Friday , August 18 2017
Home / سیاسیات / بہار انتخابات کے آخری مرحلہ کیلئے مہم کا اختتام

بہار انتخابات کے آخری مرحلہ کیلئے مہم کا اختتام

کل رائے دہی،827 امیدوار میدان میں،سیکولر اتحاد اور بی جے پی کے مابین سخت مقابلہ
پٹنہ 3 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) آج شام 57 نشستوں کے لئے جہاں پانچواں اور آخری مرحلہ کی رائے دہی بہار اسمبلی انتخابات کے لئے 5 نومبر کو مقرر ہے، اختتام پذیر ہوگئی۔ الیکشن کمیشن نے حریف گروپس کو اشتعال انگیز تقریروں پر وجہ بتاؤ نوٹس جاری کردی۔ 57 نشستوں میں سے 24 سیمانچل کے علاقہ میں ہیں جو مغربی بنگال کی سرحد سے متصل اور نو اضلاع پر مشتمل ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے این ڈی اے کی نمائندگی کرتے ہوئے انتخابی مہم کی قیادت کی۔ این ڈی اے نے چیف منسٹری کے اپنے امیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے، اُنھوں نے عظیم سیکولر اتحاد پر شدید تنقیدیں کیں۔ انتخابی مہم کے آخری دن مودی نے 1984 ء کے سکھ دشمن فسادات کا مسئلہ اٹھایا تاکہ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی جارحانہ مہم کا مقابلہ کیا جاسکے۔ مودی نے تقریباً 30 انتخابی جلسوں سے خطاب کیا اور بار بار عظیم اتحاد کو دلتوں، قبائیلیوں اور پسماندہ طبقات کے لئے ’’مختص‘‘ کوٹہ کا ایک حصہ اُن سے چھین کر ’’مذہب کی بنیاد پر‘‘ ایک مخصوص فرقہ کے حوالہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ اُنھوں نے عظیم اتحاد کے قائدین پر قومی سلامتی سے کھلواڑ کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔ چیف منسٹر نتیش کمار اور صدر آر جے ڈی نے مودی پر اور صدر بی جے پی امیت شاہ پر تنقیدوں کی قیادت کی۔ اُنھوں نے کہاکہ متنازعہ تبصرے جیسے بہار میں بی جے پی کی ناکامی پر پاکستان میں پٹاخے چھوڑے جانے کے تبصرہ پر تنقید کرتے ہوئے نتیش کمار نے کہاکہ ممبئی اور امرتسر میں بی جے پی کی ناکامی پر سب سے زیادہ پٹاخے چھوڑے جائیں گے۔

وہ واضح طور پر پارٹی کے مہاراشٹرا اور پنجاب میں اقتدار کے لئے اتحاد کا درپردہ حوالہ دے رہے تھے۔ نتیش کمار نے الزام عائد کیاکہ وزیراعظم نے رات کی تاریکی میں نجومی، بے جان دارو والا سے ملاقات کی تھی۔ یہ مودی کے نتیش کمار پر تانترک سے ملاقات کے لئے تنقید کا جواب تھا۔ آخری مرحلہ کی رائے دہی سے قبل الیکشن کمیشن نے صدر بی جے پی امیت شاہ پر اُن کے پٹاخوں کے تبصرہ کے سلسلہ میں اور نائب صدر کانگریس راہول گاندھی سے اُن کے بی جے پی ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑنے کیلئے اُکسارہی ہے اور امیت شاہ کو ’’آدم خور‘‘ قرار دینے پر جواب طلبی کی نوٹسیں جاری کردیں۔ نتیش کمار نے دربھنگہ اور کوسی کے علاقوں میں مہم کے آخری دن 6 جلسوں سے اور لالو پرساد نے 7 جلسوں سے خطاب کیا۔ مرکزی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ اور اُن کے ساتھی وزیر ایل جے پی کے صدر رام ولاس پاسوان، سمرتی ایرانی، رادھا موہن سنگھ، روی شنکر پرساد کے علاوہ سشیل کمار مودی نے دن بھر کئی انتخابی جلسوں سے خطاب کیا۔ آخری مرحلہ کی رائے دہی میں این ڈی اے میں شریک پارٹیاں بی جے پی کے سب سے زیادہ امیدوار ہیں جبکہ ایل جے پی کے 11 ، لوک سمتا پارٹی کے 5 اور ہندوستانی عوامی مورچہ کے 5 امیداور ہیں۔ جے ڈی (یو) کے 25 ، آر جے ڈی کے (20) اور کانگریس کے (12) امیدوار ہیں۔ جملہ 1,55,43,594 اہل رائے دہندے 5 نومبر کو 827 امیدواروں بشمول خواتین کے سیاسی مقدر کا فیصلہ کریں گے۔ بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے اور جنتا دل (یو) زیر قیادت عظیم تر سیکولر اتحاد نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور دونوں نے ایک دوسرے کو سبق سکھانے کا اعادہ کیا۔ کل آخری مرحلہ کی رائے دہی کیلئے غیر معمولی سیکوریٹی انتظامات کئے جارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT