Wednesday , September 20 2017
Home / سیاسیات / بہار میں جنتادل متحدہ اور بی جے پی میں آنکھ مچولی پر کانگریس کو اعتراض

بہار میں جنتادل متحدہ اور بی جے پی میں آنکھ مچولی پر کانگریس کو اعتراض

حکمراں جماعت کی ضیافت میں اپوزیشن لیڈر کو مدعو کئے جانے پر تنازعہ

پٹنہ 14 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) حکمراں جنتادل (متحدہ) کی جانب سے مکر سنکرانتی کے موقع پر کل دہی ۔ چوڑا تہوار میں بی جے پی کو مدعو کئے جانے پر بہار میں آج سیاسی ماحول گرم ہوگیا ہے۔ نوٹ بندی کے فیصلہ کو چیف منسٹر نتیش کمار کی تائید اور بہار میں نشہ بندی کے نفاذ پر وزیراعظم نریندر مودی کے اظہار ستائش کے بعد اس دعوت کو دونوں جماعتوں کے درمیان قربت کا مظہر قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم جنتادل (یو) کی حلیف کانگریس اور دیگر پارٹیوں نے بی جے پی کو مدعو کئے جانے پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ سال 2013 ء کے بعد سے پہلی مرتبہ دہی ۔ چوڑا فیسٹیول میں بی جے پی کو مدعو کیا گیا ہے جبکہ جنتادل (یو) نے زعفرانی پارٹی سے تعلقات منقطع کرلئے تھے۔ اس دعوت نامہ پر سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ حکمراں جماعت کے زیراہتمام یہ تہوار پارٹی کے ریاستی صدر بشستا نارائن سنگھ کی قیامگاہ پر منعقد ہوگا۔ نارائن سنگھ نے کہاکہ چونکہ یہ ایک تہوار کا موقع ہے اور میں نے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر مدعو کیا ہے جس میں چیف منسٹر نتیش کمار، آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو، بی جے پی لیڈر سشیل کمار مودی، کانگریس، سی پی آئی اور سی پی ایم قائدین بھی شامل ہیں۔ اگرچیکہ سشیل مودی آج مکر سنکرانتی کے موقع پر لالو پرساد یادو کی ضیافت میں شرکت نہیں کی لیکن انھوں نے بتایا کہ وہ کل نارائن سنگھ کی دعوت میں شریک ہوں گے۔ بی جے پی ۔ جنتادل متحدہ کے درمیان گھٹتے فاصلوں اور بڑھتی ہوئی قربت پر میڈیا کی قیاس آرائیوں کو تقویت پہنچاتے ہوئے بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے کہاکہ دوستی کی یہ پہل اُس وقت شروع ہوئی جب چیف منسٹر نتیش کمار نے نوٹ بندی کے فیصلہ کی حمایت کی اور جذبۂ خیرسگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے نتیش کمار کی ستائش کی تھی۔ انھوں نے کہاکہ مکر سنکرانتی کے دوران سورج کا رُخ جنوب سے مشرق کی سمت تبدیل ہوتا ہے اور موسم کی طرح سیاست میں بھی تبدیلی کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا؟ بی جے پی لیڈر سشیل کمار مودی کو مدعو کئے جانے پر بشستا نارائن سنگھ نے کہاکہ سدبھاؤنا (ہم آہنگی) فروغ دینے کے لئے یہ ایک سماجی اجتماع ہے جس میں کوئی سیاسی مقصد براری نہیں ہے۔ انھوں نے کہاکہ جدید آبکاری قانون 2016 کی منظوری کے لئے بہار میں تمام سیاسی جماعتوں کے اتحاد کا بے نظیر مظاہرہ کیا ہے اور تمام جماعتوں نے یہ بھی فیصلہ کیاکہ نشہ بندی کی تائید میں 21 جنوری کو انسانی زنجیر میں حصہ لیں گے۔ ہماری تمنا یہ ہے کہ یہ ہم آہنگی مزید مضبوط ہوجائے۔ تاہم کانگریس اس جواز پر قائل نہیں ہوسکی۔ صدر پردیش کانگریس اور ریاستی وزیر اشوک چودھری نے کہاکہ جنتادل متحدہ کو یہ وضاحت کرنی چاہئے کہ سیاسی تقریب میں بی جے پی کو کیوں مدعو کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ 2 سال سے ایسا نہیں کیا گیا تھا۔ اگر یہ شادی جیسی ذاتی تقریب ہو تو قابل فہم ہے لیکن سیاسی اجتماع میں بی جے پی کو مدعو کرنے کے پس پردہ محرکات کیا ہیں؟ انھوں نے کہاکہ وہ کل کی تقریب میں شرکت سے گریز کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT