی تائید اور مسلمانوں کی بہبودی کیلئے اردغان نے کئے ہیں ۔ امریکہ کو اس طرح کے فیصلوں سے سخت ناراضگی ہے جو کہ دونوں ملکوں میں تعلقات کی کشیدگی کا باعث بنے ہوئے ہیں ۔

فتح اللہ گولن اسرائیل سے قربت اور دوستی کو ترجیح دیتے ہیں اور مغربی طرز زندگی اور امریکہ کے ہمنوا ہیں ‘ بس یہی دو نکات صدر ترکی رجب اردغان کو ناپسند ہیں ۔ امریکہ چاہتا ہیکہ جس طرح اس نے صدام حسین اور معمر قذافی کو خود وہاں کے عوام کے ذریعہ قتل کروایا ۔ ایسا ہی ترکی میں بھی ہو افغانستان ‘ شام ‘ عراق اور لیبیا اور پاکستان میں کم و بیش صرف طالبان اور آئی ایس کی حکومت نظر آتی ہے اور وہاں روز ہی خودکش دھماکوں میں ہر روز درجنوں افراد مارے جاتے ہیں ۔ نہ تو ان ملکوں میں اسلامی قانون ہے اور نہ ہی کوئی منتخبہ سیکولر ( حکومت) قائم ہے ۔ امریکہ اور یورپی ممالک بشمول روس یہی چاہتے ہیں کہ مسلم ممالک آپس میں دست گریباں ہوکر اپنے ہی بھائیوں کا خون بہائیں اور دنیا میں حد سے زیادہ کمزور قوم بن جائیں ۔ صدام حسین اور قذافی نے ان ملکوں عراق اور لیبیا پرایک طویل عرصہ تک حکومت کرکے وہاں کی معیشت فوج ‘ تعلیم اور صحت اور عوام کی معیار زندگی کو بھی بلند کیا تھا ۔ دوسری طرف یہ دونوں عرب قائدین امریکہ اور روس کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کرسکتے تھے ۔ اس طرح صدام حسین نے امریکہ سے اور اس کے اتحادیوں سے تن تنہا مقابلہ کرکے 23دن تک امریکہ کو چنے چبوادیئے تھے ۔ ان سوپر پاؤرس کو یہ بات کہاں پسند کہ امریکہ اور روس کے علاوہ دنیا میں کوئی تیسری قوت اُبھر کر آئے خصوصاً مسلمان حکومتوں سے تو انہیں خداواسطے کا بیر ہے کیونکہ صلیبی جنگیں دو تین سو سال پہلے تک عیسائیوں اور مسلمانوں کے بیچ لڑکی جاچکی ہیں لیکن اب یہ 21ویں صدی کی سازشی اور مکارانہ جنگیں ہیں ۔چلکاٹ رپوٹ نے صاف صاف بتادیا کہ عراق جنگ میں  برطانیہ ( ٹونی بلیر) اور امریکہ ( جارج بُش) اور دوسری اتحادی فوجوں نے عراق کے پاس کیمیائی ہتھیاروں ‘نیوکلیئر ہتھیاروں کی موجودگی کا بہانہ بناکر اب تک 5لاکھ سے زیادہ انسانوں کو ہلاک کردیا جس میں بچے ‘ خواتین ‘ ضعیف حضرات ‘ مفکرین ‘ پروفیسرس ‘ ڈاکٹرس ‘ فوجی آفیسرز اور نوجوان شامل ہیں ۔ آج بھی شام میں روس کی مداخلت نے حالات کو اور پیچیدہ بنادیا ہے ۔ اگر کل ایران اور روس شام سے نکل جاتے ہیں تو دوسرے دن بشارالاسد کسی دوسرے ملک کو بھاگ کر پناہ لیں گے اور ملک امن اور سلامتی کی طرف لوٹ آئے گا ۔ بشارالاسد کی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے تقریباً 10لاکھ سے زیادہ لوگ شام سے بطور پناہ گزین جرمنی ‘ ترکی ‘ امریکہ ‘ آسٹریلیا ‘ آسٹریا اور کینیڈا جاکر وہاں ہرطرح کی تکالیف اور ذلت اٹھا رہے ہیں ۔ راستوں میں کئی سو لوگ کشتیوں میں سمندر میں غرق ہوچکے ہیں ۔ دوران سفر شام میں اب تک کی خانہ جنگی میں اندازاً 5لاکھ کے قریب افراد موت کے منہ میں جاچکے ہیں ۔ حکمراں بشارالاسد اپنے عوام پر کبھی بیرل بم ‘ کبھی کمیکلز بم اور کبھی نیوکلیئر میزائلیوں سے بمباری کروا رہا ہے‘ اس میں لاکھوں بچے ‘ عورتیں اور سیویلین شہری مارے جاچکے ہیں ۔ جہاں تک  داعش کا تعلق ہے ۔ داعش کا البغدادی خود امریکہ کا ایک مخبر ہے ۔ داعش اب تک ہزاروں مسلمانوں کو ہلاک کرچکا ہے ۔ خواتین سے بدسلوکی اور نوجوانوں کو اذیتیں پہنچانا داعش کا محبوب مشغلہ ہے ۔ داعش ‘ طالبان ‘ حوثی باغی ‘ حزب اللہ ‘ حرکت المجاہدین ‘ لشکرطیبہ ان سب دہشت گرد تنظیموں کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ یہ سب تنظیمیں اسلام کا نام دنیا میں بدنام کررہی ہیں ۔ مسلمان تو چیونٹی کو بھی بلاضرورت نہیں مارتا ‘ بدقسمتی سے ہمارے ملک ہندوستان میں بھی چند تنظیمیں ایسی اُبھر رہی ہیں جو جانوروں (گائے ) کو انسانوں پر ترجیح دی رہی ہیں ۔ ان کا مقصد بھی صرف تفرقہ پیدا کرنا ہے ‘ وہ بھی اپنے مذہب کے سچے ہیرو نہیں ہیں ۔ کوئی مذہب بھی چاہے وہ ہندو مذہب ہو ‘ مسلمانوں کا  اسلام ہو یا پھر عیسائی مذۃب ہو انسانوں کو تفریق اور ایذا پہنچانے کی تعلیم نہیں دیتا جیسے ’’ مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا ‘‘ کے مترادف ہمیں سمجھنا چاہیئے کہ اتفاق میں بھلائی ہے ‘ نراج میں برائی ہے ۔

بات ہورہی تھی ترکی کے انقلاب و بغاوت کی اور ہم ذرا دوسرے موضوع پر چلے گئے حالانکہ باغی ترکی کو بھی عراق ‘ لیبیاء ‘ افغانستان ‘ شام ‘ یمن اور پاکستان کے طرز پر برباد کرنا چاہ رہے تھے جہاں لوگ دواؤں ‘ غذا کی فراہمی اور اسکولوں کیلئے ترس رہے ہیں ۔ فلسطین میں بھی کم و بیش اسرائیل کا یہی ظلم و ستم جاری ہے ۔ آخر سارے عالم اسلام ہی میں کیوں اس قدر بے چینی ‘تباہی اور خانہ جنگی چل رہی ہے ۔ اس پس منظر میں ہم بہادر ترکوں کو سلام کرتے ہیں کہ ان کی بروقت چوکسی اور اپوزیشن جماعتوں ‘ بعض وفادار فوجیوں کے بروقت اقدامات کی وجہ سے آج صدر ترکی اردغان کی قیادت میں ایک اسلامی ملک کی حیثیت سے کھڑا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT