Thursday , August 24 2017
Home / سیاسیات / بہار اسمبلی انتخابات کیلئے پہلے مرحلہ کی مہم کا اختتام

بہار اسمبلی انتخابات کیلئے پہلے مرحلہ کی مہم کا اختتام

ترقیاتی ایجنڈہ پر مذہبی اور ذات پات کے جذبات حاوی
پٹنہ 10 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) بہار اسمبلی انتخابات میں 49 نشستوں کے لئے پہلے مرحلہ کی مہم آج شام اختتام پذیر ہوئی جس کے ساتھ ہی لاؤڈ اسپیکرس خاموش اور دھواں دھار تقاریر کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا۔ اگرچیکہ انتخابی مہم اقتدار کے 2 دعویداروں بی جے پی کی زیرقیادت این ڈی اے اور جے ڈی یو ، آر جے ڈی اور کانگریس کے عظیم اتحاد کے درمیان مثبت انداز شروع ہوئی۔ ابتداء میں ترقی اور تعمیر کا نعرہ بلند کیا گیا لیکن سیاسی حریفوں کے درمیان الزام تراشیوں اور شخصی حملوں سے انتخابی مہم میں بدمزگی پیدا ہوگئی۔ سیاسی لیڈروں نے ایک دوسرے کو شیطان سے مہا شیطان ۔ چارہ چور سے نربکشی (آدم خور) تک کہہ ڈالا۔ انتخابی مہم میں اُس وقت گرماہٹ آگئی جب لالو پرساد نے یہ ریمارک کرکے بحث چھیڑ دی کہ ہندو بھی گوشت کھاتے ہیں جس پر وزیراعظم نریندر مودی نے بھی ایک مخصوص طبقہ کے جذبات مشتعل کرنے کی کوشش کی جبکہ آر جے ڈی صدر نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھگوت کے اس مشورہ کو خوب اُچھالا کہ ریزرویشن پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اور یہ ادعا کیاکہ مرکز میں بی جے پی کی زیرقیادت حکومت ذات پات کی بنیاد پر مروجہ کوٹہ کو برخاست کردینا چاہتی ہے۔

پسماندہ طبقات کے ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کے لئے لالو پرساد یادو اور عظیم اتحاد کے وزارت اعلیٰ کے امیدوار نتیش کمار نے ہر ایک جلسہ میں یہ خوف دلانے کی کوشش کی کہ بہار میں این ڈی اے برسر اقتدار آنے کی صورت میں ریزرویشن پالیسی کو ختم کردیا جائے گا۔ تاہم دادری میں بیف کے تنازعہ پر ایک مسلم شخص کی ہلاکت کے پس منظر میں آر جے ڈی سربراہ نے یہ شوشہ چھوڑا کہ ہندو بھی گوشت کھاتے ہیں۔ ان کا یہ ریمارک بی جے پی اور نریندر مودی کے لئے مؤثر ہتھیار ثابت ہوگیا جس کے ذریعہ ایک مخصوص فرقہ کے جذبات کا استحصال کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے کہاکہ لالو پرساد یادو کا یہ ریمارک یادو برادری کے لئے توہین کے مترادف ہے جوکہ گائے کی افزائش کرتے ہیں۔ مونگیر، بیگوا سرائے، سمستی پور میں جمعرات کے دن انتخابی ریالیوں کو مخاطب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہاکہ لالو پرساد یادو کا آج جو مقام ہے وہ یادو برادری کی مرہون منت ہے۔ لیکن ہندو بھی گوشت کھاتے ہیں کا ریمارک کرکے انھوں نے یادو برادری اور بہار کی توہین کی ہے جبکہ یادوں نے انھیں اقتدار کی زینت بخشی ہے۔ تاہم نریندر کے ریمارکس پر انتخابی کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کا الزام عائد کیا گیا۔ چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے بتایا کہ نریندر مودی کا حقیقی چہرہ بے نقاب ہوگیا اور یہ الزام عائد کیاکہ بہار کی انتخابی مہم میں فرقہ پرستی کا زہر گھولنے کی کوشش کی گئی جبکہ دادری کے واقعہ پر معنی خیز خاموشی اختیار کرلی گئی۔ نتیش کمار نے بتایا کہ نریندر مودی کی کارستانیوں کو دیکھتے ہوئے سابق میں واجپائی نے ’’راج دھرم‘‘ نبھانے کا مشورہ دیا تھا لیکن اب واجپائی جیسا لیڈر کہاں ہے۔ علاوہ ازیں جنگل راج کا راگ الاپتے ہوئے این ڈی اے لیڈروں بشمول نریندر مودی اور امیت شاہ نے رائے دہندوں کو یہ کہتے ہوئے خوفزدہ کیاکہ بہار میں پھر ایک بار لاقانونیت اور نراجیت مسلط ہوجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT