Tuesday , September 19 2017
Home / Top Stories / بہار:پہلے مرحلہ میں آج 49 حلقوں میں رائے دہی

بہار:پہلے مرحلہ میں آج 49 حلقوں میں رائے دہی

SASARAM, OCT 11 (UNI):- Police personnel carrying EVM machines to polling booths ahead of the 1st phase of Bihar assembly polls in Sasaram on Sunday. UNI PHOTO-113U

1.35 کروڑ ووٹرس 583 امیدواروں کے مقدر کا فیصلہ کریں گے، 13,212 پولنگ اسٹیشنوں پر نیم فوجی فورسس تعینات
پٹنہ۔11اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) بہار اسمبلی کے پانچ مرحلوں کے تحت منعقد شدنی انتخابات کے پہلے مرحلے میں کل پیر کو 49 حلقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے جس کے لئے وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے حریف نتیش کمار و لالو پرساد یادو نے انتھک مہم چلائی تھی اور کئی مقامات پر سلسلہ وار ریالیوں سے خطاب کیا تھا۔ ایڈیشنل چیف الیکٹورل آفیسر آر لکشمانند نے کہا کہ پیر کو 1,35,72,339 ووٹرس حق رائے دہی سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ اس طرح پہلے مرحلے کے تحت 10 اضلاع میں 49 نشستوں کے لئے مقابلہ کرنے والے 583 امیدواروں کے مقدر کا فیصلہ بیلٹ باکس میں محفوظ ہوجائے گا۔ لکشمانند نے کہا کہ رائے دہی کا آغاز صبح 7 بجے ہوگا اور شام 5 بجے اختتام عمل میں آئے گا۔ بعض مخدوش علاقوں میں جہاں نکسلائٹ سرگرم ہیں، صورتحال کو ملحوظ رکھتے ہوئے شام 4 بجے یا سہ پہر 3 بجے رائے دہی کا عمل مکمل کرلیا جائے گا۔

ایک کروڑ 35لاکھ 72 ہزار 339 رائے دہندوں کے منجملہ 72 لاکھ 37 ہزار 253 مرد، 63 لاکھ 17 ہزار 602 خواتین کے علاوہ 405 رائے دہندے تیسری جنس سے تعلق رکھتے ہیں۔ لکشمانند نے کہا کہ 583 امیدواروں کے منجملہ 54 خواتین ہیں۔ بہار میں اگرچہ مایاوتی کی جماعت بی ایس پی کا کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے، اس کے باوجود اس پارٹی نے 49 کے منجملہ 41 حلقوں میں اپنے امیدوار نامزد کیئے ہیں۔ جبکہ اس علاقہ میں معمولی اثر رکھنے والی بی جے پی نے 27 امیدوار نامزد کیئے ہیں۔ نتیش کمار کی جنتادل یو نے 24 اس کی حلیف آر جے ڈی نے 17، کانگریس نے 8 امیدوار نامزد کئے ہیں۔ ایل جے پی کے 13 راشٹریہ لوک سمتا پارٹی کے 6 اور ہندوستانی عوامی مورچہ کے 3 امیدوار بھی قسمت آزمائی کررہے ہیں۔ بائیں بازو محاذ نے بھی اس مرتبہ کئی حلقوں سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سی پی آئی کے 25 اور سی پی آئی (ایم) کے 12 امیدوار پہلے مرحلے کے انتخابات میں مقابلہ کررہے ہیں۔ لکشمانند نے کہا کہ 13,212 پولنگ اسٹیشنوں میں پرامن رائے دہی کو یقینی بنانے کے لئے سخت ترین سکیوریٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔ بہار اسمبلی کے لئے 12 اکٹوبر سے 5 مرحلوں کے انتخابات کا آغاز ہوگا اور 5 نومبر کو یہ عمل مکمل ہوجائے گا۔ 8 نومبر کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔

بہار کی 243 رکنی اسمبلی کی میعاد 29 نومبر کو اختتام پذیر ہوگی۔ رائے دہی انتظامات کو موثر بنانے کے لئے 80 ہزار تا 90 ہزار اہلکاروں پر مشتمل عملہ تعینات کیا گیا ہے۔ تمام پولنگ اسٹیشنوں پر مرکزی نیم فوجی فورسس نگرانی کریں گے۔ علاوہ ازیں ہیلی کاپٹروں اور ڈرونس کے ذریعہ فضائی نگرانی بھی کی جائے گی۔ 49 نشستوں پر انتخابات کے لئے انتہائی تلخ و تند مہم کا ہفتہ کی شام اختتام عمل میں آیا۔ وزیراعظم نریندر مودی، بی جے پی کے صدر امیت شاہ کی قیادت میں بی جے پی کی سرگرم انتخابی مہم چلائی گئی جس میں مرکزی وزراء راج ناتھ سنگھ، سشما سوراج، نتن گڈکری، جے پی نڈا کے علاوہ ریاستی بی جے پی قائدین سشیل کمار مودی اور نندکشور یادو نے عوام میں بی جے پی کا پیغام پہنچایا۔ حریف جماعتوں کی مہم کی قیادت ریاستی چیف منسٹر نتیش کمار اور آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو نے کی۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی، ان کے فرزند راہول گاندھی نے ایک روزہ مہم کے ذریعہ سکیولر اتحاد کے امکانات کو مستحکم بنانے کے لئے بھرپور زور لگایا۔ پہلے مرحلے کے تحت 49 نشستوں پر کامیابی نتیش کمار کے لئے وقار کا مسئلہ ہے کیوں کہ 2010ء کے انتخابات میں انہیں ان علاقوں میں 29 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ گزشتہ انتخابات میں بی جے پی چوں کہ نتیش کمار کی حلیف تھی جس کو 13 نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ ماضی کے حریف لالو پرساد کی آر جے ڈی کو 4 حلقوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ گزشتہ 15 دن سے جاری انتخابی مہم کے دوران حریفوں نے ایک دوسرے کو سخت تنقیدوں کا نشانہ بنایا گیا اور شخصی ریمارکس کے ذریعہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش بھی کی گئی۔ انتخابی مہم اگرچہ مثبت نوٹ کے ساتھ شروع ہوئی تھی جس میں اقتدار کے دو اہم دعوے داروں بی جے پی کے زیر قیادت این ڈی اے اور جے ڈی (یو) ۔ آر جے ڈی ۔ کانگریس اتحاد نے ابتداء میں ترقی کو اپنا اصل موضوع بنایا تھا لیکن بہت جلد یہ دونوں محاذ ایک دوسرے کے خلاف رکیک حملوں پر اتر آئے تھے۔
سیاسی قائدین نے ایک دوسرے کے خلاف انتہائی نازیبا ناموں کا استعمال کیا جس میں ’شیطان‘ سے لے کر ’برہما پساچ‘ (شیطان کبیر) جیسے فقرے شامل ہیں۔ علاوہ ازیں ’چارہ چور‘ اور ’نربھکشی‘ (آدم خور) بھی کہا گیا۔ ایک مرحلہ پر جب انتخابی مہم عروج پر پہنچ چکی تھی، لالو پرساد یادو نے یہ ریمارک کیا تھا کہ ’’ہندو بھی بیف کھاتے ہیں۔‘‘ ان کے ریمارک پر زبردست بحث چھڑ گئی اور مودی نے اس مسئلہ پر آر جے ڈی سربراہ کو پچھاڑ نے کی کوشش کی۔ لالو پرساد نے ریزرویشن کی پالیسی پر نظرثانی کرنے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے ریمارک کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ مرکز میں بی جے پی کے زیر قیادت حکومت درج فہرست طبقات کو قبائل کو حاصل تحفظات ختم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس طرح جے ڈی (یو) اور آر جے ڈی نے پسماندہ طبقات کے ووٹوں کے حصول کو یقینی بنانے کی کوشش کی لیکن دادری میں ایک شخص کو ہجوم کے ہاتھوں ہلاک کئے جانے کے واقعہ پر ’ہندو بھی بیف کھاتے ہیں‘ سے متعلق لالو پرساد کے ریمارک نے بی جے پی اور مودی کو ایک نیا ہتھیار فراہم کردیا تھا۔ مودی کو انتخابی مہم میں فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے کے لئے مورد الزام بھی ٹھہرایا گیا۔ بالخصوص دادری واقعہ پر وزیراعظم مودی کی خاموشی کو چیف منسٹر نتیش کمار نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ لالو پرساد کی ماضی میں حکمرانی سے متعلق ’جنگل راج‘ ریمارک بھی اہم موضوع بنارہا جس کا وزیراعظم مودی نے کئی جلسوں میں باربار حوالہ دیا۔

TOPPOPULARRECENT