Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / بہار میں مسلم ۔ یادو ووٹ بینک کی تقسیم ، این ڈی اے کا مشاہدہ

بہار میں مسلم ۔ یادو ووٹ بینک کی تقسیم ، این ڈی اے کا مشاہدہ

این ڈی اے کی ایماء پر مجلس کے انتخابی میدان میں اُترنے کی تردید، مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان کا بیان

نئی دہلی 23 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) جے ڈی (یو) ، آر جے ڈی اور کانگریس کے عظیم اتحاد سے بہار میں سخت مقابلہ میں مصروف این ڈی اے نے اپنا مشاہدہ بیان کیا ہے کہ بہار میں مسلم ۔ یادو اتحاد پر مبنی ووٹ بینک تقسیم ہوگیا ہے کیوں کہ وزیراعظم نریندر مودی نے بہار کے نوجوانوں سے اپیل کرتے ہوئے ترقیاتی پروگراموں پر انحصار کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان جو این ڈی اے کی حلیف پارٹی ایل جے پی کے صدر ہیں، اعتماد رکھتے ہیں کہ اِس بار بہار کی سیاست میں تبدیلی آئے گی۔ انھوں نے نتیش کمار اور اروند کجریوال کے اتحاد کے بہار انتخابات پر اثر انداز ہونے کی قیاس آرائی کو غلط قرار دیا ہے۔ پاسوان نے کہاکہ چیف منسٹر بہار کوشش کررہے ہیں کہ آر جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد یادو اور عام آدمی پارٹی کے قائد سے اتحاد کرکے اور کجریوال کی نوجوانوں سے اپیل کہ وہ دہلی سے آگے نہ جائیں، سمجھتے ہیں کہ وہ ایک بار پھر برسر اقتدار آجائیں گے۔

ایک انٹرویو کے دوران پاسوان نے مفروضہ ووٹ بینک کے نظریہ پر جوابی وار کرتے ہوئے کہاکہ قبل ازیں مسلم ۔ یادو ووٹ بینک لالو پرساد اور نتیش کمار کی اپیل پر انتہائی پسماندہ ذاتیں ان کی تائید پر آمادہ ہوگئی تھیں۔ مرکزی وزیر نے پوری شدت سے اپوزیشن کے اس الزام کو مسترد کردیا کہ کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی بہار کے انتخابی میدان میں این ڈی اے کی ایماء پر اتر رہے ہیں۔ انھوں نے ادعا کیاکہ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ درحقیقت مسلم ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور حریفوں کی مسلم ۔ یادو اتحاد جوں کا توں برقرار رکھنے کی کوشش کو ناکام بنادینا چاہتے ہیں۔ اسدالدین اویسی نے اعلان کیا ہے کہ اُن کی پارٹی بہار اسمبلی انتخابات میں 25 نشستوں پر مقابلہ کرے گی۔ مسلم ۔ یادو اتحاد اس بار ٹوٹ جائے گا۔ یادو لالو پرساد کے سوائے کسی کو بھی جوش و خروش کے ساتھ ووٹ نہیں دیں گے۔

بی جے پی بھی یادو قائدین جیسے رام کرپال یادو اور نند کشور یادو رکھتی ہے، کئی یادو ایسے ہیں جن کے ووٹوں کی قابل لحاظ تعداد بی جے پی کی تائید کرے گی۔ مرکزی وزیر نے کہاکہ گزشتہ 15 سال کے لالو پرساد کے دور اقتدار اور 10 سال کے نتیش کمار دور اقتدار میں مسلمانوں کے لئے کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ اس پس منظر میں اویسی سیمانچل کے علاقہ میں پرہجوم عام جلسوں سے خطاب کررہے ہیں۔ ان پروگراموں میں ہجوم کی شرکت اس بات کی نشاندہی ہے کہ مسلمان لالو پرساد اور نتیش کمار سے مایوس ہوچکے ہیں، اس سے ہمیں مدد ملے گی۔ بی جے پی پر اپوزیشن کے اس الزام پر کہ این ڈی اے کی ایماء پر مجلس انتخابی میدان میں اتری ہے تاکہ مسلمانوں اور یادو برادری کے اتحاد کو توڑ سکے۔ انھوں نے کہاکہ یہ بکواس ہے۔ یہ بی جے پی اور این ڈی اے ہی ہیں جنھوں نے اس کی مخالفت کی ہے اور مستقل طور پر اویسی کی سخت تنقید کا نشانہ بنی رہی ہے۔ انھوں نے چیف منسٹر بہار کی بہار سے نقل مقام کرکے دہلی میں مقیم بہاریوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی مذاق اُڑاتے ہوئے پاسوان نے کہاکہ یہ لوگ کیوں بہار چھوڑ کر گئے، اس کی وجہ نتیش کمار اور لالو پرساد کی گزشتہ 25 سال کے دوران غلط پالیسیاں تھیں، کیا وہ دوبارہ ان کی تائید کرسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT