Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / بہار اسمبلی انتخابات کا آج نتیجہ ووٹوں کی گنتی صبح 8 بجے شروع ہوگی ، نتیش کمار اور مودی کیلئے نتائج انتہائی اہمیت کے حامل

بہار اسمبلی انتخابات کا آج نتیجہ ووٹوں کی گنتی صبح 8 بجے شروع ہوگی ، نتیش کمار اور مودی کیلئے نتائج انتہائی اہمیت کے حامل

پٹنہ، 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سیاسی اعتبار سے انتہائی اہم تصور کئے جانے والی ریاست بہارمیں حالیہ اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی کل اتوار کو شروع ہورہی ہے جبکہ وزیراعظم نریندرمودی اور چیف منسٹر نتیش کمار کے مابین یہ راست و کانٹے کا مقابلہ ہوا۔ بہار کے 243 نشستوں کیلئے ووٹوں کی گنتی صبح 8 بجے شروع ہوگی اور دوپہر کے اوائل تک تقریباً نتائج سامنے آجائیں گے۔ اکثر اگزٹ پولس میں بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے اور جنتا دل (یو)۔ آر جے ڈی ۔ کانگریس پر مشتمل عظیم تر اتحاد کے مابین برابری کے مقابلے کی پیش قیاسی کی گئی ہے، لیکن چیف منسٹر نتیش کمار زیرقیادت اتحاد کو کسی قدر سبقت حاصل ہے۔ ایسے میںدو اگزٹ پولس بشمول انڈیا ٹوڈے کے چانکیہ اور این ڈی ٹی وی کے ہنسا نے این ڈی اے کو واضح اکثریت کی پیش قیاسی کی ہے۔ انتخابات میں مہادلت لیڈر جیتن رام مانجھی جو دو نشستوں سے مقابلہ کررہے ہیں اور آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو کے دو لڑکوں کے سیاسی مستقبل کا بھی فیصلہ ہوگا۔ پانچ مراحل پر مشتمل رائے دہی 12 اکتوبر کو شروع ہوئی تھی اور 5 نومبر کو اختتام عمل میں آیا۔ دونوں طرف سرکردہ قائدین نے ریاست میں سرگرم انتخابی مہم چلائی اور ایک دوسرے کے خلاف الزامات و جوابی الزامات عائد کئے جاتے رہے۔ یہی نہیں بلکہ شخصی حملے بھی کئے گئے۔ بہار میں سرکردہ قائدین کے خلاف ایک درجن سے زائد ایف آئی آر درج ہوئے۔

مودی نے این ڈی اے کی قیادت سنبھالتے ہوئے 30 سے زائد ریالیوں کو مخاطب کیا جبکہ امیت شاہ نے 85 عوامی جلسوں سے خطاب کیا۔ اگر بہار میں بی جے پی کامیابی حاصل کرتی ہے تو اسے ’’عدم رواداری کے ماحول‘‘ پر اپوزیشن کے حملوں سے سامنا کرنے کا موقع مل سکے گا ، اس کے علاوہ پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن میں وہ اپنے ایجنڈے کو مزید آگے بڑھا سکتی ہے لیکن بی جے پی کی شکست کے نتیجہ میں اپوزیشن جماعتوں کو پھر ایک بار متحد ہوکر قومی سیاست میں اہم رول ادا کرنے کا موقع فراہم ہوگا، بالخصوص لوک سبھا انتخابات میں شکست کے بعد اپوزیشن کیلئے یہ کامیابی اہمیت رکھتی ہے۔ بہار میں اس بار 56.80 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی جو ریاست کی تاریخ میں اب تک کا سب سے زیادہ تناسب ہے اور 6.68 کروڑ افراد نے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ہے۔انتخابی مہم کے دوران بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے اور جنتا دل (یو) زیرقیادت سیکولر اتحاد نے ایک دوسرے پر شخصی ریمارکس بھی کئے اور بہار کے نتائج قومی سیاست پر بھی اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT