Friday , July 28 2017
Home / اداریہ / بہار ‘ عظیم اتحاد میں دراڑیں؟

بہار ‘ عظیم اتحاد میں دراڑیں؟

خیر سے دردِ محبّت کی تمنا ہے وہی
وہ حقیقت ہے جسے آپ فسانہ سمجھے
بہار ‘ عظیم اتحاد میں دراڑیں؟
بہار میں اقتدار میں شامل جماعتوں کے مابین ایسا لگتا ہے کہ اختلافات میں شدت پیدا ہونے لگی ہے ۔ ریاست میں نتیش کمار کی زیر قیادت حکومت میں راشٹریہ جنتادل اور کانگریس بھی حصہ دار ہیں۔ کانگریس پارٹی سے تو بہار میں نتیش کمار حکومت کو کوئی مسئلہ نہیں ہے تاہم ایسا لگتاہے کہ راشٹریہ جنتادل کے ساتھ اب نتیش کمار کی قیادت والی جنتادل یو کے رشتوں میں دراڑیں پیدا ہونی شروع ہو گئی ہیں۔ یہ اختلافات در اصل راشٹریہ جنتادل کے سربراہ لالو پرساد یادو اور ان کے افراد خاندان کے خلاف اور خاص طور پر نتیش کمار حکومت کے ڈپٹی چیف منسٹر تیجسوی یادو کے خلاف رشوت کے الزامات کے بعد سے شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ تعلقات میں سرد مہری تو بہت زیادہ ہی ہوگئی ہے ۔ رشوت کے الزامات کے مسئلہ پر نتیش کمار عوامی سطح پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ انہوں نے لالو پرساد یادو کو یہ الٹی میٹم دیدیا ہے کہ تیجسوی یادو کو عہدہ سے استعفی پیش کرنا ہی پڑے گا ۔ تیجسوی یادو لالو پرساد یادو کے ہونہار سپوت کہے جاتے تھے اور اب ان کے خلاف بھی سی بی آئی کی جانب سے رشوت کے مقدمات کا اندراج ایک ایسا مسئلہ بن گیا ہے جس کا مرکزی حکومت اور بی جے پی کی جانب سے استحصال کرتے ہوئے نتیش کمار کو عظیم اتحاد سے اپنی راہیں الگ کرنے کیلئے مجبور کیا جا رہا ہے ۔ نتیش کمار کرپشن کو برداشت نہ کرنے والی شخصیت کی اپنی امیج کو بچانے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور ان کا اور ان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ تیجسوی یادو اوریادو خاندان کے دوسرے ارکان کے خلاف رشوت کے الزامات کی وجہ سے ان کی امیج متاثر ہو رہی ہے ۔ وہ نہیں چاہتے کہ حکومت کی خاطر اپنی امیج کو داؤ پر لگائیں۔ تاہم یہ ضرور کہا جاسکتاہے کہ نتیش کمار بھلے ہی اصول پسندی کا دعوی کریں لیکن ان کے موقف میں سختی پیدا ہونے کی وجہ در اصل بی جے پی کی جانب سے انہیں کسی طلب کے بغیر تائید فراہم کرنے کا اعلان ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی ریاست میں مہا گٹھ بندھن کو کسی بھی قیمت پر توڑنا چاہتی ہے ۔ اگر ایسا کرنے میں وہ کامیاب ہوجاتی ہے تو اسے آئندہ عام انتخابات میں اپوزیشن کی صفوںمیں مزید انتشار پیدا کرنے کا موقع مل سکتا ہے ۔ بی جے پی کا اصل مقصد و منشا بھی یہی ہے ۔
جہاں تک الزامات کی سچائی کا سوال ہے اس کا فیصلہ تو تحقیقات کے بعد عدالتوں میں ہوگا ۔ ایسا نہیں ہے کہ ان الزامات کو سرے سے مسترد ہی کردیا جائے یا ایسا بھی نہیں ہوسکتا کہ ان الزامات پر خود سیاسی جماعتیں اپنے طور پر فیصلہ کرلیں۔ تحقیقات کو تکمیل کے مرحلہ تک پہونچانے کی ضرورت ہے اور اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ ہوسکتا ہے ۔ ملک میں ایسے بے شمار قائدین موجود ہیں جو رشوت اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے تک کے بے شمار الزامات کا سامنا کر رہے ہیں لیکن بی جے پی نے انہیں قانونی کشاکش اور امکانی سزا سے بچانے کیلئے اعلی عہدے فراہم کرنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے ۔ جو پہلے سے عہدوں پر موجود ہیں ان کے خلاف نئے الزامات عائد ہونے پر انہیں عہدوں سے علیحدہ کرنے کا مطالبہ کرنے والی جماعت کو خود اپنی صفوں میں بھی اسی اصول کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر واقعتا بی جے پی ایسا کرتی ہے تو اس کی صفوں سے بھی کئی قائدین کو پیچھے ہٹانا پڑے گا ۔ اس بحث کا مقصد یہ نہیں ہے کہ لالو پرساد یادو یا ان کے فرزندان کا دفاع کیا جائے ۔ اگر ان کے خلاف کرپشن کے الزامات ثابت ہوتے ہیں تو انہیں بھی قرار واقعی سزائیں دی جانی چاہئیں۔ اگر لالوپرساد یادو کے فرزندان کو الزامات کی وجہ سے اپنی کرسی سے ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے تو پھر یہی اصول بی جے پی کی حکومتوںمیں بھی لاگو کیا جانا چاہئے ۔ اگر ایسا اصول لاگو کیا جاتا ہے تو پھر اترپردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی بحیثیت چیف منسٹر حلف برداری پر ہی سوال اٹھنے لگیں گے لیکن بی جے پی کبھی بھی ایسا نہیں کریگی کیونکہ وہ اس معاملہ میں دوہرے معیارات اختیار کر رہی ہے ۔
جہاں تک نتیش کمار کا سوال ہے ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے پارٹی صدارت سنبھالنے کے بعد خود کو بہار تک محدود رکھنے کا تہئیہ کرلیا ہے ۔ اپنے تعلق سے کسی بھی فیصلے کا انہیں اختیار حاصل ہے لیکن انہیں اپنے اقتدار اور کرسی کی خاطر سکیولر اصولوں کی قربانی دینے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں اپنے مفاد کی بجائے وسیع تر قومی مفاد کو ترجیح دینا چاہئے ۔ تیجسوی یادو کو اگر کرپشن کے الزامات کی نوعیت کی وجہ سے کرسی سے ہٹانا ضروری ہوجائے تو اس کیلئے کسی کشیدہ راستہ کو اختیار کرنے کی بجائے باہمی ہم خیالی کی راہ اختیار کی جاسکتی ہے ۔ جہاں تک لالو پرساد یادو کا سوال ہے انہوں نے محض فرقہ پرستوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کیلئے بہار میں سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود وزارت اعلی کے عہدہ پر کوئی دعوی پیش نہیں کیا تھا ۔ سکیولر اقدار کے تحفظ کیلئے یہ ان کی ایک منفرد مثال ہے اور اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے دوسرے امور بھی طئے کئے جاسکتے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT