Wednesday , September 20 2017
Home / مضامین / بہار میں ہندوستانی تہذیب کی جیت

بہار میں ہندوستانی تہذیب کی جیت

ظفر آغا
بہار پچھلے ہفتے ہندوستان کی امیدوں کا آئینہ دار بن گیا ۔ ظاہر ہے کہ کوئی ایک صوبہ پورے ملک کی خواہشوں کی غمازی نہیں کرسکتا ۔ لیکن پچھلے ہفتے بہار میں یہ ناممکن ، ممکن ہوگیا ۔ کیونکہ بہار الیکشن کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں جو کربناک واقعات پیش آئے اس سے ہندوستان کی روح بے چین ہواٹھی ۔ ہندوستان ، دادری اور کرناٹک میں ہونے والی مذہبی انتہا پسندی برداشت نہیں کرسکا ،کیونکہ دادری میں جس طرح اخلاق نام کے شخص کو اس کے گھر میں اس بات پر کہ وہ گائے کا گوشت کھارہا تھا ، مارا گیا ، یہ اس ملک کا مزاج نہیں تھا ۔ یا پھر کرناٹک میں جس طرح کلبرگی نام کے ایک اسکالر کو اس کے گھر کے اندر گولی ماری گئی کیونکہ وہ اندھے عقیدے کا مخالف تھا ۔ اس بات سے بھی ہندوستان کی گردن شرم سے جھک گئی ۔ تب ہی تو اس ملک کے آرٹسٹ ، سائنٹسٹ ، محقق ، عالم ، شاعر و ادیب سڑکوں پر نکل پڑے ۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ بڑی بڑی نامور ہستیوں نے حکومت کو اپنے انعام واپس کردیئے ۔ اس عمل کے پیچھے یہ فکر تھی کہ جب ہندوستان ہی نہیں بچے گا تو پھر کس بات کا انعام اور کس کام کا اعزاز؟
الغرض جس طرح دادری کے واقعہ کے بعد ملک کے دانشوروں نے بے چین ہو کر احتجاج کیا وہ اس بات کی غمازی کررہا تھا کہ ملک میں جس طرح کی سفاک اور Intolerant سیاست کا دور شروع ہوگیا تھا وہ اس ملک کے ضمیر کے خلاف ہے ۔ آج ہر ملک کی ایک تہذیب و تمدن ہوتی ہے جو کسی ملک و قوم کی قدروں کو جنم دیتا ہے ۔ ہندوستانی تہذیب کا بنیادی عنصر رواداری (Tolerance)  ہے ۔ دادری میں محض اخلاق کا قتل نہیں ہوا تھا ، جس بے رحمی اور بے دردی سے گھر میں گھس کر اخلاق کو مارا گیا تھا اس سے ہندوستانی رواداری اور ہندوستانی تہذیب کا بھی قتل ہوا تھا  ۔اور یہ بات ہندوستان نہیں برداشت کرسکا ۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ دانشور ، سڑکوں پر نکل پڑے  ۔ اور بس سارے ہندوستان کی نگاہیں بہار کے چناؤ پر مرکوز ہوگئیں ۔ اس طرح بہار کا چناؤ نہیں بلکہ ہندوستانی تہذیب پر ایک ریفرنڈم بن گیا۔ بہار کے چناؤ میں محض یہ سوال نہیں رہ گیا تھا کہ کون سی پارٹی اگلی حکومت بناتی ہے بلکہ بہار کے چناؤ میں بنیادی سوال یہ تھا کہ یہ ملک کیسا ہندوستان چاہتا ہے ۔ آیا ایک ایسا ہندوستان جو دادری جیسا وحشی ہندوستان اپنے بچوں کو دے گا یا پھر ایسا ہندوستان جس میں ہندوستانی تہذیب کی بنیادی رواداری کی قدر پھولے پھلے گی ۔

آخر کار بہار نے جواب دے ہی دیا ۔ اور جواب بھی ایسا جس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں بچی ۔ بہار کا سیدھا اور دوٹوک جواب یہ ہے کہ ہم ہندوستانیوں کو اس ملک کی رواداری اور ملک کی گنگا جمنی تہذیب چاہئے  ۔بہار کے نتائج اس بات کا اعلان کررہے ہیں کہ اس ملک کو دادری نہیں چاہئے اور ایسا ہندوستان میں پہلی بار نہیں ہوا ہے ۔ جب جب دادری جیسے واقعہ نے اس ملک کی تہذیبی روح کو مجروح کیا ہے تب تب اس ملک نے وہی جواب دیا ہے جو جواب بہار نے پچھلے ہفتے چناوی نتائج کے ذریعہ دیا ۔ پچھلے بیس پچیس برس کے واقعات یاد کیجئے تو آپ کو بہار کی جھلک ماضی میں بھی نظر آجائے گی ۔ مثلاً 6 ڈسمبر 1992 کو جب بابری مسجد شہید ہوئی اور سارے ملک میں دادری جیسا وحشیانہ ننگا ناچ ہوا تو اس وقت بھی ہندوستان کی تہذیب زخمی ہوئے تھی ۔ اس واقعہ کے بعد پہلا چناؤ خود اسی اترپردیش میں 1993 میں ہوا جس میں بابری مسجد شہید کرنے والی پارٹی کو زبردست ہار کا سامنا کرنا پڑا ۔ پھر اسی طرح 2002  میں گجرات میں جس طرح مسلم نسل کشی کا واقعہ پیش آیا اس سے بھی ہندوستانی تہذیبی رواداری زخمی ہوئی ۔ لیکن اس کے بعد جب 2004 میں پارلیمانی چناؤ ہوا تو وہ جماعتیں جو گجرات فسادات کی ذمہ دار تھیں ان کو اسی ہندوستان نے اقتدار سے باہر کردیا اور اس طرح 2004 کے پارلیمانی چناؤ کی بھی وہی آواز تھی جو آواز ابھی بہار سے اٹھی ہے اور وہ صدا یہ ہے کہ ہم کو ہر شئے منظور ہے لیکن ہندوستانی تہذیبی رواداری پر کوئی آنچ منظور نہیں ہے ۔ اگر کوئی دادری کرواکر ، بابری مسجد گراکر یا پھر گجرات جیسی نسل کشی کرواکر ملک کو ترقی دینا چاہتا ہے تو اس ملک کو ایسی ترقی بھی منظور نہیں ہے کیونکہ جب ملک دادری جیسے قاتلوں کے ہاتھوں میں ہوگا تو پھر کاہے کی ترقی اور کس بات کا development !

سچ تو یہ ہے کہ ہندوستانی عوام نے اس ملک کی بنیادی رواداری کا دامن 2014 کے پارلیمانی چناؤ میں بھی نہیں چھوڑا تھا ۔ اگر آپ 2014 کے نتائج پر باریکی سے نگاہ ڈالیں تو ہندوستانی عوام کی سیکولرازم یعنی روادارانہ مزاج کی جھلک صاف نظر آجائے گی ۔ کیونکہ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں بی جے پی کو محض 31 فیصد ووٹ ملے تھے جبکہ وہ پارٹیاں جو سیکولرازم یعنی روادار ہندوستان کے نام پر چناؤ لڑرہی تھیں ان کو کل ملا کر 69 فیصد ووٹ ملے ۔ یعنی ہندوستان کی کثیر اکثریت اس وقت بھی فرقہ پرستی کے خلاف اور رواداری اور سیکولرازم کے ساتھ تھی ۔ اس وقت غلطی محض اتنی ہوئی کہ سیکولر پارٹیوں کا ووٹ آپس میں بٹ گیا جس کے نتیجے میں بی جے پی کامیاب ہوگئی اور میڈیا نے اس جیت کو اتنی بڑی جیت کی شکل میں پیش کیا کہ لوگ سہم گئے ۔ پھرنوبت یہ آئی کہ معاملات دادری تک پہنچے ۔ بس پھر ہندوستان چیخ اٹھا اور بہار سے جو صدا اٹھی وہ باآواز بلند یہ اعلان کررہی تھی کہ اگر ہندوستانی گنگا جمنی تہذیب اور ہندوستانی روداری سے کھلواڑ کیا تو ہم بہار ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان سے تم کو اکھاڑ پھینکیں گے اور یہ عمل بہار سے شروع ہوچکا ہے ۔
خالص سیاسی نقطہ نگاہ سے اب ایک بات طے ہوگئی ہے اور وہ بات یہ ہے کہ ہندوستان کی بڑی سیکولر سیاسی جماعتوں کو یہ سمجھ میں آچکا ہے کہ نہ صرف ہندوستان بلکہ خود انکی اپنی بقا بھی اس بات میں ہے کہ وہ اس ملک میں ہونے والے آئندہ تمام اسمبلی اور پارلیمانی چناؤ بہار کی طرح ایک متحدہ مورچے کی شکل میں لڑیں ۔ بہار محض ایک چناؤ نہیں تھا بلکہ بہار ایک سیاسی راستہ تھا جس پر چل کر سیکولر  جماعتوں نے اپنی جیت کا راز تلاش کرلیا ہے اور یہ جماعتیں اب اس راستے کو چھوڑنے والی نہیں ہیں ۔ یعنی اب ہر چناؤ میں ملک کا 69 فیصد سیکولر ووٹر 31 فیصد غیر سیکولر ووٹر کے خلاف ووٹ دے گا ۔ ظاہر ہے اس مقابلے میں جیت 69 فیصد والے کی ہوگی ۔ بہار کے چناوی نتائج کا سماجی اور تہذیبی اعلان یہ ہے کہ یہ ملک دادری جیسا واقعہ نہیں برداشت کرے گا ۔ اگر پھر دادری جیسا واقعہ ہوتا ہے تو لوگ ویسے ہی سڑکوں پر نکلیں گے جیسے دادری واقعہ کے بعد نکلے تھے ۔ اور ہر چناؤ میں وہی کریں گے جو انہوں نے بہار میں کیا ۔ سماجی سطح پر بہار اس بات کی بھی غمازی کرتا ہے کہ ہندوستانی رواداری کی روایت کا تحفظ اس ملک کا ہندو اور مسلمان مل کر کرے گا ۔
اب سارے ملک کے مسلمانوں کو بہار کے چناؤ سے بہار کے مسلمانوں کی طرح یہ سبق حاصل کرنا ہوگا کہ رواداری کے خلاف جنگ میں اگر انہوں نے اپنی الگ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی جیسا کہ مجلس اتحاد المسلمین نے بہار میں کرنے کی کوشش کی تھی تو اسکا فائدہ صرف فرقہ پرستوں کو ہوگا ۔ ہندوستان اس وقت محض ایک سیاسی جنگ ہی نہیں بلکہ ایک تہذیبی جنگ سے دوچار ہے ۔ اس جنگ کو ہندو ۔ مسلم رواداری کے ساتھ مل کر ہی جیت سکتے ہیں ۔ بہار اس بات کا اعلان ہے کہ یہ ممکن ہے ۔ تو بس آیئے ہندو مسلمان سب مل کر ہندوستان کی تہذیبی رواداری کی روایت کو بچانے کی مہم شروع کریں تاکہ اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب برقرار رہے جس کی شروعات بہار سے ہوچکی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT