Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / بہار میں این ڈی اے کی شکست سے مرکز کو خطرہ نہیں

بہار میں این ڈی اے کی شکست سے مرکز کو خطرہ نہیں

ملک میں عدم رواداری کی انتہا، مودی حکومت کو منتخب کرنے کی غلطی کا عوام کو احساس ہورہا ہے:ڈگ وجئے سنگھ
نئی دہلی ۔ 22 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کی شکست سے مرکز پر کسی قدر اثر مرتب ہوگا لیکن یہ نریندر مودی حکومت کیلئے خطرہ ثابت نہیں ہوں گے جو پانچ سال کیلئے منتخب ہوئی ہے۔ سینئر کانگریس لیڈر ڈگ وجئے سنگھ نے آج یہ بات کہی ۔ انہوں نے بتایا کہ اگر این ڈی اے حکومت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرے تو اس کیلئے یقیناً سوالات پیدا ہوں گے ۔ تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج این ڈی اے حکومت کیلئے چیلنج نہیں ۔ تاہم کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ عوام کو اب اپنی غلطی کا احساس ہورہا ہے جس نے مودی حکومت کو منتخب کیا ہے۔ اس حکومت میں عدم رواداری کی طاقتیں اپنی آخری حد کو چھو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس نفرت پھیلانے والی ان طاقتوں کے خلاف موثر کارروائی کیلئے سیکولر طاقتوں کے اتحاد کی بات کرتی تو بھی اسے سننے کیلئے کوئی تیار نہیں تھے اور عوام کا یہ خیال تھا کہ فی الحال اس کی ضرورت نہیں اور اگر ایسا ہو تو پھر یو پی اے III حکومت قائم ہوجائے گی لیکن اب عوام کو اپنی غلطی کا احساس ہورہا ہے۔ انہیں یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ یو پی اے دور میں جو کچھ انہوں نے حاصل کیا ، مودی دور میں وہ ان سب سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال یو پی اے III کے بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ راہول گاندھی کے جلد یا تاخیر سے سہی کانگریس صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بارے میں ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ اس بارے میں وہ پیش قیاسی نہیں کرسکتے۔

تاہم انہوں نے ان اطلاعات کو مسترد کردیا کہ راہول کی ترقی کے نتیجہ میں سینئر قائدین کا حشر بی جے پی میں ’’مارک درشک منڈل‘‘ کی طرح  نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی کو ترقی دینے کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ صدر کانگریس سونیا گاندھی اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کی جانب کرے گی۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر وہ کوئی پیش قیاسی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی سطح پر کانگریس کارکنوں کا یہ احساس ہے کہ ایسا بہت جلد ہونا چاہئے ۔ سینئر پارٹی لیڈر جئے رام رمیش کے اس تبصرہ پر کہ 60 سال سے زائد عمر کے قائدین کو راہول گاندھی صدر بننے کے بعد صرف مشاورتی رول ادا کرنا چاہئے ۔ ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ ہمیں بی جے پی سے مارگ درشک منڈل کا نظریہ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جئے رام رمیش کے بارے میں یہ تبصرہ کبھی ان کی نظروں سے نہیں گزرا لیکن کانگریس نے ہمیشہ نوجوانوں کی تائید کی ہے۔ آج ہی نہیں بلکہ آزادی سے پہلے بھی کانگریس قیادت نوجوانوں اور تجربہ کار قائدین پر مبنی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے عہدہ سنبھالتے ہی بی جے پی کے سینئر قائدین جیسے ایل کے اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی کو پارٹی کے ’’مارگ درشک منڈل‘‘ ارکان بنا دیا۔ انہیں تنظیمی سرگرمیوں سے عملاً محروم کردیا گیا۔ ڈگ وجئے سنگھ نے اس نظریہ کو بھی قبول نہیں کیا کہ لوک سبھا انتخابات میں اب تک کی سب سے کم تعداد یعنی 44 نشستوں پر کامیابی کے بعد کانگریس اپنی اصلیت سے محروم ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منفی رجحان نے اس معاملہ میں اہم رول ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے احیاء کے لئے موثر منصوبہ بندی ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT