Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / بہار میں پسماندگی کے ذمہ دارجنگل راج کی دوبارہ واپسی کے خلاف انتباہ

بہار میں پسماندگی کے ذمہ دارجنگل راج کی دوبارہ واپسی کے خلاف انتباہ

نتیش کمار اور لالو پرساد کا اتحاد سیاسی موقع پرستی‘ زہر پینے والے انتخابات کے بعد عوام پر زہر اگلیں گے ‘ گیا میں جلسہ عام سے وزیراعظم مودی کا خطاب

گیا۔9اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم نریندر مودی بہار میں ’’ سیاسی موقع پرستی پر مبنی ‘‘ جے ڈی ( یو)  ۔ آر جے ڈی اتحاد کو آج اپنی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور دوران خطاب کئی مرتبہ ’’ جنگل راج ‘‘ کا تذکرہ کیا ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس ( نتیش ۔ لالو) اتحاد کو ووٹ دے کر برسراقتدار لائے جانے کی صورت میں جنگل راج دوبارہ واپس آئے گا ۔ مودی نے اس عہد کا اظہار کیا کہ بی جے پی کے زیر قیادت این ڈی اے اتحاد کو برسراقتدار لانے کی صورت میں اس پسماندگی کی شکار ریاست بہار پر لگے ہوئے ’’ بیمار ریاست ‘‘ کے لیبل کو اندرون پانچ سال مٹا دیا جائے گا ۔ لیکن مودی نے بہار کیلئے متوقع پیکیج کا اعلان نہیں کیا جس کا انہوں نے وعدہ کیا تھا ۔ وزیراعظم مودی نے جو اکٹوبر ۔ نومبر کے دوران اسمبلی انتخابات کا سامنا کرنے والی ریاست بہار میں گذشتہ 15دن کے دوران آج دوسرے بڑے جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو یہ موقع دینا چاہتے ہیں کہ وہ خود کو حکومت کی بڑھتی ہوئی ہٹ دھرمی سے آزاد کروائیں ۔ لالو۔ رابڑی حکمرانی کے دوران مبینہ غلط حکمرانی کے تذکرہ کے طورپر استعمال کی جانے والی اصطلاح ’’ جنگل راج ‘‘ کا مودی نے اپنے 40منٹ کے خطاب میں کئی مرتبہ حوالہ دیا

اور انتخابات میں اس ( جنگل راج) کی واپسی کے خلاف عوام کو خبردار کیا ۔ انہوں نے جے ڈی (یو) ۔ آر جے ڈی اتحاد کے درمیان پائے جانے والے تضادات کا تذکرہ بھی کیا ۔ ضلع گیا میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ’’ جنگل راج پارٹ II‘ اقتدار پر واپس آیا تو ہر چیز تباہ ہوجائے گی ۔ جنگل راج پارٹ Iکے دوران جیل کا کوئی تجربہ نہ تھا جو اب ہوا ہے ۔جیل جاکر کوئی بھی اچھی باتیں نہیں سیکھتا ‘‘۔نریندر مودی دراصل آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد کا تذکرہ کررہے تھے‘ مبینہ جنہیں چارہ اسکام کے سبب جیل جانا پڑا تھا ۔ انہوں نے جے ڈی ( یو) اور آر جے ڈی اتحاد کو سیاسی موقع پرستی پر مبنی قرار دیا اور سوال کیا کہ ’’ آیا انتخابات کے بعد بھی یہ اتحاد برقرار رہے گا ؟  جو لوگ زہر پی رہے ہیں کیاوہ انتخابات کے بعد یہ زہر اگلیں گے ؟ ۔ یہ زہر کہاں پڑے گا؟ یہ آگے تو عوام کی رکابی میں گرپڑے گا ‘ کیا آپ انہیں ایسا کرنے کی اجازت دیں گے ؟ ‘‘ ۔  مودی نے مزید کہا کہ ’’ میں نہیں جانتا کہ بہار میں کون ’بھجنگ‘ پرساد ہے اور کون چندن ( صندل) کمار ہے ۔ زہر کون پلارہا ہے اورکون پی رہا ہے ۔ بہرحال جب الیکشن ہوجائیں گے ‘ بہار میں مجموعی طور پر زہر آلود ماحول پیدا ہوگا ‘‘ ۔ واضح رہے کہ سیکولر محاذ کی جانب سے نتیش کمار کو چیف منسٹر کے عہدہ کا امیدوار مقرر کئے جانے کے بعد لالو پرساد نے کہا تھا کہ فرقہ پرستوں کو شکست دینے کیلئے وہ زہر پینے کیلئے بھی تیار ہیں ۔ ان کے اس ریمارکس سے سیکولر اتحاد میں بے چینی پیدا ہوگئی تھی ۔

بعد ازاں لالو کی ساجھیداری کے ساتھ مخلوط حکومت کی قیادت میں ریاست کی ترقی سے متعلق ٹوئیٹر پر عوامی سوالات کے جواب میں نتیش کمار نے صوفی شاعر رحیم کے ایک روپئے کا حوالہ دیتیہ وئے سب کو الجھن میں ڈال دیا تھا ۔ رحیم کے روپئے کا خلاصہ تھا کہ ’’ زہریلی سانپوں کے لپٹ جانے سے صندل کا درخت زہرآلود نہیں ہوتا ‘‘ ۔ ان کے ریمارکس سے یہ تاثر لیا گیا تھا کہ سانپ کا حوالہ دراصل لالو کی طرف اشارہ تھا ۔ وزیراعظم مودی کے گیا میں منعقدہ آج کے جلسہ عام میں ریاست میں این ڈی اے کی متحدہ تصویر پیش کرتے ہوئے بی جے پی کی حلیف دیگر جماعتوں کے قائدین رام ولاس پاسوان ( ایل جے پی ) ‘ اوپیندر سنگھ کشواہا  (لوک تما پارٹی ) ‘ سابق چیف منسٹر جتن رام مانجھی ( ہندوستانی عوام مورچہ ) بھی شہ نشین پر موجود تھے ۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ ‘ ریاستی بی جے پی کے سینئر لیڈر سشیل مودی اور دوسروں نے بھی جلسہ سے خطاب کیا ۔

TOPPOPULARRECENT