Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / بہار اسمبلی انتخابات فرقہ پرستی اور سیکولرازم کے درمیان جنگ

بہار اسمبلی انتخابات فرقہ پرستی اور سیکولرازم کے درمیان جنگ

مرتیونجے دیکشت
بہار کے مظفر پور میں 25 جولائی کو منعقدہ وزیراعظم نریندر مودی کی ریلی کے بعد اب یہ طے ہوگیا ہے کہ اس دفعہ بہار اسمبلی کے انتخابات میں عوام کو محض یہ طے کرنا ہے کہ وہ ملک کے ساتھ قدم ملا کر ترقی چاہتے ہیں یا ایک بار پھر وہ ذات پات کے دور میں جاکر اپنا مستقبل بربادکرنا چاہتے ہیں ۔ مودی کی ریلی میں بھیڑ دیکھ کر ہر کوئی حیرت زدہ رہ گیا ۔ اب بہار اسمبلی انتخابات کو لے کر ٹی وی اور سوشیل میڈیا میں بھی مباحث اور سروے کا دور شروع ہوگیا ہے ۔ کچھ سرویز بہار میں لالو ۔ نتیش اتحاد کو آگے بتارہے ہیں ، وہیں کچھ این ڈی اے کی سیٹوں میں اضافہ بتارہے ہیں ۔ ان سرویز سے ابھی تک یہ واضح نہیں ہوپایا ہے کہ بہار کے لگ بھگ 45 فیصد سے زائد عوام ترقی کو بنیاد مان کر ووٹ ڈالنے جارہے ہیں ۔ جبکہ ذات پات پرمشتمل ووٹ ڈالنے کا تناسب محض 30 تک ہی محدود ہورہا ہے ۔ اپنی ریلی میں وزیراعظم نریندر مودی نے دلی کی پارلیمانی سیاست سے دور اور پوری طرح بے فکر ہو کر بہار کی ترقی پر زور دیاہے ۔ ایک طرح سے بہار کو اسپیشل پیکیج دینے کا اشارہ بھی دے گئے ۔ ریلی میں انھوں نے صاف کہا کہ ابھی پارلیمنٹ کا سیشن چل رہا ہے اس لئے وہ اس کا اعلان نہیں کرسکتے۔ بہار کو بجلی ، ریلوے ، سڑک سمیت تمام منصوبوں اور پراجکٹس کے لئے بڑے پیمانے پر دولت دینے کا اعلان بھی کرگئے ۔ اس ریلی میں این ڈی اے کی سبھی اتحادی جماعتوں کے قائدین بھی موجود تھے ۔ ریلی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ رہی کہ سابق وزیراعلی جیتن رام مانجھی نے پی ایم مودی کو بھگوان شری رام کہہ کر مخاطب کیا جبکہ خود کا تقابل وبھیشن اور وزیراعلی نتیش کمار کا تقابل راون سے کرڈالا ۔
بہار سے موصولہ خبروں کے مطابق پی ایم مودی کی ریلی میں تاریخی بھیڑ تھی ۔ نوجوانوں میں خاصا جوش تھا ۔ بہار کے سابق وزیراعلی لالو پرساد یادو کا کہنا ہے کہ بہار سے مودی کی ناک میں نتھنی پہنا کر بھگادیں گے ۔ یہی نہیں انھوں نے مودی کا تقابل کالیا ناگ تک سے کرڈالا ۔ بہار کے سابق وزیراعلی کا یہ ریمارک سوشیل میڈیا میں وائرل ہورہا ہے اور لوگ لالو کے بارے میں کمنٹ کررہے ہیں ۔
دوسری طرف بی جے پی اتحاد کے لئے سب سے بڑا مسئلہ امیدواروں کے انتخاب کو لے کر ہوگیا ہے ۔ بہار کے اسمبلی انتخابات میں جو لوگ لالو اور نتیش کے خلاف بغاوت کرکے بی جے پی اتحاد کے ہاتھ مضبوط کرنا چاہ رہے ہیں ۔ ان لوگوں کو سمجھانا ٹیڑھی کھیر ثابت ہورہا ہے ۔ وہیں بی جے پی مخالف جماعتیں بی جے پی پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ وہ اپنے لیڈر کا نام بتائیں ، لیکن بی جے پی اس معاملے میں ابھی کچھ بھی نہیں کہہ رہی ہے ۔ بی جے پی کی پوری کوشش بہار میں سرکار بنانے کی ہے ، اس لئے وہ دلی جیسی غلطی دہرانا نہیں چاہتی ہے ۔ بہار کا انتخاب پوری طرح سے مودی کی قیادت میں لڑنے کی تیاری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار کے بہار انتخابات مودی کے لئے سخت امتحان ثابت ہوں گے ہی ساتھ ہی ان کی مقبولیت کا پیمانہ بھی طے کردیں گے ۔ اگر ان انتخابات میں بی جے پی کو شکست ہوتی ہے ، تو مرکزی حکومت کی مشکلیں بڑھ جائیں گی اور راہول گاندھی اور کجریوال جیسے لیڈران اور زیادہ مشتعل ہوجائیں گے ۔ موجودہ حالات میں یہی وجہ ہے کہ کانگریس پارٹی مختلف معاملات کو لے کر پارلیمنٹ نہیں چلنے دے رہی ہے ۔ اسے پارلیمنٹ کی کارروائی ٹھپ کرنے میں ہی اپنا سیاسی فائدہ نظر آرہا ہے ۔ کئی کئی بلس منظوری کے انتظار میں لٹک گئے ہیں ۔ عوام کانگریس اور دیگر جماعتوں کے رویے کو بھی دیکھ رہے ہیں ۔ کانگریس سمجھ رہی ہے کہ ہم جتنا دباؤ پارلیمنٹ میں ڈالیں گے اس کا اثر بہار پر پڑے گا ۔ بہار کے انتخابات اتنے مشکل ہونے جارہے ہیں کہ اب تو دلی کے وزیراعلی اروند کجریوال بھی دلی کا کام  کاج اپنے نائب وزیراعلی کے حوالے کرکے پی ایم مودی کی پول کھولنے کے لئے بہار کی خاک چھاننے جارہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بہار کے وزیراعلی نتیش کمار کجریوال کے ساتھ مل کر مرکز کو ہی قصوروار بتانے لگے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ مرکز کجریوال کو کام کرنے نہیں دے رہا ہے ۔
آج کی تاریخ میں بہار انتخابات کو جیتنے کے لئے بھی نام نہاد سیکولر جماعتیں پوری طاقت جھونک دیں گی اور اپنی بیمار ذہنیت کا نمونہ پیش کرنے والی ہیں ۔ یہ چناؤ بہار کا مستقبل طے کرنے والا ہے ۔ آج بہار میں بی جے پی کے 160 ترقی کے رتھ دوڑ رہے ہیں ۔ اس پر نتیش کمار کا کہنا ہے کہ بی جے پی بہار کو جیتنے کے لئے پانی کی طرح پیسہ بہارہی ہے ، جبکہ پورے پٹنہ میں نتیش کمار کے ہورڈنگ نظر آرہے ہیں ۔ بہار کے عوام میں خوف ہے کہ کہیں پھر لالو راج آگیا تو کیا ہوگا ۔ اب یہ بہار کے عوام کو سوچنا ہے کہ وہ کس طرح کی حکومت چاہتے ہیں۔ جنگل راج کا یا ترقی کا ۔ لیکن دوسری طرف حالات ایسے ہیں کہ لالو نتیش کی جوڑی کو زیادہ سیٹیں ملنے کی امید ہے ، جیسا کہ اوپینین پول بھی بتارہے ہیں ۔ لیکن سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ ریاست بہار کی ترقی لالو کے دور میں نہیں ہوئی ، یہ بھی حقیقت ہے ، لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جب سے نتیش کمار نے بہار کی حکومت کی باگ ڈور سنبھالی ، بہار کے حالات بدلے ہیں ، وہاں ترقی ہوئی ہے ۔ سڑکیں بنائی گئی ہیں اور برقی کی سربراہی میں سدھار آیا ہے ۔ اس حقیقت سے نتیش کے دشمن بھی انکار نہیں کرسکتے ہیں ۔ لیکن یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ بہار میں آنے والا الیکشن بہت سی آزمائشات سے بھرا ہوگا ، جس میں مودی ،نتیش اور لالو کی قسمت داؤ پر لگی ہوئی ہے ۔ ساتھ ہی بی جے پی کے دعوؤں کی بھی قلعی کھلنے والی ہے ، جو بہار میں حکومت سازی کا دعوی کررہی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ بہار کے الیکشن میں بی جے پی کو کامیابی ملتی ہے یا لالو نتیش اتحاد کو ، لیکن لالو نتیش اتحاد کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT