Thursday , August 17 2017
Home / مضامین / بہار میں شکست ۔ بی جے پی میں بغاوت اندیشے صحیح ثابت ہوئے

بہار میں شکست ۔ بی جے پی میں بغاوت اندیشے صحیح ثابت ہوئے

غضنفر علی خان
بہار اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو جو شکست فاش ہوئی جس شرمناک ہزیمت کا پارٹی کو سامنا کرنا پڑا اسکے لازمی نتیجہ کے طور پر پارٹی کے انتہائی سینئر لیڈروں نے جن کی قیادت ایل کے اڈوانی کررہے ہیں ، بغاوت کردی ۔ اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی ، یشونت سنہا کو نہایت معقول شکایتیں ہیں جن کی بنیاد پر ان تینوں سینئر لیڈروں نے ایک مکتوب پارٹی کو روانہ کیا جس میں راست طور پر وزیراعظم مودی اور صدر بی جے پی امیت شاہ پر تنقید کی گئی ۔ انھوں نے کہا کہ متذکرہ بالا دونوں لیڈروں کی جوڑی نے پارٹی سے داخلی جمہوریت ختم کردی ہے اور تمام اختیارات ان دونوں نے بہار چناؤ کی مہم میں اپنے اندر مرکوز کرلئے تھے ۔ سینئر لیڈروں نے کہا ہے کہ بہار چناؤ میں ہار کے بارے میں یہ کہنا کہ ’’یہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے دراصل واقعی مجرموں کو بچانے کی کوشش ہے‘‘ ۔ ہم پارٹی کو بنانے اور عروج پر لانے والوں میں شامل ہیں  ۔اس طرے ہم بی جے پی کو آج کے لیڈروں کے ہاتھوں مرنے نہیں دیں گے‘‘ ۔ یہ بہت بڑا چیلنج ہے جو اڈوانی اینڈ کمپنی نے پارٹی کی قیادت کرنے والی جوڑی ، امیت شاہ اور مودی کو دیاہے ۔ انتخابی حکمت عملی میں ان بزرگ رہنماؤں کو یکسر نظر انداز کردیا گیا تھا ۔ تقریباً 6 ہفتے چلائی گئی اس مہم میں مودی نے 40 ریالیوں سے خطاب کیا ۔

امیت شاہ من مانی کرتے رہے ۔ ان بزرگ رہنماؤں کے علاوہ پارٹی کے کئی سینئر لیڈر خاص طور پر بہار کے مقامی بی جے پی لیڈروں کو اس جوڑی نے یکسر نظر انداز کردیا تھا ۔ ایک آتش فشاں تھا کہ دہک رہا تھا ۔ بغاوت اور ناراضگی کے آثار پہلے ہی نمودار ہوگئے تھے لیکن کسی میں ہمت نہیں تھی کہ اس جوڑی کے خلاف آواز اٹھائیں ۔ سب انتخابی نتائج کے منتظر تھے ۔ جیسے ہی نتائج آئے امیت شاہ اور مودی کی پول کھل گئی ۔ پارٹی کم از کم بہار میں کہیں کی نہیں رہی ۔ کیونکہ مہم مودی کے اطراف مرکوز تھی اور اس کی چابی امیت شاہ کے ہاتھ میں تھی جو پارٹی میں اس وقت سب سے زیادہ طاقتور ہیں ۔ مودی کا تو سیاسی ایمان ہے کہ امیت شاہ جیت کی علامت ہیں ۔ وہ ایک لحاظ سے امیت شاہ کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے تھے ۔ بغاوت کرنے والے لیڈروں کو پہلے ہی یہ علامتی پتلے بنادیا گیا تھا ۔

یہ بیچارے تو شو پیس بن کر رہ گئے تھے حالانکہ اڈوانی کی سیاسی فکر سے لاکھ اختلاف کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ انھوں نے 1990 کے دہے میں اپنی ’’رتھ یاترا‘‘ کے ذریعہ پارٹی کو تب تک کی سب سے بڑی کامیابی دلائی تھی  ۔کبھی پارلیمان میں بی جے پی کے صرف 2 نمائندے ہوا کرتے تھے ۔ پارٹی کے صدر کی حیثیت سے اڈوانی نے اس کو 180 تک پہنچانے میں بڑی محنت کی تھی ۔ لیکن امیت شاہ اور مودی نے انھیں محض ’’پرساد‘‘ بنا کر رکھ دیا تھا ۔ مودی کے طریقہ کار پر ان تجربہ کار لیڈروں کو سخت لیکن صحیح اعتراض ہے کہ امیت شاہ کے ساتھ مل کر انھوں نے پارٹی کی اصل اسپرٹ کو ختم کردیا ہے ۔ بغاوت کا یہ مکتوب مرلی منوہر جوشی کی قیامگاہ پر تیار کیا گیا اور اس موقع پر سینئر صحافی بی جے پی کے اہم رکن ارون شوری کے علاوہ آر ایس ایس کی سوچ کے علم بردار گویند چاری بھی موجودہ تھے ۔ بغاوت کا لاوا پہلے ہی سے پک رہا تھا ۔ کئی پارلیمانی ارکان کو بھی اس جوڑی کے طریقہ کار پر اعتراض تھا  ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بغاوت کیا رنگ لاتی ہے ۔ اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ پارٹی سینئر لیڈروں اور مودی امیت جوڑی میں تقسیم ہوجائے ۔

مشہور سینئر صحافی ارون شوری نے اپنا ذاتی مشاہدہ بیان کرتے ہوئے ٹی وی پروگرام میں کہا تھا کہ بی جے پی پارٹی کے کئی ارکان پارلیمان نے ان سے (شوری) سے وزیراعظم کی خودسری کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ’’مسٹر مودی جب بھی پارلیمان میں داخل ہوتے ہیں وہ نہ تو ارکان پارلیمنٹ کو سلام کرتے ہیں اور نہ ڈھنگ سے اس کا جواب دیتے ہیں ۔ پرغرور انداز میں وہ سینہ تانے اپنی نشست پر بیٹھ جاتے ہیں ۔ ارون شوری خود بی جے پی رکن ہیں وہ سابقہ بی جے پی حکومت میں مرکزی وزیر بھی رہ چکے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ارکان پارلیمان میں جو فی الوقت ناراضگی پائی جاتی ہے وہ بہت جلد ’’بغاوت‘‘ میں تبدیل ہوسکتی ہے ۔ یہ بات اس لئے بھی قرین قیاس ہے کہ جن پارٹی لیڈروں کو بہار کی انتخابی مہم کے لئے روانگی کا حکم دیا گیا تھا ان کو یہ شکایت بھی مودی اور امیت شاہ صدر بی جے پی سے تھی کہ ’’انھیں یہ تک نہیں معلوم تھا کہ بہار میں رہ کر انھیں کیا کرنا چاہئے‘‘ اور تو اور انھیں یہ شکایت بھی تھی کہ ’’اچھا کھانا تک مہیا نہیں کیا جارہا ہے‘‘ یہ چند واضح علامتیں ہیں کہ بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ میں ایک گروہ پیدا ہوگیا ہے جو قیادت اور اسکے طریقہ کار سے مطمئن نہیں ہے ۔

اس بات کا اندازہ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور فلم اسٹار شتروگھن سنہا کے رویے سے بھی لگایا جاسکتا ہے ۔ نتائج کے دوسرے ہی دن شتروگھن نے نتیس کمار اور لالو پرساد یادو سے ملاقات کی اور گرمجوشی سے بغل گیر بھی ہوئے ۔ اسکے علاوہ انھوں نے نتیش کمار کو بہار کی ریاست کے لئے اچھا چیف منسٹر بھی قرار دیا ۔ جبکہ مودی ساری مہم کے دوران صرف نتیش کمار کی عیب جوئی میں مصروف رہے ۔ بی جے پی دراصل اعلی ذاتوں پر مشتمل پارٹی ہے اور مودی کا تعلق اعلیح ذات سے نہیں ہے ۔ وہ پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس کے باوجود بہار میں وہ پارٹی کو پسماندہ طبقات کے ووٹ نہ دلاسکے جبکہ بہار میں پسماندہ طبقات کی تعداد قابل لحاظ ہے ۔ بہار کے بعض علاقوں میں تو ساری آبادی ان ہی طبقات کی ہے ۔ لیکن مودی اپنی پارٹی کو یہ ووٹ دلا نہ سکے ۔ بی جے پی کی ہار کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عظیم اتحاد میں شامل تینوں پارٹیاں جے ڈی یو ، آر جے ڈی اور کانگریس نے نہ صرف کمزور طبقات کے ووٹوں کی بھاری تعداد میں حاصل کیا بلکہ مسلم اقلیت کے ووٹ بھی ان ہی جماعتوں کو حاصل رہے ۔ تینوں پارٹیوں نے یہ کامیاب کوشش بھی کی کہ ان کے اپنے ووٹ اتحادی امیدواروں کو ملیں ۔ ان پارٹیوں نے کامیابی کے ساتھ اپنا اپنا ووٹ بینک مستحکم رکھا اور اپنے حلیف پارٹی کے امیدواروں کی بھی ووٹ دلا کر مدد کی ۔ اس کا اعتراف بی جے پی کے سینئر لیڈر اور مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے بھی اپنے انٹرویو میں کیا ہے اور یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ بی جے پی کا یہ اندازہ غلط تھا کہ اتحادی پارٹیوں کے ووٹ تقسیم ہوجائیں گے ۔ کمزور پسماندہ طبقات کے بی جے پی کو ووٹ نہ دینے کا دوسرا بڑا سبب یہ ہے کہ رائے دہی سے کچھ ہی دن پہلے آر ایس ایس کے چیف نے جو اس وقت بی جے پی کے سیاسی مرشد بنے ہوئے ہیں کہا تھا کہ ’’پسماندہ طبقات کو دئے گئے تحفظات کے مسئلہ پر از سر نو غور کیا جانا چاہئے ۔ ان کے اس بہانہ کو نتیش کمار اور لالو پرساد یادو نے خوب استعمال کیا ۔

لیکن بی جے پی کی بدبختی ہے کہ پارٹی کے صدر امیت شاہ آر ایس ایس چیف بھاگوت کے اس انتہائی متنازعہ بیان کو شکست کا سبب نہیں مان رہے ہیں ۔ بی جے پی کی لیڈروں کی غیر دانشمندانہ بیان بازیاں جو بالکلیہ طور پر غیر شائستہ بھی تھیں شکست کی دوسری بڑی وجہ ہے ۔ جس پر نہ الیکشن کے دوران نہ شکست کے بعد ابھی تک نریندر مودی نے کچھ کہا ہے ۔ ان عناصر کی بیان بازی کو وہ (مودی) غلط نہیں سمجھتے حالانکہ انھیں ان کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑا ۔ لیکن مودی اینڈ کمپنی کی شرست میں ان کے سیاسی ڈی این اے میں دل آزار ، غیر مہذب اور خلاف دستور بیان بازی کا عنصر بھی شامل ہے ۔ اس ہار کو تسلیم کرنے کے بجائے یا اس سے سبق حاصل کرنے کے بجائے ڈھٹائی سے بی جے پی لیڈر اس کو محض ایک اتفاق سمجھ رہے ہیں اور مختلف تاویلات کرنے میں مصروف ہے ۔ بی جے پی کی شکست جہاں پر بھی ہوئی بہت شرمناک رہی ۔ بہار سے پہلے دہلی کے اسمبلی انتخابات میں تو ایک طرح سے دہلی کی حکمران عام آدمی پارٹی نے بی جے پی کو اٹھنے نہ دیا ۔ 70 کے منجملہ 67 نشستوں پر عام آدمی پارٹی نے کامیابی حاصل کی ۔ دوسری شرمناک ہار کی مثال بہار اسمبلی انتخابات سے ملتی ہے ۔ عظیم اتحاد نے دو تہائی اکثریت حاصل کرکے بی جے پی کو منہ توڑ جواب دیا ہیکہ وہ ان مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتی جن کو بی جے پی اہم اور ناگزیر سمجھتی ہے ۔ نہ تو یکساں سیوڈ کوڈ ، نہ دفعہ 370 ، نہ گائے کے ذبیحہ سے انھیں کچھ سروکار ہے ، نہ ایسی بے محل باتوں سے انکا ووٹ حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ شروگھن سنہا کے علاوہ بی جے پی کے دیگر لیڈر بھی پارٹی کے طریقہ کار پر سخت اعتراض کررہے ہیں ۔ پارٹی کے ایک لیڈر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ بی جے پی کو آر ایس ایس کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی نہیں بننا چاہئے۔ بیشتر لیڈر نے کہا کہ آر ایس ایس کے چیف کے بیان نے پارٹی کو کمزور طبقات کے ووٹس سے محروم کردیا ۔ پارٹی کے تجربہ کار لیڈروں کا کہنا ہے کہ اب پارٹی کو آر ایس ایس سے محفوظ فاصلہ رکھنا چاہئے لیکن ایسے کوئی آثار نہیں دکھائی دے رہے ہیں کہ بی جے پی ان نتائج سے کوئی سبق سیکھے گی کیونکہ اب بھی پارٹی ارکان کی غالب اکثریت کا رویہ ، وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے کے مصداق ہے ، کوئی تبدیلی ان کے انداز فکر میں نہیں ہوئی جس کی بھاری قیمت پارٹی کو مختلف ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں چکانی پڑے گی  ۔

TOPPOPULARRECENT