Thursday , October 19 2017
Home / Top Stories / بہار میں ’بیف‘ کی سیاست ، بی جے پی کا متنازعہ اشتہار

بہار میں ’بیف‘ کی سیاست ، بی جے پی کا متنازعہ اشتہار

الیکشن کمیشن نے سخت نوٹ لیا، پہلی مرتبہ پرنٹ میڈیا میں سیاسی اشتہارات پر امتناع، آج رائے دہی
پٹنہ ؍ نئی دہلی ۔ 4 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کے ایک اشتہار میں چیف منسٹر بہار نتیش کمار سے بیف کھانے کے بارے میں ان کے ’’دوستوں‘‘ کے ریمارکس پر وضاحت طلب کی گئی ہے، جس پر ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا اور الیکشن کمیشن نے کل اخبارات میں سیاسی اشتہارات پر امتناع عائد کردیا ہے۔ ریاست میں کل آخری مرحلہ کی رائے دہی مقرر ہے ۔بی جے پی نے اس اشتہار کی مدافعت کی اور کہا کہ اس میں کوئی غلط نہیں ہے۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن نے کسی بھی پارٹی یا امیدوار کی جانب سے کل بااختیار میڈیا پینل کی رضامندی کے بغیر اشتہار شائع کرنے پر امتناع عائد کردیا ہے۔ پہلی مرتبہ الیکشن کمیشن نے پرنٹ میڈیا کیلئے اس طرح کی ہدایات جاری کی۔ 2004ء میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد ریڈیو اور ٹی وی اشتہارات پر اس طرح کی پابندیاں عائد کی گئی تھی۔ 2013ء میں سوشل میڈیا کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔ بی جے پی کے اس اشتہار میں آئے دن اخبارات میں ان کے دوستوں کے مقدس گائے کی بار بار توہین کے سلسلہ میں چیف منسٹر نتیش کمار کی خاموشی کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے۔ یہ اشتہار کشن گنج، سہارسا اور دیگر علاقوں کے سرکردہ اخبارات میں شائع کئے گئے۔ اس میں ایک عورت کی تصویر ہے جو گائے سے انسیت کا اظہار کررہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو ان کی پارٹی کے نائب صدر رگھوونش پرساد سنگھ اور چیف منسٹر کرناٹک سدارامیا کے بیف کھانے کے سلسلہ میں ریمارکس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس اشتہار میں نتیش کمار سے کہا گیا ہیکہ وہ ووٹ بینک کی سیاست ترک کریں اور اس بات کا جواب دیں کہ کیا وہ بیف کے بارے میں اپنے دوستوں کے بیانات سے اتفاق کرتے ہیں۔ اس اشتہار میں لالو پرساد کے اس ریمارک کا حوالہ دیا گیا کہ ’’ہندو بھی گائے کا گوشت کھاتے ہیں‘‘۔ اس کے بعد رگھوونش پرساد سنگھ کا یہ تبصرہ لکھا گیا کہ ’’ویدوں اور پرانا میں یہ لکھا ہے کہ سادھو قدیم دور میں بیف کھایا کرتے تھے‘‘۔ اس کے ساتھ ساتھ چیف منسٹر کرناٹک سدارامیا کا یہ تبصرہ بھی لکھا گیا کہ ’’اگر میں بیف کھانا چاہوں تو کوئی مجھے روک نہیں سکتا‘‘۔ یہ اشتہار ہندی زبان میں ہے اور لفظ ’’بیف‘‘ کو سرخ رنگ سے نمایاں کیا گیا ہے۔ آخر میں یہ لکھا گیا کہ ’’جواب نہیں ووٹ نہیں‘‘۔ ب

 

ہار کے عظیم تر سیکولر اتحاد نے اس اشتہار پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور الیکشن کمیشن سے رجوع ہوکر بی جے پی کے خلاف کارروائی کی خواہش کی جو فرقہ وارانہ منافرت کے ذریعہ بہار انتخابات کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ بی جے پی نے دوسری طرف اپنے موقف کا دفاع کیا۔ پارٹی کے سینئر لیڈر سشیل کمار مودی نے کہا کہ بیف کے مسئلہ پر ہمارے اشتہار میں کوئی غلط نہیں ہے۔ ہم نے پہلے یہ مسئلہ نہیں اٹھایا بلکہ لالو پرساد نے ایسا کیا ہے اور ہم نے صرف اس کا جواب دیا ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اس طرح کے نفرت انگیز اشتہارات پر امتناع عائد کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس نوعیت کے اشتہارات شائع نہ کرنے کی ہدایت کے باوجود بعض گوشوں نے اس طرح کی حرکت کی ہے۔ آئندہ اس کا اعادہ نہ ہونے کیلئے الیکشن کمیشن نے کل تمام اخبارات میں سیاسی اشتہارات پر امتناع کا اعلان کیا ہے۔ ایڈیشنل چیف الیکٹوریل آفیسر آر لکشمنن نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بعض اخبارات کے مظفرپور اور بھاگلپور ایڈیشن میں بی جے پی کے اشتہار کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی گئی۔ یہ اشتہارات الیکشن کمیشن کی سیاسی پارٹیوں کو دی گئی ہدایات کے خلاف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے پارٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کی ہے۔ بہار بی جے پی صدر منگل پانڈے کو یہ نوٹس جاری کی گئی اور اشتہار کے بارے میں وضاحت طلب کی گئی ہے۔ قبل ازیں جنتادل (یو) جنرل سکریٹری کے سی تیاگی اور کانگریس ترجمان آر پی این سنگھ اور اجئے کمار کی زیرقیادت عظیم تر اتحاد کے ایک وفد نے نئی دہلی میں الیکشن کمیشن سے ملاقات کی اور اس اشتہار کو مذہب کے نام پر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کے مترادف قرار دیا۔ بہار میں کل پانچویں اور آخری مرحلہ میں 57 نشستوں کیلئے رائے دہی مقرر ہے۔

TOPPOPULARRECENT